جاپان، آسٹریلیا میں لائٹیں بند کرنے کی اپیل، کیا اس سے بحران ٹل جائے گا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 30, 2022

Getty Imagesجاپان میں گرمی کی لہر نے بجلی کے استعمال میں اضافہ کر دیا ہے۔

کیا آپ دن میں کئی گھنٹے لائٹ بند کر سکتے ہیں؟ یہ درخواست جاپان اور آسٹریلیا کی حکومتوں نے اپنے اپنے شہریوں سے کی ہے۔

جاپان نے دارالحکومت ٹوکیو اور اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بجلی کم استعمال کریں، اور خاص طور پر دوپہر تین بجے سے تین گھنٹے کے لیے غیر ضروری لائٹس بند کر دیں۔

سنہ 1875 میں درجہ حرارت کی پیمائش کے ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے جاپان اب تک کی بدترین گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔

اس دوران حکومت لوگوں کو گرمی کی لہر سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشننگ کا استعمال کرنے کا مشورہ دے رہی ہے کیونکہ گرمی سے متاثر ہونے والے افراد کے ہسپتال میں داخل ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز ریاست جس میں ملک کا سب سے بڑا شہر سڈنی شامل ہے، کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شام 6 بجے سے رات 8 بجے کے درمیان بجلی استعمال کرنے سے گریز کریں۔

آسٹریلیا کی مرکزی ہول سیل بجلی کی مارکیٹ کے ریگولیٹرز (Aemo) توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بجلی کی سپاٹ خرید و فروخت کو پہلے ہی معطل کر چکے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں توانائی کی سپلائی کے استحکام کو خطرہ بنانے والا بحران گہرا ہو رہا ہے۔

آسٹریلیائی انرجی مارکیٹ آپریٹر (Aemo) نے پچھلے بدھ کو اپنی تاریخ میں پہلی بار بجلی کی پوری قومی مارکیٹ کو معطل کرنے کا سخت قدم اٹھایا۔

دونوں ممالک ان دنوں شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہفتے کے آخر میں وسطی ٹوکیو میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا جبکہ دارالحکومت کے شمال مغرب میں واقع شہر ایساساکی میں 40.2 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جو جاپان کے لیے جون میں ریکارڈ کیا گیا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے معاملے میں آسٹریلین بیورو آف میٹرولوجی کی ماہر سارہ سکلی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ سردی کی لہر کی وجہ سے درجہ حرارت 6 اور 10 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان معمول سے کم ہو گیا ہے۔

گرمی اور سردی کی اس لہر میں دونوں ملکوں کے اپنے شہریوں سے بجلی کے کم استعمال کرنے کی اپیل کے پیچھے ایک ہی مسئلہ ہے: توانائی کی کمی۔

صرف ایئر کنڈیشننگ

جاپان کی حکومت کا اندازہ ہے کہ گرمی کے دن گزرتے ہی ملک کی توانائی کی سپلائی میں کمی واقع ہو جائے گی۔ اگرچہ دنوں ممالک میں بحران کی وارننگ بڑھ گئی ہے، تاہم حکام نے درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ توانائی کے بحران کے کئی ہفتوں کا انتباہ دیا ہے۔

وزارت اقتصادیات، تجارت اور صنعت نے کہا کہ غیر ضروری لائٹس کو بند کر دیا جائے مگر ساتھ ساتھ انھوں نے گرمی کے دوران ممکنہ صحت کی خرابی، سر چکرانے سے بچنے کے لیے ’ایئر کنڈیشننگ کے صحیح استعمال اور گرم اوقات میں پانی کے زیادہ استعمال‘ کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

گذشتہ اتوار کو حکومت نے متنبہ کیا تھا کہ اسے خدشہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی آئے گی اور اس وجہ سے مستحکم سپلائی برقرار رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔

Getty Imagesآسٹریلیا میں کوئلے کی کم فراہمی نے حکام کو توانائی کی کھپت کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔

اگرچہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے اس کی سپلائی بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن وزارت نے کہا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ صورت حال ’غیر متوقع‘ ہو جائے گی۔

حکومتی ترجمان نے کہا ’اگر طلب میں اضافے اور سپلائی کے مسائل اچانک بڑھتے ہیں تو مطلوبہ ریزرو مارجن روایتی تین فیصد کی سطح سے کم ہو جائے گا۔‘

آسٹریلیا کے وزیر توانائی کرس بوون نے کہا ہے کہ اگر ’ان کے پاس یہ امکان ہے‘ تو لوگوں کو شام کے وقت کی حد میں بجلی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جتنا بھی ممکن ہو کم توانائی استعمال کریں۔

پابندی والے اقدامات کے باوجود وہ ’قائل‘ ہیں کہ مکمل ’بلیک آؤٹ‘ سے بچا جا سکتا ہے۔

کوئی سامان نہیں

جاپان کی بجلی کی فراہمی میں اس وقت سے کمی ہو رہی ہے جب اس کے شمال مشرقی علاقے میں گذشتہ مارچ میں آنے والے زلزلے نے کچھ جوہری پاور پلانٹس کو متاثر کیا تھا اور وہاں کام روکنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بجلی کی بچت کیسے کی جائے؟ ان سات چیزوں کا خیال رکھیں

’کے الیکٹرک، وبا کے دوران کراچی کے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کرنے کا شکریہ‘

’انسانی ناکامی کی مایوس کن داستان‘: پاکستان، انڈیا میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹنے کے امکانات 100 گنا زیادہ

انھوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے کے لیے عمر رسیدہ فوسل فیول پلانٹس کو بھی بند کر دیا ہے۔

جب ہم آسٹریلیا کی بات کرتے ہیں تو ہم دنیا میں کوئلے اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ملک کی تین چوتھائی بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے۔

Getty Imagesدنیا بھر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں آسٹریلیا سپلائی میں رکاوٹ کا شکار ہے۔ ایک طرف سال کے آغاز میں سیلاب نے کوئلے کی کچھ کانیں متاثر کی تھی تو دوسری طرف آسٹریلیا کی کوئلے سے چلنے والی بجلی کی پیداواری صلاحیت کا تقریباً ایک چوتھائی غیر متوقع بندش اور طے شدہ دیکھ بھال کی وجہ سے فی الحال کام نہیں کر رہا۔

زیادہ مانگ، کم ریزرو، بلند قیمت، ایئر کنڈیشننگ یا ہیٹنگ کی ضرورت کی وجہ سے دونوں ممالک میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت میں بھی اضافہ۔ اور یہ ایک عالمی رجحان ہے۔ پہلے ہی پچھلے سال کے دوران یورپ میں بجلی کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ستمبر میں قیمتیں کئی ہفتوں تک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ سپین میں شہریوں کو مخصوص اوقات میں لائٹس بند کرنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا، لیکن ایسے اقدامات کیے گئے جن سے بلاشبہ لوگ بجلی استعمال کرنے کی اپنی عادت میں تبدیلی لانے پر آمادہ ہوئے تھے۔

جون سنہ 2021 تک قیمت کا ایک خاکہ بنایا گیا تھا جہاں پیک، فلیٹ اور کم استعمال کے اوقات میں فرق ظاہر کیا گیا تھا۔ اس طرح، یہ بتایا جا رہا ہے کہ جن اوقات میں واشنگ مشین لگانا سستا ہے وہ رات 12 بجے سے صبح 8 بجے کے درمیان کا وقت ہے اور سب سے مہنگا ٹائم سلاٹ، صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اور شام 6 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان ہے۔

اس وقت پہلے سے ہی توانائی کے ذخائر کم تھے اور یہ ایک ایسا منظر نامہ بنا جہاں طلب بڑھ رہی تھی لیکن سپلائی نہیں ہو رہی تھی۔

اس میں خام مال کا بحران بھی شامل تھا، معیشت کے دوبارہ کھلنے کے بعد درآمدات کی کمی محسوس کی گئی تھی۔ ان کی درآمدات میں وبا کی وجہ سے کمی واقع ہوئی تھی، جس میں اب بہتری آ رہی ہے۔

ان کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کے اس بحران کے لیے فروری میں شروع ہونے والی روس اور یوکرین کی جنگ نے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں۔ روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے کوئلے اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث کچھ پاور پروڈیوسرز نے اپنی قیمتوں میں اضافہ دیکھا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More