فیس بک کا نیا منصوبہ'میٹاورس'، 10 ہزار افراد کو ملازمت دینے کا اعلان

ڈی ڈبلیو اردو  |  Oct 18, 2021

میٹاورس کو مستقبل کا انٹرنیٹ قرار دیا جارہا ہے

بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی فیس بک نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں "میٹاورس" کے نام سے ایک نئی ورچوئل ریالیٹی ورژن تیار کرنے کے لیے دس ہزار افراد کی خدمات حاصل کرے گی۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ میٹاورس مستقبل کا انٹرنیٹ ہوگا۔ فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ پہلے بھی میٹاورس کی بات کرتے رہے ہیں جسے حقیقی اور ڈیجیٹل ورلڈ کے درمیان دوریوں کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔

حقیقی اور ورچوئل ورلڈ کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی کوشش

" میٹاورس" ایک ایسی تکنیک ہے جس کے تحت انسان ڈیجیٹل ورلڈ میں ورچوئلی داخل ہوسکے گا۔ ماہرین کے مطابق لوگوں کو یہ محسوس ہوگا کہ آ پ جس سے بات کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے موجود ہے جبکہ درحقیقت دونوں افراد میلوں دور بیٹھے ہوں گے اور وہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط ہوں گے۔

فیس بک نے ایک بلاگ میں کہا،”میٹاورس میں تخلیقی، سماجی اور اقتصادی محاذ پر نئی جہتیں کھلنے کے امکانات ہیں۔ یورپی یونین کے افراد اس کا خیر مقدم کریں گے۔ آج ہم یورپی یونین میں دس ہزار افراد کو ملازمت دینے کا اعلان کررہے ہیں، جسے اگلے پانچ برس کے دوران مکمل کرلیا جائے گا۔"

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کاروباری غلبہ ختم کرنے کی قانون سازی

کمپنی نے یہ تو نہیں بتایا کہ میٹاورس ٹیم میں کس طرح کے لوگ ہوں گے لیکن یہ ضرور کہا کہ بہت ماہر انجینیئروں کو ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے،”یورپی یونین میں بہت ساری ایسی خوبیاں ہیں جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کو وہاں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرتی ہیں۔ جیسے کہ وہاں صارفین کا بہت بڑا مارکیٹ ہے، بہترین یونیورسٹیاں ہیں اور سب سے ضروری، نہایت اعلی صلاحیتیں دستیاب ہیں۔"

اسٹریٹیجک اعلان

فیس بک نے 'میٹاورس' کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب کمپنی کئی مسائل سے دوچار ہے۔

حال ہی میں فیس بک کی سروسز کئی مرتبہ متاثر ہوئیں۔ اس کی سروسز کئی گھنٹوں تک بند رہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے بڑھتے ہوئے اثرات پر کنٹرول کرنے کے مطالبات تیز ہو رہے ہیں۔ اس کے سابق ملازمین نے بعض ایسے الزامات عائد کیے ہیں جن سے فیس بک کی امیج کو نقصان پہنچا ہے۔

فیس بک کی ایک سابق ملازمہ فرانسس ہاؤگن نے بعض دستاویزات افشا کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فیس بک معاشرتی نقصانات سے بخوبی آگہی رکھنے کے باوجود مالی منفعت کو ترجیح و فوقیت دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک معاشرتی اقدار میں ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ دار ہے، سابقہ ملازمہ کا انکشاف

امریکی روزنامے دی واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ ماہ ایک رپورٹ میں ایسے اشارے دیے تھے کہ میٹاورس کے اعلان کے ذریعہ فیس بک اپنی امیج کو درست کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھا کہ میٹاورس میں کمپنی کی دلچسپی ”پالیسی سازوں کے درمیان کمپنی کے امیج کو دوبارہ قائم کرنے اور فیس بک کو انٹرنیٹ تکنیک کی اگلی لہر کے لیے تیار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہوسکتی ہے۔"

فیس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہاؤگن

کسی کی اجارہ داری نہیں

مارک زکر برگ میٹاورس کے حوالے سے کافی پرعزم رہے ہیں۔ جولائی میں فیس بک نے کہا تھا کہ اب کمپنی صرف سوشل میڈیا کمپنی کے بجائے اگلے پانچ برس میں میٹا ورس کمپنی ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سن 2014 میں فیس بک نے اوکیولس نام کی ایک کمپنی کو دو ارب ڈالر میں خرید لیا تھا اور اس کے بعد سے ہی ہورائزن کے نام سے ایک ڈیجیٹل ورلڈ تیار کر رہی ہے جہاں لوگ وی آر تکنیک کے ذریعہ ایک دوسرے سے بات چیت کرسکتے ہیں۔

فیس بک نے اگست میں 'ہورائزن ورک رومز‘ کے نام سے ایک فیچر جاری کیا تھا جس میں وی آر ہیڈ سیٹ پہن کر لوگ ورچوئل روم میں ایک دوسرے کے ساتھ میٹنگ کرسکتے ہیں۔ ان رومز میں بات کرنے والے افراد اپنے ہی تھری ڈی ورژن میں دکھائی دیتے ہیں۔

 فیس بک سروسز ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ متاثر

میٹاورس کو مستقبل کا انٹرنیٹ قرار دیا جارہا ہے، جو حقیقی اور ورچوئل کے درمیان کی دوریوں کو ختم کردے گا۔ اس کے کئی تجربات بھی ہوچکے ہیں۔ متعدد دیگر کمپنیاں بھی میٹاورس کی دنیا میں قدم آگے بڑھارہی ہیں۔

فیس بک نے اپنے بلاگ پوسٹ میں کہا کہ میٹاورس پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہوگی اور یہ انٹرنیٹ کی طرح ہر ایک کے لیے دستیاب ہو گا۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی، اے پی)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More