پاکستان میں برین لمفوما کے پہلے سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کا دعویٰ: ایک ماہ، روشنی سے دور بند کمرے میں علاج کی تفصیل

بی بی سی اردو  |  Nov 28, 2021

ڈاکٹر ایاز میر نے نورین محمود سے کہا کہ اگر آپ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے علاج نہیں کروائیں گی تو آپ کے پاس جینے کے لیے فقط چار مہینے ہیں آپ سوچ لیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے، نورین کا جواب تھا کہ چلیں میں جہاز پر چڑھ کر رشتہ داروں سے ملنے چلی جاتی ہوں لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ کیا آپ واپس آ بھی سکیں گی؟

یہ لمحات کینسر میں مبتلا 58 سالہ نورین محمود کے لیے فیصلہ کرنے اور پاکستان میں برین لمفوما (سرطان کی ایک غیر معمولی قسم) کے علاج کے لیے سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کا ’پہلا تجربہ‘ کرنے کی تیاری کے تھے جس میں کیمو میں کیڑے مار دوا کا استعمال کیا جانا تھا۔

کینسر نورین کے لیے نیا مرض نہیں۔ برسوں پہلے کراچی کے ایک ہسپتال کی راہداریوں میں وہ اپنے والد کو کیموتھراپی اور شعاعیں لگوانے کے لیے لاتی رہیں تھیں اور اب خود بھی دس سے زائد مرتبہ کیموتھراپی کروا چکی تھیں۔ لیکن کینسر کی جس غیر معمولی قسم میں وہ مبتلا ہیں اس کے لیے انھیں وہ طریقہ کار تجویز کیا گیا جو ڈاکٹر کے مطابق ملک میں اس سے پہلے کبھی کسی مریض کے لیے نہیں اپنایا گیا تھا۔

نورین نے مجھے بتایا کہ ’ڈاکٹر کی تجویز زندہ رہنے کے لیے واحد آپشنتھی اور اس پر غور کرنے اور فیصلہ لینے میں مجھے ایک ہفتہ لگا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سوچا کہ یہ عقلمندی نہیں کہ اگر ایک ہی راستہ ہے اور اسے میں اس لیے نہ اپناؤں کہ وہ نیا ہے، میں پریشان تو تھی کہ میرے علاج کے لیے میرے جسم میں کیڑے مار دوا داخل کی جائے گی لیکن میں نے سوچا یہی ایک چیز ہے اور اگر اللہ مجھے اسی سے بچا دے مجھے کوشش تو کرنی ہے۔‘

ڈاکٹر ایاز کے مطابق ’لمفوما عام طور پر بغلوں میں یا گردن کے گلینڈ میں ہوتا ہے یہ خون کے سیل سے آتا ہے لیکن سو میں سے ایک مریض میں یہ خون کے خلیوں سے ہوتا ہوا برین میں پہنچ جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا علاج سرجری نہیں ہے اور کیمو تھراپی، ریڈی ایشن، سٹیم سیل یا امینو تھراپی کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ سٹیم سیل کے لیے ٹیومر کو کم سے کم کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ کامیابی نہیں مل سکتی۔

’پہلے مختلف طریقہ کار سے ٹیومر کو کم کرتے ہیں پھر آخر میں ہائی ڈوز کیمو تھراپی سے اس پر حملہ کرتے ہیں اور پھر سٹیم سیل لگائے جاتے ہیں۔‘

مریضہ کے پاس زندگی کے 48 گھنٹے بچے ہیں

نورین پچھلے 28 سال سے اپنے شوہر کے ہمراہ اپنی ذاتی کمپنی کے امور سنھبال رہی تھیں۔ جولائی 2019 میں وہ اچانکگر گئیں تو پاؤں میں فریکچر آ گیا اور انھیں پلاسٹر لگانا پڑا۔ اس حادثے کی وجہ سے نورین حج پر نہ جا پائیں۔ پلاسٹر تو اتر گیا لیکن نورین کے جسم کا بائیاں حصہ اتنا کمزور ہو گیا کہ وہ اکثر اپنے جسم پر توازن برقرار نہیں رکھ پا رہی تھیں اور کبھی سیڑھیوں سے گر جاتیں کبھی چلتے ہوئے دروازے یا دیوار سے ٹکرا جاتی تھیں۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان کے فیملی ڈاکٹر نے انھیں ہسپتال جانے کا مشورہ دیا اور جب وہ ہسپتال گئیں تو ڈاکٹر نے کہا کہ ہم آپ کو ابھی گھر جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’ڈاکٹروں نے میرا باڈی سکین کیا بائیوپسی ہوئی جس سے مجھ میں ٹیومر کی تشخیص ہوئی اور پھر مجھے جلدی سے آغا خان ہسپتال بھجوا دیا گیا جہاں میرے دماغ کا آپریشن ہوا۔‘ انھوں نے بتایا کہ’وہاں مجھے آٹھ بار کیمو تھراپی کے عمل سے گزارا گیا پھر 15 ماہ تک صورتحال بالکل ٹھیک رہی لیکن پھر سے طبیعت بگڑ گئی اور ایک بار پھر مجھے چار سے پانچ مرتبہ کیمو کے عمل سے گزرنا پڑا۔‘

لیکن اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب نورین کے بچوں کو بتایا گیا کہ ان کی والدہ کے پاس 48 گھنٹے کی زندگی بچی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ اچانک کومہ کی حالت میں چلی گئی تھیں اور ہفتہ بھر سے زیادہ دن تک اس میں رہیں، اس دوران ان کے دماغ پر بھی سوجن ہو گئی تھی لیکن پھر ان کو دوبارہ زندگی ملی۔

دوائی سے ان کی جسم کو لگنے والے جھٹکے تو کم ہوئے لیکن یہ سامنے آیا کہ ٹیومر دماغ میں تین جگہ پر تھا۔

نورین کہتی ہیں کہ مجھے اس عرصے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں بس میں مسلسل نیند میں تھی۔ اس بار انھوں نے پاکستان آکر دارالحکومت کے نجی ہسپتال شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ڈائریکٹر بون میرو اینڈ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر ایاز یونس میر سے اپنا معائنہ کروایا۔

ڈاکٹر ایاز میر نے بی بی سی کو مریضہ کی بیماری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’انھیں جب فالج کی علامات، جھٹکے لگنا اور دیگر چیزیں واپس آئیں تو ان کی ایم آر آئی کی گئی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ٹیومر کو کنٹرول کرنے کے لیے سٹیم سیل کا طریقہ علاج استعمال کریں کیونکہ اب کی بار ہمارے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ 30 سے 40 سال پہلے شعاعوں سے علاج ہوتا تھا جس سے دماغ کی اہم بافتیں ( ٹشوز) بھی جل جاتی ہیں اور مریض کو آگے چل کر نقصان ہوتا ہے۔ اگرچہ اب بھی کچھ مرحلوں پر شعاعوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن مکمل طور پر اس پر انحصار مکمن نہیں۔

کیڑے مار دوا تھائیو ٹیپا کا استعمال

ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ مریضہ کی رضا مندی کے بعد ہم نے کیموتھراپی سے علاج شروع کیا لیکن پھر ٹیومر کچھ اور بڑھا تو ہمیں کچھ وقت شعاعوں کا استعمال کرنا پڑا اور دوا بھی دی۔ ٹیومر اس سے سکڑا اور انیس سے پانچ ملی میٹر کے قریب ہو گیا۔

لیکن اگلا چیلنج یہ تھا کہ جس کیڑے مار دوا کو کیمو تھراپی میں استعمال کرنا تھا وہ پاکستان میں دستیاب ہی نہیں تھی۔ یہ کیڑے مار دوا تھائیو ٹیپا ہے یہ انڈیا میں بنتی ہے اور اسے مریضہ کے اہلِ خانہ کو سنگا پور سےتقریباً 17 لاکھ میں لانا پڑا۔

اس دوا کو ایک خاص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس کے لیے حکومت کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ حکومت کی اجازت لینا ایک لمبا طریقہ کار ہے تاہم نورین کے شوہر نے اس کے لیے درخواست دی لیکن جب کئی روز بعد جواب نہ ملا اور دوسری جانب نورین کے لیے طبی طور پر انتظار کرنا کھٹن تھا تو انھوں نے بلیک مارکیٹ کے ذریعے اس دوا کو باہر سے منگوایا۔

اس طریقہ علاج کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ سٹیم سیل میں کوئی دماغ کا آپریشن ہوتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا۔ سٹیم سیل طریقہ علاج میں دماغ کو نہیں بلکہ بون میرو یعنی ہڈیوں کے گودے کو ٹارگٹ کر رہے ہوتے ہیں اور جو اس میں سخت کیمو تھراپی استعمال ہوتی ہے اس میں کیڑے مار دا تھائیو ٹیپا اور کارمسٹین دماغ کو ٹارگٹ کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دیگر دوائیں جو کیمو تھراپی میں استمعال ہوتی ہیں وہ عام طور پر دماغ میں نہیں جا سکتیں کیونکہ خدا نے دماغ کو ایک قدرتی جھلی میں رکھا ہے۔ تاہم یہ مخصوص دوا دماغ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لیکن اس طریقہ علاج میں ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں دوائیاں انسان کے بون میرو کو بالکل تباہ کر دیتی ہیں۔ ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں اگر برین ٹیومر ٹھیک بھی ہو جائے تو مریض بون میرو کی تباہی کی وجہ سے ٹرانسپلانٹ یونٹ سے بھی زندہ باہر نہیں نکل سکتا اور اس صورتحال سے بچنے کے لیے سٹیم سیل لگانا ناگزیر ہوتا ہے۔

منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ

ڈاکٹر ایاز نے بتایا کہ سٹیم سیل کے حصول کے لیے مریض کو انجیکشن لگائے جاتے ہیں، بون میرو کے سٹیم سیل خون کے اندر آ جاتے ہیں اور پھر ایک مشین کے ذریعے سے سٹیم سیل نکالتے ہیں جو اس کی پیمائش بھی کرتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس صورتحال میں ہم نے سٹیم سیل کو مریضہ کے خون سے نکالا جسے ہم نے منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کیا۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے جب مریض کو اتنی زیادہ کیمو تھراپی اور شعاعیں لگیں تو زیادہ تعداد میں سٹیم سیل افزائش نہیں پا سکتے۔

وہ کہتے ہیں کہ نورین کے سٹیم سیل میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی۔ ہمیں تین سے چار دن میں انتطار کے بعد دو ملین یعنی 20 لاکھ سٹیم سیل مل پائے ان کے مطابق یہ سٹیم سیل کی بہت کم ڈوز تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس مرحلے میں یونیورسٹی آف وسکانسن میں پروفیسر ڈاکٹر مہدی ہمدانی نے بتایا کہ دو ملین سٹیم سیل کافی ہیں آپ اس کی ابتدا کریں۔‘

ایسی کیمو تھراپی جب مریض کو دن میں تین بار نہلانا پڑتا ہے

ڈاکٹر ایاز کے علاوہ مریضہ کے علاج میں کل 20 طبی اہلکاروں پر مشتمل عملہ شامل تھا۔ اس یونٹ میں ہر مریض کے لیے الگ نرس کی موجودگی ضرورت ہوتی ہے اور یہاں کام کرنے والا طبی عملہ خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق تین دن مریضہ کو کیمو تھراپی کی گئی اور تین دن انھیں ریسٹ کروایا، وہ دو ہفتوں تک بہت بیماری کی حالت میں تھیں۔ یہ ایسی کیمو تھراپی ہے کہ اس میں مریض کو دن میں تین تین بار نہلانا پڑتا ہے۔

اس کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو کیڑے مار دوا اور دیگر سخت ادویات مریض کو کیمو تھراپی میں لگائی جاتی ہیں ان کا جسم سے اخراج بھی ہوتا ہے۔ اور مریض کی حفاظت کے لیے ایسا کیا جانا ضروری ہوتا ہے دوسرے ان کی دیکھ بھال پر موجود طبی عملہ بھی خاص احتیاطی تدابیر اپناتا ہے۔اس کیس میں کیمو کے ایک ہفتے کے بعد مریضہ کو سٹیم سیل لگائے گئے۔

ڈاکٹر ایاز کہتے ہیں کہ پہلے ہفتے کے دوران جن دنوں ہم امید کھو رہے تھے ان سیلز میں سپائیک یعنی زیادتی دیکھنے کو ملی اور دو ہفتے مکمل ہونے کے بعد ہم نے دیکھا کہ ان کی حالت اتنی اچھی ہو گئی کہ ہم نے انھیں ڈسچارج کر دیا۔

تیس دن بند کھڑکی میں سورج کی روشنی سے دور رہی

وہ بند کمرہ جہاں ہوا بھی فلٹر ہو کر آتی ہے اب نورین کو یہاں تیس دن مکمل کرنے تھے۔

ایک بار پھر معمول کی زندگی کی جانب بڑھنے کے لیے کوشاں نورین نے اس کمرے میں گزارے وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا ’ہسپتال کے ایک کمرے میں 30 دن تک رہنا پڑا جہاں نہ دھوپ کی کرنیں تھیں نہ کوئی کھڑکی تھی نہ میں دروازے سے باہر جا سکتی تھی۔ میرے گھر والوں میں سے ایک فرد میرے ساتھ رہ سکتا ہے لیکن وہ بھی باہر نہیں جا سکتا تھا۔ گھر والوں نے سات سات دن مخصوص کیے اور میرا ساتھ دیا۔‘ لیکن اس علاج کو شروع کروانے کا فیصلہ لینے والی نورین جب ایک روز اپنے بستر سے نکلنے کے لیے انکاری ہوئیں تو ایک بار پھر ڈاکٹر ایاز میر نے ان کو کہا اب اگر آپ چلیں گی نہیں تو پھر آپ کی حالت بگڑ سکتی ہے اور زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔

نورین نے بتایا کہ وہ صورتحال ان کے بس میں نہیں تھی، چلنا ضروری تھا اور نقاہت کی وجہ سے مجھ سے یہ ہو نہیں رہا تھا۔ ’کبھی ہارویسٹنگ ہوتی تھی، کبھی کیمو کے بعد نہانا ہوتا تھا تو کبھی بعد میں چلنا تھا، چار سے پانچ دن تک میں کچھ کھا نہیں سکی تھی۔ میں کروٹ نہیں بدل سکتی تھی، نقاہت ایسے تھی کہ میں ہل نہیں پاتی تھی، بہت ڈائریا ہو گیا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ریو وائرس تھیراپی کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن

’پاکستان میں نوجوان لڑکیوں میں بریسٹ کینسر بڑھ رہا ہے‘

چھاتی کا کینسر علاج کے 15 سال بعد بھی لوٹ سکتا ہے

’کینسر کے علاج کے ٹوٹکے‘ آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں

انھوں نے کہا کہ سٹیم سیل کے طریقہ کار میں ہر روز ایک نیا دن ہی ہوتا ہے کئی گھنٹوں تک دوائیاں لگ رہی ہوتی ہیں، کچھ دیر واک ہوتی ہے۔ ہر روز ایک امید بھی بندھ جاتی ہے اور انسان کو صبر کرنا ہوتا ہے۔اس علاج کے پہلے تجربے کے بعد ملک بھر کے بون میرو اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کرنے والے ماہرین جن کی تعداد 20 سے 22 بتائی جاتی ہے منتظر ہیں کہ اس میں کامیابی کے نتائج حاصل ہو سکیں۔

ڈاکٹر ایاز کہتے ہیں کہ کامیابی کے تین پیمانے ہیں اور اس کیس میں ہم نے پہلا مرحلہ عبور کر لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلا پیمانہ مکمل ہو گا کہ یہ کامیابی ہے کہ مریض زندہ سلامت باہر نکل آئے اور بون میرو دوبارہ بڑھے۔ تو اس کیس میں یہ ہو چکا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دوسرے مرحلے میں ایک سے دو ماہ میں ہم دماغ کے سکین کر کے دیکھیں گے کہ ٹیومر جو پانچ ملی میٹر باقی ہے وہ ختم ہوا ہے یا نہیں۔ اور اس سے اگلا سٹیج پانچ سال کا فالو اپ ہوتا ہے جرمنی میں یہ نتائج آئے ہیں کہ 70 فیصد مریض پانچ سال بعد بھی بالکل ٹھیک ہیں۔‘

نورین کو 17 لاکھ کی کیڑے مار دوا سمیت ہسپتال کی ادویات علاج پر کل ملا کر 50 لاکھ سے زیادہ روپے خرچ کرنے پڑے۔ڈاکٹر ایاز کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ضرورت ہے کہ ادویات ہمسایہ ممالک کی مانند اپنے ہاں تیار کی جائیں اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تربیت دی جائے۔

’جب ایک مریض ٹرانسپلانٹ کے دوران مر جاتا ہے تو ہمارے لیے بھی یہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسا بارہا ہوا کہ ہم نے مریض کو کھو دیا۔ میں نے ایک کو گذشتہ ہفتے کھویا اور ایک 78 برس کا مریض میرے پاس آیا ہے لیکن میں اسے اس کھٹن طریقہ علاج سے گزارنے سے قاصر ہو۔‘

انھوں نے آٹھ برس قبل کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں جب امریکہ میں سنہ 2014 میں ٹریننگ کر رہا تھا میو کلینک میں اور ایک پاکستانی خاتون کا وہاں سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ ہوا تو میں نے اس وقت یہ خواہش کی تھی کہ کیا کبھی میرے ملک میں بھی یہ ممکن ہو سکے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ میری خواہش تو پوری ہوئی لیکن کینسر کی اس غیر معمولی قسم کے کم سے کم 15 مریضوں کا سامنا تو وہ خود ہر برس کرتے ہیں۔ پاکستان میں بون میرو اور سٹیم سیل پلانٹ کرنے والے ماہرین کی تعداد فقط 20 سے 22 ہے۔

پاکستان میں جدید طریقہ علاج نہ ہو سکنے کی وجوہات میں جہاں سہولیات کا فقدان ہے وہاں مہنگا طریقہ علاج اور دواؤں کی عدم دستیابی بھی ہے کئی مریض تو دوا کو منگوانے کے انتطار میں ہی زندگی ہار جاتے ہیں۔

اگرچہ بون میرو اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کو دیگر بڑے ہسپتالوں جیسا کہ آغا خان اور شوکت خانم میں استمعال کیا جا رہا ہے تاہم انھوں نے بتایا کہ برین لیمفوما کی اس غیر معمولی قسم میں کیمو تھراپی میں ان مخصوص ادویات کا استعمال اور کسی ہسپتال میں نہیں کیا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں شعبہ کینسر سے منسلک سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کی ماہر ڈاکٹر نتاشا علی نے تصدیق کے آغا خان میں ابھی کینسر کی اس غیر معمولی قسم کے علاج میں تھائیو ٹیپا کے استعمال کے ساتھ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا۔

اسی طرح ہمیں بتایا گیا کہ شوکت خانم ہسپتال میں بھی اس غیر معمولی کینسر جسے پرائمری سینٹرل نروس سسٹم لیمفوما کہتے ہیں کے لیے آٹو لیمفوما نہیں استعمال کیا گیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More