کووڈ 19: جنوبی افریقہ سے ابھرنے والی نئی قسم پر سائنسدانوں کو شدید تشویش، برطانیہ اور جرمنی کی سفری پابندیاں

بی بی سی اردو  |  Nov 26, 2021

کورونا وائرس
Getty Images

کورونا وائرس کی ایک اور نئی قسم سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کووڈ 19 کے خلاف تمام کوششیں ناکافی ثابت ہو سکتی ہیں اور اگر اس نئی قسم سے متعلق سائنسدانوں کے خدشات درست ہیں تو دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔

کورونا کی اس نئی قسم کی دریافت کی اہم بات یہ ہے کہ اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے میں بہت زیادہ تبدیلیاں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے ایک سائنسدان نے اس نئی قسم کے کورونا وائرس کو ہولناک قرار دیا تو ایک سائنسدان کا کہنا ہے کہ یہ اب تک سامنے آنے والے تمام وائرس سے خطرناک ہے۔

ایسے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ وائرس کی یہ نئی قسم کتنی تیز رفتار سے پھیل سکتی ہے اور اس میں کورونا کی ویکسین کے خلاف کتنی مدافعت موجود ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کا توڑ کیا ہے؟

اس نئی قسم کے بارے میں تمام تر خدشات کے باوجود ان سوالوں کے سب جواب اب تک سائنسدانوں کے پاس بھی نہیں۔

وائرس کی نئی قسم کس حد تک پھیل چکی ہے؟

اب تک اس نئی قسم (B.1.1.529) کے درجنوں مصدقہ متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی افریقہ کے صوبے گوٹنگ میں سامنے آئے لیکن چند متاثرین بیرون ملک بھی موجود ہیں جن میں یورپ، جنوبی افریقہ کے ہمسایہ ممالک اور اسرائیل شامل ہیں۔

افریقی ملک بوٹسوانا میں چار متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ ایک کیس ہانگ کانگ میں بھی دریافت ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مریض جنوبی افریقہ سے سفر کر رہا تھا۔

اسی وجہ سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید یہ قسم اندازے سے زیادہ پھیل چکی ہے اور جنوبی افریقہ کے زیادہ تر صوبوں میں موجود ہو سکتی ہے۔

کورونا وائرس، نئی قسم، جنوبی افریقہ
PA Media

افریقی ممالک پر سفری پابندیاں

اس نئی قسم کے سامنے آنے کے بعد برطانیہ کی جانب سے چھ افریقی ممالک پر نئی سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان میں جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور اسواتینی شامل ہیں۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی سے منسلک جینی ہیرس کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم اب تک سامنے آنے والی تمام اقسام کے مقابلے میں زیادہ خطرناک لگتی ہے۔‘

ان کے مطابق فوری طور پر نئی ہنگامی ریسرچ کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور کتنا مہلک ہے۔ ’یہ بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ کورونا کی ویکیسن کے خلاف اس کی مدافعت کتنی مؤثر ہے۔‘

وزیرِ صحت ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو وائرس کی نئی قسم پر گہری تشویش ہے۔ ’یہ زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور ہماری موجودہ ویکسینز اس کے خلاف کم کارآمد ہو سکتی ہیں۔‘

جرمنی، اٹلی، اسرائیل اور سنگاپور نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور انھیں ریڈ لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ جرمن وزیر صحت نے جنوبی افریقہ کو وہ علاقہ قرار دیا ہے جہاں وائرس کی نئی قسم ہو سکتی ہے، اور کہا ہے کہ یہاں سے آنے والے مسافروں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یورپی کمیشن کی صدر کے مطابق یورپی یونین نے جنوبی افریقی ممالک پر سفری پابندیوں کی تجویز دی ہے تاکہ یورپی ریاستوں کو وائرس کی نئی قسم سے بچایا جا سکے۔ جبکہ آسٹریلیا اس حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا اس وقت افریقی ممالک پر سفری پابندیاں لگانا ضروری ہے۔

ادھر انڈیا نے بھی تمام ریاستوں کو الرٹ جاری کیا ہے کہ جنوبی افریقہ سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کو لازم بنایا جائے۔

دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین جمعے کو جنوبی افریقہ کے حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ ملک میں صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔

اسرائیل کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وائرس کی اس نئی قسم کے پہلے کیس کی تشخیص کر لی گئی ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق یہ شخص جنوبی افریقی ملک ملاوی سے لوٹ رہا تھا۔

اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں جہاں یہ نئی قسم سامنے آئی ہے وہاں اب تک صرف 24 فیصد آبادی کو ہی ویکیسن لگائی جا سکی ہے تو ایسے میں یہ نیا وائرس یورپ، جہاں ویکیسن لگوانے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے، کو کتنا متاثر کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ نئی قسم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ میں کورونا کی چوتھی لہر کے خطرے کے پیش نظر ایک بار پھر نئی پابندیوں پر غور ہو رہا ہے۔

کورونا کی نئی قسم کیا ہے؟

اب تک کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آ چکی ہیں جنھیں عالمی ادارہ صحت ایلفا اور ڈیلٹا جیسے نام دے چکا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کو بھی ایک نام دیا جائے گا لیکن اس وقت اسے ایک نمبر دیا گیا ہے جو بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم، جنوبی افریقہ
Reuters

’کورونا کی اس قسم نے ہمیں حیران کر دیا ہے‘

پروفیسر ٹولیو ڈی اولیویرا کے مطابق کورونا کے اس نئی قسم نے انھیں حیران کر دیا ہے کیوںکہ اس میں 'ہماری توقعات سے زیادہ تبدیلی آ چکی ہے۔‘

انھوں نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ نئی قسم میں مجموعی طور پر 50 جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جبکہ اس میں موجود مخصوص سپائک پروٹین، جس کو ویکسین نشانہ بناتی ہے، اس میں 30 جینیاتی تبدیلیاں موجود ہیں۔

’اس وائرس کی قسم کے معائنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس کا وہ حصہ جو سب سے پہلے انسانی جسم پر اثرانداز ہوتا ہے اس کی سطح پر بھی 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔‘

اہم بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل کورونا کی نئی لہر کی وجہ بننے والی ڈیلٹا قسم میں ایسی صرف دو جینیاتی تبدیلیاں پائی گئی تھیں۔

لائن
BBC

کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

ڈبل میوٹینٹ: انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟

کووڈ 19 کی ویکسین سے متعلق خدشات میں کتنا سچ کتنا جھوٹ؟


وائرس میں جینیاتی تبدیلی کا کیا مطلب ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ وائرس میں جینیاتی تبدیلی ہمیشہ خطرناک ہی ثابت ہو۔ لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اس تبدیلی کے بعد وائرس کیسے بدلتا ہے۔

اصل تشویش یہ ہے کہ وائرس کی نئی قسم اس پہلے وائرس سے بہت حد تک بدل چکی ہے جو چین کے شہر ووہان میں سب سے پہلے کورونا کی وجہ بنا تھا۔ چونکہ کورونا کی ویکیسن پہلے وائرس کے معائنے کے بعد بنائی گئی تھی اس لیے نئی قسم پر اس کا اثر کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

کورونا
Reuters

ایسا نہیں کہ اس نئے وائرس کی تمام تبدیلیاں بالکل حیران کن ہیں بلکہ ساخت میں کئی ایسی تبدیلیاں بھی ہیں جو اس سے پہلے کی وائرس کی اقسام میں بھی پائی گئیں اور ان کی وجہ سے اس کے بارے میں جاننے میں مدد مل رہی ہے۔

ان میں سے ایک تبدیلی ایسی بھی ہے جو جسم میں موجود دفاعی خلیوں کے لیے وائرس کی پہچان مشکل بنا دیتی ہے جس سے کورونا کی ویکیسن کم اثر ہو جاتی ہے۔

اس سے پہلے سامنے آنے والی وائرس کی اقسام میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جن کی جینیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے خدشہ تھا کہ یہ خطرناک ثابت ہوں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کورونا کی بیٹا قسم کے بارے میں سال کے آغاز میں کہا جا رہا تھا کہ یہ مہلک ثابت ہوگا کیوںکہ یہ جسم کے دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس کے مقابلے میں ڈیلٹا قسم زیادہ مہلک ثابت ہوئی جو زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More