سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہونگے یا خفیہ بیلٹ سے پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کی رائے پر لگ گئیں

روزنامہ اوصاف  |  Feb 26, 2021

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)صدر مملکت نے سینیٹ انتخابات پر خفیہ رائے شماری کے آرٹیکل 226 کا اطلاق ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر مبنی ریفرنس 23 دسمبر 2020 کو سپریم کورٹ میں دائر کیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے 4 جنوری کو کیس کی پہلی سماعت کی اور صدارتی ریفرنس پر کل 20 سماعتیں ہوئیں، عدالت نے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے 25 جنوری کومحفوظ کی۔پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان کی صوبائی حکومتوں، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے اوپن بیلٹ کی حمایت کی جبکہ سندھ حکومت نے مخالفت کی۔اسی دوران حکومت نے 6 فروری کو وفاقی کابینہ سے الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 کی منظوری لے لی عدالت نے پیپلز پارٹی، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سمیت وکلاء تنظیموں کا مؤقف بھی سنا۔چیف الیکشن کمشنر کا ایک ہی مؤقف رہا کہ اگر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے ہیں تو آئین میں ترمیم کروا لی جائےچیف جسٹس نے 24 جنوری کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ ووٹنگ کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا ہے، کتنی رازداری ہونی چا ہیے، یہ فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، اگر آئین کہتا ہے کہ خفیہ ووٹنگ ہو گی تو بات ختم، سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، ریاست کے ہر ادارے نے اپنا کام حدود میں رہ کر کرنا ہے۔اٹارنی جنرل نے آخری سماعت پر جواب الجواب میں کہا کہ عدالت جو بھی رائے دے گی حکومت اس پر عمل کرنے کی پابند ہو گی، ریفرنس پر نظرثانی درخواستیں نہیں آ سکتیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More