پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے، گورنر بلوچستان

بول نیوز  |  Jan 15, 2022

گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔

گورنر بلوچستان نے بیوٹمز یونیورسٹی کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام شرکا کا خوش آمدید کہتا ہوں، کوئٹہ طلبا کا ڈگریاں لینا خوش آئند ہے، بیوٹمز کے اساتذہ کے نوجوانوں کو عملی زندگی کے قابل بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج میرے لئے اہم دن ہے، تمام فارغ التحصیل طلباء وطالبات انتھک محنت کی مبارکباد کے مستحق ہیں، صوبے کے ان لوگوں سے مخاطب ہو جو ملک کا مستقبل ہیں، پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے والے ادارے روشن مستقبل ہیں، بلوچستان کے باصلاحیت نوجوان ملک و قوم کو ترقی یافتہ بنائیں گے، والدین کی تربیت کے بعد تعلیمی ادارے ہی ہیرے تراشتے ہیں، طلبا و طالبات اپنی تحقیق سے معاشرے اور ملک کو درپیش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونا ہے۔

گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے تھوری کو عملی شکل دی، ماضی میں تعلیم صرف کانوکیشن تک محدود رہی، بعض اوقات بے روزگار نوجوانوں ساری زندگی روز گار کی تلاش میں رہتے ہیں، نوجوان اپنی تعلیم کو عملی شکل دے کر ملک و قوم کی خدمت کو یقینی بنائے۔

سید ظہور آغا نے کہا کہ بیوٹمز یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے اپنی ایجادات سے روزگار کے مواقع پید کئے، اداروں کو اصل مقصد نوجوانوں کا اپنی صلاحیتوں کو منوانا ہے، نوجوان عملی کام پر زیادہ توجہ دیں، نوجوان اپنی تعلیم کے بل بوتے پر نئی ایجادات کو سامنے لاکر غربت کا خاتمہ کرنے میں کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ زندگی کا اصل مقصد بھی معاشرے کے کام آنا ہے، حضور ﷺ کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، آج بھی انسانیت کی تاریخ میں پہلا نام حضور ﷺ کا ہے، نبی پاک نے انسانیت کیلئے کام کیا۔

گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے مزید کہا کہ نوجوان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنائے، نوجوان آج مسلسل اور انتھک محنت کو شعار بنانے کا عہد کریں، گولڈ میڈل لینے اور ڈگریاں لینے والے انسانیت کی خدمت میں مقابلے کا رجحان برقرار رکھیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More