ویکسین سے انکار، جوکووچ کو دیگر ممالک میں بھی مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے

اردو نیوز  |  Jan 15, 2022

سربیا سے تعلق رکھنے والے عالمی نمبر ون ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کے ساتھ ویکسینیشن کے مسئلے پر آسٹریلیا میں پیش آنے والا معاملہ ابھی تک کسی ایسی کروٹ نہیں بیٹھا جس سے آسٹریلین اوپن میں ان کی شرکت کی صورت حال واضح ہوسکے۔

نووواک جوکووچ اس وقت آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا میں موجود ہیں، البتہ ویکسینیشن کے معاملے پر ان کے موقف نے انہیں مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

آسٹریلیا میں موجود کھلاڑی نے ویکسین لگائے بغیر ملک میں رہنے کا حق استعمال کرنا چاہا تھا تاہم آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ان کا ویزہ دوسری مرتبہ منسوخ کردیا گیا۔

آسٹریلین میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طبی بنیادوں پر کیے گئے فیصلے کے بعد نوواک جوکووچ کو تحویل میں لے کر ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ کے لیے ان پر تین برس کے ویزہ کی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر برائے امیگریشن الیکس ہاک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے نوواک جوکووچ کا ویزہ منسوخ کرنے کا فیصلہ مفاد عامہ اور صحت کی وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔

آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں نوواک جوکووچ کا پیر کے روز میچ شیڈول ہے۔

ویکسینیشن سے استثنیٰ کے موقف پر قائم سربین ٹینس سٹار عالمی نمبر ون ہونے کے ناطے آسٹریلین اوپن کے بعد دیگر ٹورنامنٹس میں بھی شریک ہوں گے، البتہ حالیہ معاملے کے بعد یہ واضح نہیں کہ ان ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنے والے ممالک نوواک جوکووچ کو خوش آمدید کہیں گے یا نہیں۔

2022 کے اے ٹی پی ٹور کیلنڈر کے مطابق نوواک جوکووچ نے آسٹریلین اوپن کے بعد دیگر ٹورنامنٹس میں بھی شرکت کرنی ہے۔ وبائی صورت حال کی وجہ سے آئندہ چھ ماہ کے لیے جاری کردہ شیڈول میں قرطبہ اوپن، فرنچ اوپن، انڈیا میں ٹاٹا اوپن، اے بی این ایمرو ورلڈ ٹینس ٹورنامنٹ، ارجنٹائن اوپن، ڈیلاس اوپن، قطر اوپن، دبئی ڈیوٹی فری ٹینس چیمپئین شپ، میامی اوپن، بارسلونا اوپن، سربیا اوپن، بی ایم ڈبلیو اوپن جنیوا اوپن، ومبلڈن چیمپئن شپ جیسے مقابلے ہونے ہیں۔

ان ٹینس ٹورنامنٹس کے تقریباً سبھی میزبان ملکوں کی جانب سے بیرونی دنیا سے آنے والے افراد کے لیے ویکسینیشن کو لازم قرار دیا جاتا ہے۔

رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ میں ہونے والے ٹینس ٹورنامنٹس کا اعلان کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو: نوواک جوکووچ)فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کی شام کو آسٹریلیا کے وزیرامیگریشن نے نوواک جوکووچ کا ویزہ منسوخ کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ انہوں نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر طبی تناظر میں یہ اقدام کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیر نے جس قانون کے تحت یہ فیصلہ کیا وہ انہیں اجازت دیتا ہے کہ وہ بطور وزیر کسی کو ممکنہ خطرہ سمجھ کر ڈی پورٹ کرسکتے ہیں۔ سربین کھلاڑی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتے ہیں۔

آسٹریلوی وزیر کے اعلان کے بعد جہاں خدشہ پیدا ہوا کہ اب سربین کھلاڑی کو حراست میں لے کر ڈی پورٹ کردیا جائے گا وہیں مقامی عدالت کی جانب سے یہ ہدایت بھی موجود ہے کہ انہیں اس وقت تک ملک سے نکالا نہیں جا سکتا جب تک سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔ 

نوواک جوکووچ کے کیس کی سماعت اتوار کو متوقع ہے۔

عدالت کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ حکومت جوکووچ کو تحویل میں لے سکتی ہے البتہ انہیں اتوار کی سماعت کی تیاری کے لیے وکیل تک جانے کی اجازت ہوگی۔

ابتدائی سماعت میں سربین کھلاڑی کی قانونی ٹیم نے آسٹریلوی وزیر کی جانب سے ویزہ منسوخ کرنے کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔

حکومتی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ویزہ منسوخ کرنے کی وجہ ان کا پبلک کے لیے خطرناک ہونا نہیں بتایا گیا بلکہ ویکسینیشن مخالف جذبات میں ممکنہ اضافے اس کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

 سربین کھلاڑی طویل عرصے سے عالمی نمبر ون کی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہیں (فائل فوٹو: نوواک جوکووچ)سربین کھلاڑی نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ہے البتہ وہ اب تک ویکسین مخالف کسی مہم کا حصہ بھی نہیں رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں ویکسینیشن کی مخالفت کرنے والے افراد نے #IStandWithDjokovic  ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے نوواک جوکووچ سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔

نوواک جوکووچ اس سے قبل نو مرتبہ آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ پیر سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کی صورت میں اگر وہ ٹرافی جیتتے ہیں تو یہ ان کا 21 واں گرینڈ سلام ٹائٹل ہوگا جو انہیں دنیائے ٹینس کا سب سے کامیاب مرد کھلاڑی بنا دے گا۔

ابھی تک نوواک جوکووچ ٹورنامنٹ کے ڈرا کا حصہ ہیں جس کے تحت انہوں نے پیر کے روز اپنے ہم وطن کھلاڑی میرمر کسمانووچ کا سامنا کرنا ہے۔

سربین کھلاڑی کا ویزہ پہلی مرتبہ چھ جنوری کو اس وقت منسوخ کیا گیا تھا جب وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے میلبرن پہنچے تھے۔

اس مرحلے پر آسٹریلین بارڈر فورس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ ’ویکسینیشن لگوانے سے استثنیٰ کا کوئی مناسب ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

جوکووچ کا کہنا تھا کہ وہ ویکسینیشن کے خلاف ہیں اور انھیں اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے طبی طور پر استثنیٰ دیا گیا تھا۔

اس کے بعد انہیں کئی روز تک مقامی امیگریشن ہوٹل میں نظربند رکھا گیا۔ جب مقامی عدالت نے ان کا ویزہ بحال کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تو ریمارکس دیے تھے کہ ان کی آمد پر سرحدی حکام نے ضوابط پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا۔

جوکووچ کے وکلا نے کہا تھا کہ انھیں ملک میں داخل ہونے کے لیے عارضی ویزہ دیا گیا تھا اور حال ہی میں ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے انہیں ٹینس آسٹریلیا کی جانب سے 'کووڈ ویکسینیشن سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔‘

آسٹریلین حکومت کی جانب سے پہلی مرتبہ منسوخ شدہ ویزہ عدالت سے بحال ہونے پر سربین کھلاڑی کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے پر جج کے مشکور ہیں، اور جو کچھ ہوچکا ہے اس کے باوجود وہ آسٹریلین اوپن ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔

سربین کھلاڑی کے معاملے پر جہاں بہت سے افراد ان کی حمایت کررہے ہیں اور ویکسین نہ لگوانے کو ان کا ذاتی فعل قرار دے رہے ہیں وہیں بغیر ویکسین کے کھلاڑی کو آسٹریلیا آنے کی اجازت دینے پر آسٹریلوی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس کے بعد آسٹریلوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ’وبائی صورت حال میں مقامی افراد نے مشکلات برداشت کی ہیں، وہ اپنی حفاظت کے لیے ان قربانیوں کا صلہ چاہنے میں حق بجانب ہیں۔‘

خود پر ہونے والی تنقید اور غلط بیانی کے الزام کے بعد 12 جنوری کو سربین کھلاڑی کی جانب سے تفصیلی بیان جاری کیا گیا تھا۔

اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بلغراد میں ان کی مصروفیت اور کورونا ٹیسٹ مثبت ہونے کے بعد عوامی تقریبات اور صحافی سے ملاقات میں بے احتیاطی کا تاثر غلط ہے۔ 

بلغراد میں اپنی سرگرمیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس دوران کئی مرتبہ کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کرائے، ہر ممکن احتیاط کی۔ آسڑیلیا پہنچنے پر سابقہ ٹریول ہسٹری کے بارے میں انہوں نے نادانستگی میں غلط آپشن منتخب کرلیا تھا جسے ان کی ٹیم کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کر کے درست کرا دیا گیا تھا۔

اپنے طویل پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ آسٹریلین اوپن کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ سربین کھلاڑی نے عالمی نمبر ون کی پوزیشن 355 ہفتوں تک اپنے پاس رکھی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More