غیر تکمیل شدہ مینڈیٹ

سماء نیوز  |  Jun 11, 2021

اقوامِ متحدہ کا دستور 1945ء میں تشکیل دیا گیا اور اسی برس منظور ہوا، اس میں درج مقاصد جنگ، بالجبر قبضوں کو روکنا اور بین الاقوامی انصاف کو فروغ دینا ہیں۔ اس فکر کا اظہار اقوامِ متحدہ کی عمارت کے صحن میں نصب ایک مجسّمے کے ذریعے بخوبی ہوتا ہے، یہ مجسّمہ ایک بندوق کا ہے جس کا دہانہ ڈوریوں سے بندھا ہوا ہے۔

مگر اقوامِ متحدہ اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہے، اس ادارے کی تشکیل کے بعد سے جنگ، قحط، ناجائز قبضوں اور قوموں اور معاشرتی طبقوں کے درمیان عدم انصاف میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی اس ناکامی کی اصل وجہ ساختیاتی ہے۔

سلامتی کونسل کے 5 ممبران نا انصافی، قبضوں اور جنگ کیخلاف بننے والی قراردادوں کو مسترد کرسکتے ہیں اور کرتے آئے ہیں۔ یہ پانچ ممالک دنیا کی سب سے امیر اور طاقتور اقوام ہیں۔ یہ پانچوں اقوام چھوٹے بڑے اسلحے کے بڑے صنعتکار ہیں اور یہی پانچوں عالمی بازار میں اسلحوں کے بڑے برآمد کنندہ (ایکسپورٹرز) ہیں۔ ان اسلحہ کے خریدار زیادہ تر وہی ممالک ہیں جو اپنے لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں مثلاً سعودیہ عرب یا وہ ممالک جو اپنے خِطّے پر اپنا تسلّط قائم کرنا چاہتے ہیں مثلاً بھارت۔ جب یہ خود ملوث نہیں ہوتے تو یہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی (کرائے کے جنگی گروہ) بناتے ہیں۔

مذکورہ پانچ طاقتوں کے بنائے ہوئے ہتھیار اور بندوقیں یمن، شام، لیبیا، افریقا کے مختلف خطوں اور گزشتہ 40 برسوں سے افغانستان میں استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ ان سے بچے اور عورتیں ہلاک ہوچکے ہیں اور اس حقیقت کو کولیٹرل ڈیمیج (یعنی دشمن پر حملے کے نتیجے میں  غیر ارادی نقصان و اموات) کا نام دے کر جائز قرار دے دیا جاتا ہے، ان ہتھیار اور اسلحہ کو فلسطین کی زمین چھین کر اسرائیلیوں کے قبضے میں دے دینے کیلئے استعمال کِیا جاتا ہے، مذکورہ پانچ طاقتیں ہر سال اسرائیل کو 18 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچوں میں سے کچھ ممالک کانٹریکٹروں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنے زیرِ اثر جنگی گروہوں کو اسلحے کی اسمگلنگ کرتے ہیں (اس تجارت میں 60 فیصد حصہ امریکا کا ہے اور 25 فیصد یورپ کا)۔ اسلحہ بنانے میں پوری دنیا کے 3 ٹریلین ڈالر صَرف ہوتے ہیں جس میں 39 فیصد حصہ امریکا کا ہے، چین کا 13 فیصد اور برطانیہ، فرانس اور روس کا کُل 8.8 فیصد حصہ ہے۔ ان اعداد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل میں موجود طاقتوں کے درمیان توازن نہیں ہے۔

اسلحے کی 37 فیصد برآمدات امریکا سے، 20 فیصد روس اور 16.7 فیصد دیگر سلامتی کونسل کے ممبران کرتے ہیں۔

اسرائیل بھی اسلحے کا اہم صنعتکار بنتا جارہا ہے اور  2016ء سے 2020ء کے درمیان اس کے اسلحے کی برآمدات میں 59 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسلحے کے بڑے درآمد کنندہ (امپورٹر) ممالک میں سعودیہ عرب (11 فیصد)، بھارت (9.5 فیصد)، مصر (5.8 فیصد)، متحدہ عرب امارات (3 فیصد) اور پاکستان (2.7 فیصد) شامل ہیں۔

ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل کے ممبران کا جنگ کو فروغ دینے میں کتنا کردار ہے۔ ان کی معیشت زیادہ تر اسلحہ بنانے اور اس کی فروخت پر  منحصر ہے۔ یہ  منافع  2018ء میں 95 بلین ڈالر سے 2020ء میں 3 ٹریلین ڈالر میں بدل چکا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ محض ایک بے جان تنظیم ہوکر رہ گئی ہے اور اگر زندہ بھی ہے تو اس وجہ سے کہ یہ ایک بڑے عالمی نظام (اسلحے کی معیشت اس نظام کا جزوِ لا ینفک ہے) کا حصہ بن چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں37 ہزار مستقل ملازمین ہیں اور اس کا سالانہ بجٹ 3.231 بلین ڈالر (سال 2021ء کے اعداد) ہے۔ اس بجٹ میں اس کے  خصوصی پروگرام شامل نہیں ہیں مثلاً دنیا میں امن قائم کرنے کا پروگرام  ’’پیس کیپنگ‘‘ (گزشتہ برس اس پروگرام کا بجٹ  6.58 بلین ڈالر تھا) یا وہ پراجیکٹ جن کا تعلق قحط کے خاتمے سے ہے۔ زیادہ تر خرچہ سلامتی کونسل کی 5 طاقتوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے، مثال کے طور پر، اقوامِ متحدہ کے بجٹ میں 22 فیصد حصہ امریکا کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ 5 طاقتیں اور ان کے اتحادیوں کو ’’انٹرنیشنل کمیونٹی‘‘ کہا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا بین الاقوامی مالی اداروں سے گہرا عملی تعلق ہے، ان کے  سیاسی اور معاشی ایجینڈوں، مثلاً نیو لبرل ازم اور عالمی تجارتی میثاق، کو  فروغ دینے میں  اقوامِ متحدہ اپنا کردار بھی ادا کرتی ہے اور بیک وقت ان پر تنقید بھی۔ ان تنظیموں کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، پاکستان کے منظرنامے میں بھی، تاکہ یہ ظاہر کِیا جائے کہ یہ تنظیمیں ترقی (ڈیولپمنٹ) میں  دلچسپی نہیں رکھتِیں بلکہ معاشی احتیاج تشکیل دینے اور قرضے دینے پر متوجہ ہیں۔

ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ڈی ایف آئی ڈی (برطانیہ کی ترقیاتی تنظیم) کے تمام ملازمین کی تعداد 23 ہزار 857  ہے اور کُل بجٹ 5.4 بلین ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ، اقوامِ متحدہ اور مذکورہ تنظیمیں ہزاروں فلاحی تنظیموں کو اور کنسٹلنٹ کو ترقیاتی پروگراموں کے کوائف جمع کرنے، پروگراموں کو جانچنے اور کئی چھوٹے اور اوسط درجے کے پراجیکٹ (جو اقوامِ متحدہ کے کئی پروگراموں میں مددگار ہوتے ہیں) کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مدد کرتی ہے۔ اس قدر انسانی وسائل سے جو طاقت بنتی ہے، جو رجحانات اس سے تشکیل پاتے ہیں، سب اقوامِ متحدہ کو فوت ہونے سے بچاتے ہیں۔ یہ اقوامِ متحدہ کو وینٹی لیٹر پر رکھ  کر خوش ہیں تاکہ یہ زندہ رہ سکے۔

اقوامِ متحدہ کی از سرِ نو تشکیل کرنے کیلئے اور ناانصافی کیخلاف متحد ہوجانے کیلئے تنظیموں اور افراد کے عالمی نیٹ ورک کی ضرورت ہے تاکہ غریبوں کیخلاف جو عمومی حالات بن چکے ہیں ان کا خاتمہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مزید کئی فلسطین بن جائیں گے، جس کا نتیجہ عالمی ظلم و انتشار کی صورت میں ہوگا اور ہم بے بسی سے اسے دیکھتے رہیں گے۔

ڈاکٹر عارف حسن کا یہ آرٹیکل 6 جون 2021ء کو انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘  میں شائع ہوا تھا۔

انگریزی سے اردو میں ترجمہ: منہاج علی

منہاج علی این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے طالبِ علم ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More