افغانستان کی بگڑتی صورتحال میں کشمیر میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، شاہ محمود قریشی

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 06, 2021

ویب ڈیسک — 

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کی امن میں دلچسپی نہیں ہے، بھارت کو اپنے زیر انتطام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو واپس لینا ہوگا۔ بقول ان کے، کشمیر کے مسئلے کے حل کے سوا جنوبی ایشیا میں امن نہیں آ سکتا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے دو سال مکمل ہونے کے موقعے پر ایک بیان میں کیا۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہی کے دن ایک نئے کشمیر کی بنیاد رکھی گئی جس سے خطے میں ترقی اور امن کا دور شروع ہوا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں بی جے پی کی حکومت پر تنقید کی۔ بقول ان کے، یہ نسل پرستانہ اور نفرت انگیز ہندوتوا عقیدے کی پرچارک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی موجودہ حکومت مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد پھیلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی اسی پالیسی کی وجہ سے دونوں ملک فروری 2019 میں جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایک المیہ ہونے سے رک گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی جانب سے ضبط برقرار رکھا گیا۔

انہوں نے بھارت کے 5 اگست کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے اقدام کے بعد بچوں سمیت ہزاروں کشمیری قید و بند اور تشدد کا نشانہ بنے؛ اور کشمیری رہنماؤں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا جن میں 91 برس کے سید علی گیلانی بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک برس میں کشمیر میں، بقول ان کے، بھارتی فوج کے ہاتھوں 390 کشمیری ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں اب تک 85 کشمیری، مبینہ طور پر، ماورائے عدالت کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareبھارتی کشمیر: آرٹیکل 370 کے خاتمے کے دو سالEmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More