بائیڈن کی حلف برداری سے قبل امریکہ میں سخت حفاظتی اقدامات

وائس آف امریکہ اردو  |  Jan 17, 2021

ویب ڈیسک — 

کانگریس کی عمارت (کیپٹل ہل) پر چھ جنوری کو ہونے والے حملے کے بعد اور نئے صدر کی حلف برداری پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نطر واشنگٹن ڈی سی سمیت ملک بھر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

امریکی تفتیشی ادارے 'ایف بی آئی' نے محکمہ پولیس کو مطلع کیا ہے کہ نئے صدر کی حلف برداری تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر مظاہرے متوقع ہیں۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ تمام امریکی ریاستوں نے بھی اپنے دارالخلافوں میں ریاست کی سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ڈی سی میں نیشنل گارڈ کی بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر چڑھائی جیسا کوئی اور واقعہ رو نما نہ ہو پائے۔

جمعے کو پولیس نے واشنگٹن ڈی سی سے ملحقہ ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ایک مسلح شخص کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ کیپٹل پولیس کی ایک چیک پوائنٹ سے گزرنے کی کوشش کررہا تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شخص کے پاس صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے جعلی کاغذات تھے۔ اس کے پاس ایک گولیوں سے بھری پستول کے علاوہ پانچ سو سے زائد راؤنڈز بھی برآمد ہوئے۔ اس شخص کو پانچ الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈی سی کے علاوہ ورجینیا، مشی گن، وسکونسن، پینسلوینیا اور واشنگٹن ریاستوں نے نیشنل گارڈز کے دستوں کو حفاظتی اقدامات کو سخت کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔

ریاست ٹیکساس میں ریاستی کانگرس کی عمارت کو 20 جنوری کی حلف برداری تک بند کر دیا گیا ہے۔

Direct link240p | 15.4MB360p | 22.3MB480p | 34.1MB720p | 95.7MB1080p | 127.6MBکیپٹل ہل پر حملے میں ایک درجن سے زائد گروپ ملوث تھے: تحقیق

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی میں ایک درجن سے زائد انتہا پسند گروپ ملوث تھے۔

ان میں سازشی نظریے کا گروہ (QAnon)، دائیں بازو کا ایک اور گروپ پراؤڈ بوائز، سفید فام لوگوں کی برتری پر یقین رکھنے والے گروپ، چہرے پر ماسک پہننے کے مخالف گروپ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پکے حامی بھی شامل تھے۔

شہریوں کے حقوق کی علم بردار تنظیم 'ساؤدرن پاورٹی لا سینٹر' نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان گروپوں کے نمائندے کانگرس کی طرف سے جو بائیڈن کی انتخابات میں فتح کی توثیق کے دوران مظاہروں میں شامل ہوئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More