خشوگی سے متعلق امریکی رپورٹ، محمد بن سلمان کو ذمے دار قرار دیے جانے کا امکان

وائس آف امریکہ اردو  |  Feb 25, 2021

ویب ڈیسک — 

سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی امریکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے جمعرات کو تفصیلی رپورٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ پیش رفت سے آگاہ چار امریکی عہدے داروں کے مطابق رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خشوگی کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (سی آئی اے) نے یہ رپورٹ مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

پیش رفت سے آگاہ چار امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے جمال خشوگی کے قتل کی منظوری دی تھی۔

یاد رہے کہ جمال خشوگی امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' میں کالم لکھتے تھے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ اُنہوں نے یہ رپورٹ پڑھی ہے اور وہ اس بابت سعودی عرب کے بادشاہ سلمان سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز، 35 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان کے والد ہیں جنہیں سعودی عرب کا ڈی فیکٹو حکمران سمجھا جاتا ہے۔

جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ صدر بائیڈن کی اُن پالیسیوں کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور یمن کی خانہ جنگی میں اس کے کردار کا ازسر نو جائزہ لینا ہے۔

بائیڈن، ریاض کے ساتھ تعلقات کو روایتی خطوط پر استوار کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد ٹرمپ دور میں سعودی عرب کے معاملات سے مبینہ طور پر صرفِ نظر برتنے کی پالیسی کو تبدیل کرنا ہے۔

خشوگی اپنی شادی کے سلسلے میں بعض دستاویزات کے حصول کے لیے سعودی قونصل خانے گئے تھے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جمال خشوگی کے قتل کا حکم دینے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

البتہ، ریاض نے آخر کار یہ تسلیم کر لیا تھا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے ضمن میں کیے گئے ایک آپریشن کے دوران غلطی سے جمال خشوگی کی ہلاکت ہو گئی تھی۔

بعدازاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی جولائی 2019 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ خشوگی کی ہلاکت کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہیں۔

خشوگی کی ہلاکت میں ملوث پانچ اہلکاروں کو ابتداً سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم خشوگی کے اہلِ خانہ کی جانب سے معافی کے بعد اُن کی سزائیں 20 سال قید میں تبدیل کر دی گئی تھیں۔

جمال خشوگی کی ہلاکت کے بعد اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کی تفتیش کار ڈاکٹر انیاس کلمارڈ نے سعودی حکومت پر منظم منصوبہ بندی کے تحت جمال خشوگی کو قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی جامع تحقیقات پر زور دیا تھا۔

اس رپورٹ کا ایک حصہ 2018 کے آخر میں امریکی کانگریس میں بھی پیش کیا گیا تھا۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے قانون سازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مکمل رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ رد کر دیا تھا۔

ناقدین کے بقول ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے معاہدے کو بچانا اور ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بہتر رکھنا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More