ایک دم سےجذبات بدل گئے،حالات بدل گئے

سماء نیوز  |  Oct 22, 2021

بیٹی کی پیدائش کے بعد سے فالوورز کواپنی سرگرمیوں میں شریک رکھنے والے فلک شبیرنے انسٹاگرام پرلائیو سیشن میں الیانا سے متعلق پوچھے جانے والے چند دلچسپ سوالات کے جوابات دیے۔

گلوکار نے پہلی باربیٹی کو ہاتھوں میں لینے سے لے کراس کے آنے سے اپنی زندگی بدل جانے تک سب کچھ شیئرکیا۔

مداحوں کے سوالات کی طرح فلک کے جوابات بھی محظوظ کرنے والے تھے، کسی نے پوچھا کہ کیا الیانا بچوں کی مشہورومعروف نظم بے بی شارک ڈو ڈو ڈوسنتی ہے تو فلک کا جواب تھا کہ ان کی بیٹی صرف اپنے ‘بابا کا میوزک’ سنتی ہے۔

ایک فالوورنے پہلی بارالیانا کوبانہوں میں تھامنے کے بعد فلک کے تاثرات کے حوالے سے پوچھا کہ کیا آپ روئے تھے؟ جس پران کا جواب تھا، ‘ہاں ، یہ ایک بہت ہی جذباتی لمحہ تھا’۔

یہ بھی واضح ہے کہ سارہ اور فلک کی راتیں آج کل جاگ جاگ کر گزرتی ہیں، مداح نے پوچھا کہ الیانا کی آمد کے بعد سے اپنی روٹین کی نیند کے حوالے سے بتائیں، فلک نے مومن ثاقب کے مشہورومعروف جملے سے بات واضح کرتے ہوئے لکھا، ‘مت پوچھیں، ایک دم سے جذبات بدل گئے، حالات بدل گئے’۔

بچے کتنے ہونے چاہئیں؟ تعداد جاننے کے خواہشمند مداح کے تجسس کا خاتمہ فلک نے یہ کہہ کردیا کہ ‘ بچے دوہی اچھے، باقی اللہ کی مرضی’۔

بیٹی کے ساتھ بھرپور وقت گزارنے والے نئے والدین سارہ خان اورفلک شبیر فالوررزکوبھی اپنی سرگرمیوں میں شریک رکھتے ہیں، فلک نے حال ہی میں الیانا کے نام کامطلب بتایا تھا کہ یہ عربی زبان کا نام ہے جس کا مطلب ہے عظیم ، درجے اور رتبہ میں اعلیٰ۔

رواں سال اپریل میں کی جانے والی ایک انسٹا پوسٹ نے سوشل میڈیا پرقیاس آرائیوں کوجنم دیا تھا کہ سارہ امید سے ہیں تاہم فلک یا اداکارہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔ بعد ازاں جون میں سارہ نے انسٹاپوسٹ میں مداحوں کو خوشخبری سنائی تھی کہ وہ امید سے ہیں۔

بیٹی کے لیے کمرہ تیار کرنے سے لے کرخریداری ، پیدائش اور پھرنام رکھنے کے مرحلے تک اس جوڑی کے مداحوں نے بھرپور دلچسپی لی۔

A post shared by Samaa Life&Style (@samaalifeandstyle)

فلک اور سارہ خان نے الیانا کی پیدائش کا اعلان 8 اکتوبرکو کیا تھاجواس جوڑے کی پہلی اولاد ہے۔

سارہ اور فلک شبیر نے 14 جولائی 2020 کو منگنی کا اعلان کیا تھا جس کے اگلے ہی روز شادی کی تقریبات کا آغاز ہوا اور دونوں نے 17 جولائی کو کراچی میں زندگی کے نئے سفرکا آغازکیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More