این۔آئی۔سی۔وی۔ڈی کرپشن کیس، سندھ ہائیکورٹ کا برہمی کا اظہار

سماء نیوز  |  Sep 20, 2021

فوٹو: آن لائن

سندھ ہائیکورٹ میں این آئی سی وی ڈی کرپشن کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ريمارکس ديئے کیا یہ فائیو اسٹار اسپتال ہے جہاں اتنا بجٹ جارہا ہے؟، عدالت نے این آئی سی وی ڈی اور دیگر اسپتالوں کے بجٹ اور موازنہ 14 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار کارڈیو ریسکولر ڈیزیز (اين آئی سی وی ڈی) ميں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے سوال کیا کہ سرکاری اسپتال میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیسے دی گئی؟، دوسرے  سرکاری اسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیوں نہیں؟۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ندیم قمر کے وکیل نے کہا کہ اس کا مقصد اسپتال کو مثالی بنانا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ تو دوسرے اسپتالوں کا کیا قصور ہے؟، انہیں مثالی کیوں نہیں بناتے؟۔

 ڈاکٹرز کی تنخواہوں سے متعلق عدالت کے سوال پر ندیم قمر نے بتایا کہ اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر کی تنخواہیں پانچ سے آٹھ لاکھ کے درمیان ہیں۔

عدالت کے پوچھنے ندیم قمر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ خود بھی پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں اور ان کی تنخواہ پروفیسر کی تنخواہ کے برابر ہے۔ جس پر درخواست کے گزار کے وکیل نے بتایا کہ ندیم قمر مراعات کے ساتھ ماہانہ 60 لاکھ روپے بٹور رہے ہیں۔

جس پر عدالت نے کہا کہ اتنی رقم میں تو الگ ادارے بناسکتے ہیں، پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت کیوں ہے؟۔ جس پر اين آئی سی وی ڈی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ زمینی حقائق کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔

جسٹس صلاح الدین نے رضا ربانی سے ہی سوال کر ڈالا کہ کیا انڈس اسپتال زمینی حقیقت نہیں ہے؟، کہاں انڈس اسپتال اور کہاں سول اسپتال؟۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صرف 5 سال میں سندھ حکومت این آئی سی وی ڈی کو 40 ارب روپے دے چکی ہے۔

عدالت نے کہا سول اسپتال کا بجٹ دیکھیں اور اپنا دیکھیں، اگر آپ نے فائیو اسٹار اسپتال بنایا ہے تو ہمیں نہیں چاہئے، ایسا تو نہیں ہے کچھ لوگوں کو سہولیات دینے کیلئے سارا انتظام کیا گیا ہو؟، بتائیں ڈسٹرکٹ اسپتالوں کا کیا بجٹ ہے اور این آئی سی وی ڈی کا بجٹ کیا ہے؟۔

عدالت نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کوئی ایک ارب یا 50 کروڑ روپے امداد دینے آیا ہے؟، آپ کو معلوم ہے ڈاکٹر ادیب رضوی کو لوگ کتنا فنڈ دیتے ہیں؟، لوگوں کو پتہ ہو کہ ایمانداری اور محنت سے کام ہورہا ہے تو لوگ فنڈ بھی دیتے ہیں۔

عدالت میں سخت سرزنش کے بعد جب ڈاکٹر نديم قمر سے اس حوالے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ عدالت نے تو ہماری تعریف کی ہے۔

عدالت نے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے گورننگ باڈی این آئی سی وی ڈی کے معاملات کا از سر نو جائز لینے کا حکم دے دیا۔

عدالتی حکم میں این آئی سی وی ڈی اور دیگر اسپتالوں کا بجٹ موازنے کے ساتھ پیش کرنے اور سیکریٹری خزانہ کو بھی خود 14 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More