میڈن این ایف ایل: برطانوی کرکٹر لیام اوبرائن کے لیے توجہ بٹانے کے لیے ویڈیو گیم کھیلنا دوسری ملازمت بن گیا

بی بی سی اردو  |  Apr 08, 2021

لیام اوبرائن
BBC
لیام اوبرائن نے صرف 14 ماہ میں ہی خود کو میڈن این ایف ایل کے دنیا بھر سے 100 بہترین کھلاڑیوں میں شامل کر لیا ہے

بائیس برس کے لیام اوبرائن کو حال ہی میں آن لائن سپورٹس کمیونٹی سے وابستہ افراد میں بہت شہرت ملی ہے کیونکہ وہ امریکی فٹبال ویڈیو گیم ’میڈن این ایف ایل‘ میں برطانیہ کے بہترین کھلاڑی ہیں۔

لیام کہتے ہیں کہ ’یہ کتنی عجیب سی بات ہے۔ ہے نا؟ امریکی شاید یہ سوچتے ہوں گے کہ اس لڑکے (لیام) نے ساری زندگی یہ کھیل کھیلا ہے۔ سوچیں کہ اگر انھیں یہ پتا چلے کہ اس دبلے پتلے نوجوان (لیام) کرکٹر نے حال ہی میں کھیل کے قوانین سیکھے ہیں تو کیا ہو گا۔‘

لیام انگلینڈ کی معذوروں کی ٹیم میں آل راؤنڈر کے طور پر کھیلتے ہیں۔

لیام کے پاس کرسمس کی چھٹیوں میں کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ جم بند ہونے کی وجہ سے وہ سیزن سے پہلے شروع ہونے والی ٹریننگ بھی نہیں کر پائے۔

چنانچہ انھوں نے امریکی فٹبال ویڈیو گیم ’میڈن این ایف ایل‘ میں مہارت حاصل کرنے کی ٹھانی۔ اس گیم کا شمار پرانی ترین ویڈیو گیمز میں ہوتا ہے اور اس میں وقت کے ساتھ ساتھ جدت آئی ہے۔

آسٹریلیا میں کرکٹ کھیلتے ہوئے لیام نے یہ کھیل ٹی وی پر تھوڑا بہت دیکھا تھا لیکن ’ہیل میری، کلپنگ، پک سکس اور فرسٹ اینڈ ٹینز‘ جیسے جملے جو اس کھیل میں استعمال ہوتے ہیں اُن کے لیے پراسرار تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں گیمنگ: ٹوکن والی گیم سے ٹیکن تک کا سفر

ویڈیو گیمر: ’لوگوں کے پاس آئیڈیا تو ہے مگر ہنر نہیں ‘

’میرا بیٹا آن لائن گیمز سے جوئے کی لت کا شکار بنا‘

’سچ کہوں تو مجھے امریکی فٹبال سے نفرت تھی لیکن امریکہ میں ہونے والے میچز میں دن کو برطانیہ میں دیکھ سکتا تھا، تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اس کھیل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کروں۔‘

صرف 14 ماہ کے مختصر عرصے میں لیام برائن کی محنت رنگ لائی، لاک ڈاؤن کے دوران انھوں نے گھنٹوں اس کی مشق کی اور وہ برطانیہ میں اس کھیل کے نمبر ون اور دنیا کے سب سے بہترین سو کھلاڑیوں میں سے ایک بن گئے۔

’میں پانچ بجے کام ختم کرتا اور پھر پانچ سے چھ گھنٹے کھیلتا۔ پھر میں نے آن لائن جا کر پروفیشنل ٹورنامنٹس دیکھنے شروع کیے اور سوچا کہ میں بھی ایسے کھیل سکتا ہوں۔ میں نے ان ٹورنامنٹس میں کھیلنے والے بہت سے لڑکوں کو پہلے ہی ہرایا ہے۔‘

’میں نے میڈن کلاسک ٹورنامنٹ میں حصہ لیا جس میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کھلاڑی آتے ہیں۔ میں نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں اچھی کارکردگی دکھائی اور میں ایک اچھی انعامی رقم جیتنے سے صرف دو میچ ہی دور تھا۔ لاکھوں لوگ یہ ٹورنامنٹ دیکھتے ہیں۔‘

لیام کو ابھی بھی حیرت ہوتی ہے کہ کیسے ایک ایسی چیز جو کہ انھوں نے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے شروع کی اب ایک باقاعدہ پارٹ ٹائم کام میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ان ٹورنامنٹس سے ملنے والی رقم سے انھوں نے اپنی گاڑی خریدی ہے۔

لیکن آن لائن گیمنگ کی زندگی کی وجہ سے ان کے سونے جاگنے کے اوقات پر بھی اثر پڑا ہے۔

’امریکی ویسٹ کوسٹ پر ایک لڑکا ہے جس کے ساتھ میں کھیلتا ہوں۔ امریکی وقت کے مطابق وہ ہم سے نو گھنٹے پیچھے ہے۔ تو میں بعض اوقات اس سے صبح پانچ بجے کھیل رہا ہوتا ہوں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس ایک ایسا دن بھی آیا جب وہ کسی شخص کی الوداعی تقریب میں جا رہے تھے اور اس تقریب کے تھوڑی ہی دیر بعد ان کا آن لائن میچ تھا۔

’میں اس تقریب میں لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا تو سب مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ میں نے انھیں بتایا کہ مجھے پریکٹس کرنی ہے۔‘

لیام اوبرائن
Getty Images
بائلیٹرل ٹیلیپس کی تشخیص سے قبل وہ سسیکس کی ٹیم کا حصہ تھے

بہت سے لوگ جنھوں نے ویڈیو گیمز نہیں کھیلیں یا اس ماحول میں بڑے نہیں ہوئے، اس مصنوعی دنیا کو آسان سمجھتے ہیں۔ انھیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہاں کتنی تیزی سے سوچنا پڑتا ہے اور چالاکی دکھانی ہوتی ہے۔

اوبرائن اس نظریے کو سمجھتے ہیں۔ انھیں بائلیٹرل ٹیلیپس نام کی بیماری تھی جس پر اُنھوں نے قابو پایا اور اب وہ 75 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرواتے ہیں اور بین سٹوکس کے جیسی بیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔

’میں عموماً حقیقی زندگی کو پسند کرتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ عجیب ہے۔ میں ہمیشہ اپنے بھائیوں کے ساتھ میدان میں کرکٹ، فٹبال اور رگبی کھیلتا تھا۔ ہم باہر سے واپس آ کر تھوڑی دیر کمپیوٹر گیم کھیلتے، لیکن باہر جا کر کھیلنے کو ہمیشہ ترجیح دیتے۔‘

میڈن میں اوبرائن کو وہ جوش و خروش اور تکنیکی مہارت دکھانے کا موقع ملا جو کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انھیں نہیں مل رہا تھا۔

’میں اس کمیونٹی کا حصہ نہیں تھا اور نا ہی میرے دوست یہ گیم کھیلتے تھے۔ میں نے سب کچھ یوٹیوب سے سیکھا۔‘

لیام کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی کی وجہ کھلے ذہن کے ساتھ کھیلنا تھا۔

’میں عموماً ایسی چیزیں کرتا ہوں جو کہ امریکی فٹبال میں لوگ نہیں کرتے یا پھر انھیں اس طریقے سے کرتا ہوں جیسے انھیں عام طور پر کیا نہیں جاتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ میرے بھائی نے مجھ سے کہا کہ میڈن گیم میرے لیے شاید اچھی ثابت ہو۔ اگر آپ دھیان دے کر کھیلیں تو لوگوں کی دو غلطیوں سے آپ کھیل جیت سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فیفا ایک ایسا گیم ہے جس میں 20 منٹ تک آپ پچ پر آگے پیچے کھیلتے رہتے ہیں۔‘

’میں نے ایک مرتبہ جب اس کے قوانین سمجھ لیے تو میں ان لوگوں کو شکست دے رہا تھا جو کہ اس کھیل کے تقریباً پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔‘

تو نئے کھلاڑیوں کے لیے وہ کیا تجویز دیں گے؟

’کوشش کریں کہ آپ گیم کو مختلف طریقوں سے کھیل سکیں۔ کچھ لوگ ایک گیم صرف ایک انداز میں کھیلتے ہیں۔ تحقیق کریں۔ برق رفتاری سے نئے طریقے سیکھیں اور اُن لوگوں کو دیکھیں جن کا کھیل بہترین ہے۔‘

’میں اپنی بیٹنگ بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ بڑے کھلاڑیوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ وراٹ کوہلی اور جو روٹ۔ اسی طرح میں این ایف ایل (میڈن) کے بڑے کھلاڑیوں کو دیکھتا ہوں اور ان سے سیکھ کر اسے اپنے انداز میں ڈھالتا ہوں۔‘

لیام کا یوٹیوب چینل اب خاصہ مقبول ہے لیکن وہ اب بھی اپنی ملازمت چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ گالف ہالیڈیز فروخت کرتے ہیں۔ گالف ہالیڈیز ان لوگوں کے لیے ہوتی ہیں جو کہ اس کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں اور چھٹیوں پر ایسی جگہ جانا چاہتے ہیں جہاں وہ گالف بھی کھیل سکیں اور لطف اندوز بھی ہوں۔

لیام کہتے ہیں کہ وہ بے تابی سے دوبارہ کرکٹ کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ آخر میں انھوں نے انگلش کرکٹرز کو گیمنگ چیلنج بھی دیا۔

’مجھے نہیں پتا کہ وہ میڈن کھیلتے ہیں یا نہیں لیکن مجھے پتا ہے کہ ان میں سے کچھ یہاں ہونے والے این ایف ایل کے میچوں میں شرکت کرتے ہیں اور کال آف ڈیوٹی گیم بھی کھیلتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ فیفا بھی کھیل سکتا ہوں، حالانکہ یہ پہلی بار ہے کہ میں نے اس سال ریلیز ہونے والا ورژن نہیں خریدا کیونکہ میں بہت مصروف تھا۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More