بچوں کے لیے بھی فائزر ویکسین کی اجازت ملنے کا امکان

وائس آف امریکہ اردو  |  May 05, 2021

ویب ڈیسک — 

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ میں آئندہ ہفتے تک ملک میں خوراک اور ادویات کا ادارہ دی یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ،12 سے لے کر 15 سال کی عمر تک کے بچوں کے لئے، کرونا وائرس کے خلاف دوا ساز کمپنی فائزر کی بنائی ہوئی ویکسین لگانے کی اجازت دے دے گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، یہ بات، اس پیش رفت سے واقف ایک شخص اور مرکزی حکومت کیلئے کام کرنے والے ایک عہدیدار نے بتائی ہے۔ بہت سے بچوں کو آئندہ سال سکول شروع ہونے سے پہلے ویکسین لگا دی جائے۔

اس اعلان سے ایک ماہ پہلے، فائزر نے تحقیق کے بعد بتایا تھا کہ اس کی تیار کی گئی ویکسین بچوں کیلئے بھی موثر ہے۔ پہلے سے ہی اس ویکسین کو 16 سال زائد عمر کے افراد کو لگایا جا رہا ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مرکزی حکومت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایجنسی، ہنگامی صورت حال میں دواؤں کے استعمال کو وسعت دیتے ہوئے، آئندہ ہفتے تک بلکہ شاید اس سے بھی پہلے، فائزر کی دو خوراکوں کے استعمال کی اجازت دے گی۔

اس سارے عمل سے شناسائی رکھنے والے شخص نے تصدیق کی کہ توقع کی جا رہی ہے ایف ڈی اے موسم خزاں کے آغاز تک چھوٹے بچوں میں بھی فائزر کے استعمال کی اجازت دے دے گا۔

ایف ڈی اے کی اجازت کے بعد، ویکسین سے متعلق مرکزی حکومت کی مشاورتی کمیٹی اپنے اجلاس میں غور کرے گی کہ کیا اس ویکسین کو 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو لگانے کی سفارش کی جائے؟ اس کے بعد سنٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، کمیٹی کی دی گئی سفارش کی منظوری دے گی، تب جا کر ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ تاہم یہ سارا عمل چند دنوں میں بھی مکمل ہو سکتا ہے۔

سب سے پہلے، اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایف ڈی اے کی جانب سے اجازت دئے جانے کے بارے میں خبر دی تھی۔

فائزر نے ، امریکہ میں 12 سے 14 سال کے 2،260 بچوں کو آزمائشی طور پر ویکسین لگائی اور اپنی تحقیق کے ابتدائی نتائج مارچ کے اواخر میں جاری کئے تھے۔ نتائج سے ظاہر ہوا تھا کہ ویکسین لگوانے والے بچوں میں کووڈ 19 کے مریض نہیں پائے گئے۔

دوا ساز کمپنی کا کہنا تھا کہ بچوں میں بھی وہی سائڈ افیکٹس پائے گئے جو بالغ افراد میں نظر آئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More