کابل سے 7000 سویلینز کا انخلا ہو چکا ہے، پینٹاگان

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 19, 2021

ویب ڈیسک — 

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے بتایا ہے کہ 14 اگست سے اب تک افغانستان سے 7000 سے زائد امریکی سویلنز کا انخلا عمل میں لایا گیا ہے، جب کہ امریکی فوج تیزی کے ساتھ مشن پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

پینٹاگان میں ہونے والی پریس بریفنگ کے دوران، امریکی فوج کے میجر جنرل ہیک ٹیلر نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارہ سی 17 طیارے کابل سے روانہ ہوئے جن کے ذریعے 2000 سویلینز کو افغانستان سے نکالا گیا۔

جنرل ٹیلر نے بتایا کہ اب ہمیں مزید طیارے میسر آ چکے ہیں جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر 5000 سے 9000 افراد کا انخلا ممکن ہو گیا ہے، اب انخلا کا دار و مدار اس بات پر ہو گا کہ موسم کتنا سازگار رہتا ہے اور کتنے افراد کے کاغذات تیار کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کابل ایئرپورٹ پر تقریباً 5200 امریکی فوج موجود ہیں، جن کی تعداد میں رفتہ رفتہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

SEE ALSO:افغانستان سے شہریوں کے انخلا کی تاریخ اکتیس اگست سے آگے بڑھائی جا سکتی ہے، صدربائیڈن

ترجمان نے بتایا کہ انخلا کے کام میں تیزی لا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد لوگ پریشانی کے عالم میں ملک سے باہر جانے کے لیے ایئرپورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔

پیٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کہا ہے کہ امریکی اہل کاروں کے ساتھ طالبان کا رویہ مناسب ہے، اور ہوائی اڈے پر پہنچنے کی کوشش کرنے والے وہ افراد جن کے پاس قانونی دستاویزات ہیں، انھیں ایئرپورٹ آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایسے اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایئرپورٹ پہنچنے کے خواہش مند افغانی باشندوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

جنرل ٹیلر نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، کہ کیا امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے خیال میں ضرورت پڑنے پر 31 اگست کے بعد بھی انخلا کے لیے مخصوص پروازیں جاری رہ سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے انخلاٗ کی تاریخ میں توسیع کی کوئی بات نہیں ہو ئی۔

صدر جو بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکیوں کے انخلا کا عمل تب تک جاری رکھیں گے، جب تک وہ سب لوگ افغانستان سے نکل نہیں جاتے، جو نکلنے کے خواہش مند ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More