بھارت میں کورونا بے قابو، ساڑھے 3 لاکھ کے قریب کیسز اور 703 اموات رپورٹ

بول نیوز  |  Jan 21, 2022

نئی دہلی: بھارت میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 3 لاکھ 47 ہزار سے زائد کیسز اور 703 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھارت میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 47 سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جبکہ گذتہ روز کے مقابلے میں 29 ہزار 722 زیادہ کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز بھارت میں 3 لاکھ 17 ہزار 532 کیسز رپورٹ کیے گئے تھے جبکہ بھارت میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کوویڈ کیسز 8 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

انڈیا کے وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گذشہ 24 گھنٹوں میں اس مہلک وائرس سے 703 افراد موت کے گھاٹ اترے جبکہ ملک میں اب تک اس وائرس سے 4 لاکھ 88 ہزار 396 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق بھارت میں کورونا کے ساتھ ساتھ اومیکرون کے کیسز میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4 اعشاریہ 36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اس کی تعداد 10 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اس مہلک وائرس سے ڈھائی لاکھ کے قریب افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں جبکہ بھارت میں اب تک 3 کروڑ 60 لاکھ 58 ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست کرناٹکا میں کوویڈ متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ بھارت میں اب تک 1 ارب 60 کروڑ 43 لاکھ سے زائد افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گذشتہ روز سے کیسز کی تعداد آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی جارہی ہے جبکہ وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلے میں اومیکرون کم ہے کیونکہ اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں اور اموات میں اتنا اضافہ نہیں جس طرح گذشتہ سال دیکھا گیا تھا۔

دوسری جانب چنئی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی سے تعلق رکھنے والے ترون بھٹناگر کا کہنا تھا کہ انفیکشن میں موجودہ رن اپ کا اثر ایک وقفے کے بعد ظاہر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کا پھیلاؤ ؛بھارت میں بین الاقوامی پروازوں پر پابندی میں توسیع

انہوں نے کہا کہ ہمیں اسپتالوں میں داخل ہونے والے اور اموات کے بارے میں کوئی نئی حکمتِ عملی اپنانی چاہیئے کیوںکہ یہ لہر بھی کافی متاثر کر سکتی ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More