اپنے گھر یا کمرے کو منظم اور صاف ستھرا رکھنے کا کیا راز ہے اور یہ 80/20 کا طریقہ کیا ہوتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

BBC

کیا آپ کو اس بات پر جھنجلاہٹ ہوتی ہے کہ تمام تر کوشش کے باوجود آپ اپنا گھر صاف ستھرا اور منظم کیوں نہیں رکھ پاتے؟ اگر ایسا ہے تو یہ مضمون آپ کی مدد کر سکتا ہے۔

کیلی شیرر اور جوانا ٹیپلن مل کر کام کرتی ہیں اور نیٹ فلکس پر آنے والے اپنے شو 'گیٹ آرگنائزڈ ود دی ہوم ایڈیٹ' کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔ اس شو میں وہ ہالی وڈ ستاروں اور عام لوگوں کے گھروں میں جاتی ہیں اور ان کے بے ہنگم کمروں اور گھروں کو خوبصورتی سے ترتیب دینے اور فعال کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

ٹی وی سیریز کے علاوہ ’دی ہوم ایڈیٹ‘ ایک لائف سٹائل برانڈ بھی ہے جو کئی امریکی شہروں میں ’مکمل تنظیمی خدمات‘ پیش کرتا ہے اور اسے رواں برس کے آغاز میں اداکارہ ریس کی ’ہیلو سن شائن‘ کمپنی نے خریدا ہے۔

کیلی شیرر اور جوانا ٹیپلن فروخت کا ریکارڈ بنانے والی ’دی ہوم ایڈیٹ لائف‘ کی مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد پراڈکٹ لائنز کی تخلیق کار بھی ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام 'وویمن آور' میں کیلی اور جوانا نے چند ٹپس دی ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھ سکتے ہیں۔

اپنے سامان کو ایڈیٹ (ترمیم) کیجیے

جوانا کہتی ہیں کہ ’ترمیم کرنا ہمارے نظام کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ہم نے لفظ ایڈیٹ (ترمیم) کو اپنے پروگرام کے نام کا حصہ بنایا ہے کیونکہ یہ ناصرف بہت ضروری ہے بلکہ صفائی کی جانب پہلا قدم بھی۔‘

’ایڈیٹنگایک ایسا عمل ہے جس پر آپ کا کوئی خرچہ نہیں آتا۔ آپ کے گھر میں جتنی چیزیں ہیں انھیں باہر نکالیں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ آپ نے گھر یا کمرے میں کیا کچھ بھر رکھا ہے۔ ان اشیا کی لسٹ بنائیے جنھیں آپ روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو آپ کی ضرورت ہیں یا وہ اشیا جن سے آپ کو محبت ہے۔ اب یہ دیکھیے کہ وہ تمام اشیا جو نا تو استعمال میں آتی ہیں، یا جن کی آپ کو ضرورت نہیں پڑتی یا وہ چیزیں جن کے ساتھ آپ کی جذباتی وابستگی نہیں ہے وہ کون سی ہیں اور جلد از جلد ان سے جان چھڑوا لیجیے۔‘

اپنے سسٹم کو سادہ رکھیے

جوانا کہتی ہیں کہ ’ہر شخص کا اپنا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا مقصد سادگی اور ایک ایسے نظام کو ترتیب دینے کا ہے جو پائیدار ہو اور آسانی سے برقرار رہ سکے۔‘

’اور ایسا کرتے ہوئے صرف اپنے بارے میں مت سوچیے، اس سسٹم کو اس انداز میں ترتیب مت دیجیے کہ آپ سے منسلک افراد یا گھر کے دوسرے فرد اس کو درست انداز میں چلا نہ سکیں، یعنی آپ کا بنایا ہوا نظام دوسرں کی سمجھ ہی میں نہ آئے یا انھیں اس پر عمل کر مشکل لگے۔ اگر نظام آسان ہو گا تو اس کی پیروی کرنا ہر کسی کے لیے سہل ہو گا۔‘

کیلی شیرر کہتی ہیں کہ ’نظام اس وقت بہتر ہوتے ہیں جب انھیں آسان بنایا جاتا ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ اگر ہم دروازے کے ساتھ جوتے کا ریک ان لوگوں کے لیے رکھ دیں جو اپنے جوتے اس میں رکھنا چاہتے ہیں۔ کیا آنے والوں کو اپنے جوتے بالکل سیدھے اور ترتیب میں رکھنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، اگر یہ آپ کے لیے اہمیت رکھتا ہے، تو یہ آپ کا مسئلہ ہے اور اس کا خیال رکھنا آپ پر منحصر ہے۔‘

’ایک نظام ایک ایسی چیز ہے جس میں ہر فرد کو حصہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور اس پر عمل نہیں کرتا ہے، تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا بنایا گیا نظام بہت پیچیدہ ہے۔‘

کنٹینرز/ ڈبوں کا استعمال کریںBBC

جوانا کہتی ہیں کہ ’اپنی چیزیں ترتیب دینے کے لیے کنٹینرز اور ڈبوں کا استعمال کریں۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ کنٹینر یا ڈبے پر لیبل چسپاں کریں کہ اس کے اندر کیا ہے۔ ہر چیز پر لیبل لگائیں، خاص طور پر ان چیزوں پر جنھیں آپ باکس کے اندر نہیں دیکھ سکتے۔‘

’یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے سامان کو اس طریقے سے اور ترتیب سے رکھیں کہ جو جگہ (جیسا کہ الماری جہاں چیزیں رکھی گئی ہیں)، آپ کی اشیا اور آپ کے روزمرہ کے معمولات کے لیے معنی خیز ہو۔‘

’درازوں کی باقاعدہ پیمائش کریں اور انھیں چھوٹے اور بڑے خانوں میں تقسیم کر لیں۔ شروع میں شاید یہ آپ کے لیے کام نہ کریں تو ایسی صورت میں طریقہ یہ ہے کہ اس میں ردوبدل کریں اور چیزوں کی جگہیں بدلتی رہیں اس وقت تک جب تک آپ اطمینان محسوس نہ کرنے لگیں اور اپنی نئی سیٹنگ سے خوش نہ ہو جائیں۔‘

20 فیصد خالی رکھنے کا اصول

کیلی کہتی ہیں کہ ’اگر آپ طویل مدت کے لیے ایک منظم گھر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کے پورے گھر میں کبھی بھی ایسی جگہ نہیں ہونی چاہیے جو اپنی گنجائش سے 80 فیصد سے زیادہ بھری ہوئی ہو۔ یعنی ہر الماری، دراز اور خانے میں 20 فیصد جگہ خالی چھوڑ دیں۔‘

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ وضاحت کرتی ہیں کہ ’یہ ایسا ہی ہے جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو آپ کو اپنا پیٹ سو فیصد نہیں بھر لینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا آپ کی طبعیت پر گراں گزرے گا اور آپ بے چینی کا شکار ہو جائیں اور آپ کے پیٹ میں میٹھا کھانے کے لیے جگہ نہیں بچے گی۔‘

’لہذا ایسی جگہ جو 80 فیصد سے زیادہ بھری نہ ہو وہ آپ کو زندگی میں ایک وقفہ فراہم کرتی ہے۔ اور اگر الماری یا کچن میں کوئی نئی چیز آتی ہے تو اسے رکھنے کے لیے آپ کو فوری طور پر کوئی چیز ہٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔‘

خوبصورت بنائیںBBC

کیلی کہتی ہیں ’پہلے گھر یا کمرے میں موجود جگہوں کو فعال بنائیں اور پھر انھیں خوبصورت بنانے پر توجہ دیں۔‘

’کمرے یا گھر میں ایسی اشیا نصب کریں جنھیں دیکھ کر آپ کو خوشی کا احساس ہو۔ اور یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ خاندان کی تصاویر، ایک تفریحی وال پیپر، یا کتابوں کو ترتیب سے ایک ریک میں رکھنا۔‘

رکاوٹوں کو دور کریں

جوانا کہتی ہیں کہ ’خیال یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ رکاوٹوں کو شروع سے ہی دور کیا جائے، اس لیے اشیا کو اتنا اونچا نہ رکھیں کہ آپ کو انھیں اٹھانے کے لیے سیڑھی تلاش کرنا پڑے۔‘

’رکاوٹوں کو دور کریں تاکہ گھر کے ہر فرد ہر چیز کو صاف ستھرا رکھ سکے۔‘

اپنی کیبلز لپیٹیں

کیلی کہتی ہیں کہ ’الیکٹرانک آلات جیسے پرنٹرز اور لیپ ٹاپ وغیرہ کے ساتھ بہت سی تاریں منسلک ہوتی ہیں۔‘

’تاروں کو بکھرنے سے روکنے کے لیے کلپس کا استعمال کریں جس کی مدد سے یہ بے ترتیب انداز میں بکھریں گی نہیں۔‘

اس کام کو آسان بنائیے

کیلی کہتی ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے تمام کام کو آہستہ اور بانٹ کر کریں۔

’(گھر کو ترتیب دینے کے) پورے منصوبے پر ایک ساتھ کام مت شروع کریں۔ ایک ترتیب بنائیں اور پھر مرحلہ وار اس کا آغاز کریں۔۔۔ جب منظم ہونے کی بات آتی ہے تو اس کام میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ یاد رکھیں، یہ ایک عمل ہے اور اس کے دوران آپ واقعی کسی بھی حصے کو نہیں چھوڑ سکتے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More