روسی اپوزیشن لیڈر نیولنی کی ٹیم اب سڑکوں پر مظاہرے نہیں کرے گی

وائس آف امریکہ اردو  |  May 13, 2021

ویب ڈیسک — 

جیل میں بند اپوزیشن لیڈر الیکسی نیولنی کے ایک حمایتی کا جمعرات کے روز کہنا تھا کہ روسی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کے بعد، ان کی ٹیم اب باضابطہ مظاہرے نہیں کر پائے گی، لیکن غیر منظم اچانک احتجاج ہوتے رہیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق، لیتھوانیا میں مقیم، لیونِڈ وولکوو کا یہ بیان اس بات کا نیا اشارہ ہے کہ حکومت کی جانب سے قانونی کارروائیوں کی وجہ سے نیولنی کی تحریک کو مجبوراً اپنے لائحہ عمل پر نظر ثانی کرنا پڑ رہی ہے۔

نیولنی, صدر ولایدی میر پیوٹن کے سب سے نمایاں ناقد ہیں اور فروری سے جیل میں بند ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد، ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ پولیس نے ان کے حق میں منعقد کئے جانے والے جلسے جلوسوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے ہزاروں حامیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔

تھوڑا وقفہ دینے کے بعد، نیولنی کی ٹیم نے گزشتہ ماہ ایک مظاہرہ کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جیل میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے نیولنی کو مناسب طبی سہلوت فراہم کی جائے۔ تاہم، مظاہرے میں شریک ہونے والوں کی تعداد توقع سے کم تھی۔

رائٹرز کے مطابق، ایسے میں جب حکومت کی جانب سے تحریک کو شدت پسند قرار دیا ہی جانے والا ہے، وولکوو کا کہنا ہے کہ باضابطہ مظاہروں کا امکان اب نہیں رہا۔

ولکوو نے ٹیلی گرام میسینجر سروس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے، "یہ تصور کرنا ہی مشکل ہے کہ نئے مظاہرے بھی اسی طریقہ کار کے مطابق ہوں گے جن کے ہم سن 2017 سے لیکر 2021 تک عادی رہے ہیں، جب مظاہرے کیلئے ایک تاریخ کا اعلان کیا جاتا تھا اور درجنوں شہروں میں انتظامات شروع ہو جاتے تھے۔"

تاہم، ان کا کہنا تھا، "چونکہ یہ ظاہر ہے کہ مظاہروں کی بنیادی وجوہات اپنی جگہ پر موجود ہیں، اسلئے یہ بھی واضح ہے کہ مظاہرے کہیں نہیں جائیں گے۔ بات صرف یہ ہے کہ اگر منتظمین نہیں رہے، تو کہیں اچانک ہی مظاہرے ہوا کریں گے۔"

شکاگو یونیورسٹی کی جانب سے بدھ کے روز منعقد کئے گئے ایک ورچوئیل مباحثے میں، وولکوو نے پیش گوئی کی کہ روس میں اپوزیشن کے مظاہرے، تیونس میں سن 2011 میں ہونے والے مظاہروں سے مشابہہ ہوں گے، جن سے بالآخر ایک کہنہ مشق لیڈر کو اپنا منصب چھوڑنا پڑا تھا۔

رائے عامہ کا جائزہ لینے والے ایک آزاد و خود مختار ادارے، لیواڈا سینٹر کے جمعرات کے روز جاری کردہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیولنی کیلئے سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ یہ حمایت اس سال جنوری میں 22 فیصد تھی، جو اپریل میں کم ہو کر 16 فیصد رہ گئی ہے۔

نیولنی کے حامیوں نے تحریک کے مختلف علاقوں میں قائم دفاتر کےنیٹ ورک میں کام کو موخر کر دیا ہے، کیونکہ انہیں ان تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے جو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے زمرے میں آتی ہیں۔ تاہم، وولکو کا کہنا ہے کہ ان میں دوبارہ مجتمع ہونے کی اہلیت ہے۔

نیولنی اس وقت اپنے پیرول کی خلاف ورزی کے الزامات پر ڈھائی سال کی جیل کاٹ رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More