بجٹ تک حکومت بجلی کے نرخوں میںمزید کتنے روپے فی یونٹ اضافہ کرنے والی ہے؟

روزنامہ اوصاف  |  Apr 09, 2021

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے آئندہ بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز بڑھا کر 12کھرب 72 ارب روپے (جی ڈی پی کے تقریباً 2.8 فیصد کے برابر) کرنے اور موجودہ مالی سال کے بقیہ 3 ماہ میں بجلی کے نرخ 4 روپے 97 پیسے فی یونٹ تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے جاری کردہ دستاویز کے مطابق حکومت نے ریگولیٹر نیپرا کی ترمیم شدہ طاقتوں کی خودکاریت کے ذریعے آئندہبرس بھی سالانہ، سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس برس بجٹ کے ہدف 4 کھرب 50 ارب روپے کے بجائے 5 کھرب 10 ارب روپے اکھٹے کرنے کے لیے تیل کی مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی میں زیادہ سے زیادہ سطح (30 روپے فی لیٹر) اور آئندہ برس بھی اس میں اضافہ جاری رکھے گی۔آئندہ برس کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 6 کھرب 7 ارب روپے ہے، صوبوں نے بھی وفاقی حکومت کو 5 کھرب 70 ارب روپے کا کیش سرپلس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جسے آئندہ برس بڑھا کر 7 کھرب 29 ارب روپے کردیاجائے گا۔اسی طرح آئندہ سال کے بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کا ہدف رواں سال کے 46 کھرب 91 ارب روپے سے بڑھا کر 59 کھرب 63 ارب روپے کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں 5 کھرب روپے اضافی ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس اور ذاتی آمدن ٹیکس کی اصلاحات کے ذریعے اکٹھا کیا جائے گا جو جی ڈی پی کے 1.1 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔معاہدے کے تحت حکومت موجودہ سال کے ترقیاتی پروگرام کے ہدف کو 13 کھرب 24 ارب روپے سے کم کر کے 11 کھرب 69 ارب روپے کرے گی۔حکومت نے گیس کے نرخوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ اور مستقبل میں کسی ٹیکس استثنیٰ یا ایمنسٹی پر غور نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کے تفصیلی آڈٹ کو بھی اپنے پروگرام کی شرائط کا حصہ بنایا ہے جس میں ٹھیکے اور نیلامی کے نتائج کی فائدہ مند ملکیت بشمول میڈیکل سپلائیز شامل ہیں۔آئی ایم ایف نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان نے فنڈز پروگرام کو بحال کرنے کے لیے کل پانچ پیشگی کارروائیاں مکمل کیں ہیں جن میں بجلی کے نرخوں میں 3 روپے 57 پیسے اضافہ اور پارلیمنٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیممی بل جمع کروانا شامل ہے۔ایک لائیو بریفنگ میں پاکستان کے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ارنیسٹو ریمائرز ریگو نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب مشکل معاشی صورتحال میں توانائی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر تھی کیوں کہ بڑھتا ہوا گردشی قرض سرکاری خزانے اور معاشی نمو پر بوجھ ہے۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ترھا کہ تعلیم اور صحت سمیت سماجی شعبے میں خرچ کے لیے جگہ بنانے کے لیے غیر ضروری اخراجات پر قابو کے ساتھ ساتھ ریونیو میں اضافی بھی ایک مشکل انتخاب تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ متعدد ٹیکس استثنیٰ کے خاتمے، بشمول جی ایس ٹی سیاسی معیشت کے ساتھ آسان نہیں تھا لیکن ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لیےضروری تھا۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More