کیا اومی کرون دنیا بھر میں پھیلے ڈیلٹا ویریئنٹ کی جگہ لے سکتا ہے؟

اردو نیوز  |  Dec 07, 2021

کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے جنوبی افریقی ممالک میں پھیلنے اور دنیا بھر کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد، سائنسدان بے چینی سے ایک ایسی جنگ کو دیکھ رہے ہیں جو وبائی مرض کے مستقبل کا تعین کر سکتی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا کورونا کی نئی قسم دنیا بھر میں پھیلے ڈیلٹا ویریئنٹ کی جگہ لے سکتا ہے؟

کچھ سائنس دان جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اومی کرون ایسا کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر جیکب لیمیوکس، جو ہارورڈ میڈیکل سکول کی قیادت میں تحقیقی تعاون کے لیے مختلف ویریئنٹس کو مانیٹر کرتے ہیں، کا کہنا ہے ’ابھی ابتدائی دن ہیں، لیکن اعداد و شمار میں تیزی سے تبدیلی آنا شروع ہو رہی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر سب جگہوں پر نہیں تو اومی کرون بہت سے مقامات پر ڈیلٹا سے مقابلہ کر سکتا ہے۔‘

لیکن دوسرے سائنس دانوں کا گذشتہ روز کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اومی کرون ڈیلٹا سے زیادہ مؤثر طریقے سے پھیلے گا یا اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ کتنی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

میو کلینک میں کلینیکل وائرولوجی کے ڈائریکٹر میتھیو بنیکر کا کہنا ہے کہ ’خاص طور پر امریکہ میں جہاں ہم ڈیلٹا میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں، آیا اومی کرون اس کی جگہ لینے کا رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں تقریباً دو ہفتوں میں معلوم ہو جائے گا۔‘

دوسرے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اومی کرون ڈیلٹا سے زیادہ مؤثر طریقے سے پھیلے گا (فوٹو: الامی)اومی کرون کے بارے میں بہت سے اہم سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے کہ کیا وائرس ہلکی یا زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے اور یہ ماضی میں کورونا سے بیمار ہونے والوں یا ویکسین لگوانے والے افراد کو متاثر کر سکتا ہے؟

پھیلاؤ کے معاملے پر سائنس دان اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں کیا ہو رہا ہے، جہاں پہلی بار اومی کرون کا پتہ چلا تھا۔

جنوبی افریقہ میں اومی کرون کی رفتار نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ ملک میں ایک نئی لہر کا آغاز ہو رہا ہے جو ہسپتالوں کو بھر سکتی ہے۔

تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اومی کرون دوسرے ممالک میں ویسے ہی حالات پیدا کرے گا جیسا اس نے جنوبی افریقہ میں پیدا کیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More