’جے بھیم‘ کے ہیرو کو دھمکیاں، گھر پر پولیس اہلکار تعینات

اردو نیوز  |  Nov 20, 2021

انڈیا میں نچلی ذات کے برادریوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر بننے والی ایک نئی ہٹ فلم کے ہیرو جمعرات کو تشدد کی دھمکیاں ملنے کے بعد سے مسلح پولیس کے پہرے میں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 'جے بھیم' ایک ایکٹوسٹ وکیل کی سچی کہانی پر مبنی ہے جو ایک قبائلی خاتون کے لیے لڑتا ہے جس کے شوہر کو 1993 میں ناجائز طور پر گرفتار کر کے پولیس کی حراست میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

فلم میں تامل فلم انڈسٹری کے مشہور ہیرو سوریہ نے مرکزی کردار نبھایا ہے۔

یہ انڈیا کے لاکھوں قبائلی لوگوں اور نچلی ذات کے دلتوں – 'اچھوت' – جو ہندووں کے ذات پات کے نظام کے نچلے حصے میں ہیں، کی حالت زار کو اجاگر کرنے والی تازہ ترین فلم ہے۔

ایمیزون پرائم پر ریلیز ہونے والی اس فلم کو زبردست ریویوز ملے ہیں اور غیر معمولی طور پر تامل زبان کی فلم 22 سرکاری زبانوں کے وسیع ملک انڈیا میں کامیاب رہی ہے۔

'جے بھیم' مختصراً فلمی ڈیٹا بیس آئی ایم ڈی بی پر سب سے زیادہ ریٹنگ والی فلم ہے اور اس نے ہالی ووڈ کی کلاسیک فلموں 'دی گاڈ فادر' اور دی شاشانک ریڈیمپشن' کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تاہم اس نے جنوبی ریاست تامل ناڈو کے بہت سے لوگوں کو بھی ناراض کیا ہے، خاص طور پر ونیار برادری کے لوگوں کو، جو کہتے ہیں کہ فلم میں انہیں برے انداز میں دکھایا گیا ہے۔

سوریہ کے چنئی میں واقع گھر کی حفاظت اب پانچ مسلح پولیس والے کر رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)کمیونٹی کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم ونیار سنگم نے فلم سازوں کو ہرجانے کے لیے قانونی نوٹس بھیجا ہے اور کچھ مناظر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک مقامی سیاسی جماعت کے ایک رکن نے فلم کے مرکزی اداکار سراوانن شیوکمار، جو سوریہ کے نام سے مشہور ہیں، پر حملہ کرنے والے کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ سوریہ فلم کے شریک پروڈیوسر بھی ہیں۔

پولیس نے اس کے بعد سے اس سیاست دان سے تفتیش شروع کر دی ہے اور سوریہ کے چنئی میں واقع گھر کی حفاظت کے لیے پانچ مسلح پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جب وہ سفر کرتے ہیں تو ان کے ساتھ اضافی سکیورٹی ہوتی ہے۔

یہ اور سوریہ کو دی جانے والی دیگر دھمکیوں نے سوشل میڈیا پر #WeStandWithSuriya ہیش ٹیگ کے ساتھ اداکار کے لیے حمایت کا آغاز کر دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More