خلاء میں موجود کچرے کو خلائی گیس اسٹیشن میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع

بول نیوز  |  Nov 25, 2021

سیٹیلائیٹس، راکٹس اور انسانوں کا کچرا زمین کے مدار میں اس قدر جمع ہوگیا ہے کہ ڈر ہے مستقبل میں یہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے روس کی جانب سے اپنے سیٹلائٹ کو تباہ کرنے کے غیرذمہ دارانہ عمل نے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے عملے کو ایمرجنسی ایکشن لینا پڑ گیا۔ ٹیسٹ سے سیٹلائیٹ کے 1500 سے زائد ٹکڑے مدار میں پھیل گئے۔

لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ان کے پاس اس مسئلے کا ایک حل ہے اور یہ حل خلاء میں تیرتے ایئرکرافٹس میں دوبارہ فیول بھرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

یورپی اسپیس ایجنسی کے مطابق زمین کے اوپر خلاء میں تقریباً 9ہزار 200 ٹن کچرا تیر رہا ہے۔

کچرے کے اس خطرناک اضافے سے نچلے مدار کے مشنز پہلی ہی متاثر ہونا شروع ہوچکے ہیں اور ماہرین کو ڈر ہے کہ کوئی اقدام نہ کیا گیا تو یہ صورتحال بگڑتی ہی جائے گی۔

ایک خیال عالمی کوشش سے اس خطرناک ملبے کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے داکٹ کا ایندھن بنانے کا بھی ہے۔

اس میں سیٹلائیٹس شامل ہوں گے جو خلائی کچرے کو جمع کریں گے۔ یہ سیٹلائیٹ 17 ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے چلیں گے۔

ایک خلائی فاؤنڈری جوابھی بنائی جارہی ہے، اس جمع کیے گئے کچرے کو پگھلا کر دھاتی سریوں میں تبدیل کردے گی جِسے بعد میں راکٹ فیول کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

اس منصوبے کی پہلی اسٹیج کا عملی مظاہرہ جاپانی اسٹارٹ اپ آسٹراسکیل پہلے ہی کرچکی ہے۔

اس کا ELSA-d نامی اسپیس کرافٹ مقناطیس کا استعمال کرتے ہوئے خلاء سے کچرا جمع کررہا ہے۔

اس اسپیس کرافٹ کو رواں برس مارچ مین لانچ کیاگیا تھا۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More