چندی گڑھ کی نجی یونیورسٹی میں نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آٹھ لڑکیوں کی مبینہ خودکشی کی کوشش، طلبا کا احتجاج

بی بی سی اردو  |  Sep 18, 2022

BBCیونیورسٹی میں ہنگامے کے بعد کی تصویر

انڈیا کے شہر چندی گڑھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں آٹھ طالبات نے قابل اعتراض ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مبینہ خودکشی کی کوشش کی ہے جس کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار گرومندر سنگھ گریوال کے مطابق انڈیا کے معروف شہر چندی گڑھ کے قریب ایک نجی یونیورسٹی میں سنیچر کی رات دیر گئے کم از کم آٹھ لڑکیوں نے مبینہ خودکشی کی کوشش کی جس کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی۔

تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے کسی بھی لڑکی کے خودکشی کرنے کی کوشش سے انکار کیا ہے اور اسے افواہ قرار دیا ہے۔

اس نجی یونیورسٹی کے طلبا کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک لڑکی یہ اعتراف کرتی نظر آرہی ہے کہ اس نے ساتھی لڑکیوں کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنائی تھی۔ الزام ہے کہ اس لڑکی نے ساتھی لڑکیوں نہاتے ہوئے کی قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیجی جس نے یہ ویڈیوز وائرل کر دیں۔

یونیورسٹی کے ترجمان نے طالبات کی مبینہ خودکشی کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ میڈیا کی افواہیں ہیں۔

تاہم یونیورسٹی کیمپس میں پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولینسز بھی نظر آئیں جن میں کچھ لڑکیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ یونیورسٹی کی ہی ایک اور ویڈیو میں کچھ طالبات کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے جنھیں مقامی ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار گرومندر سنگھ گریوال کے مطابق مبینہ خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبات میں سے چند کی حالت تشویشناک ہے۔ انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق طالبہ کی موت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے لیکن پولیس نے اسے افواہ قرار دیا ہے۔

یہ معاملہ اتوار کو تقریباً تین بجے پولس کے علم میں آیا اور پولس ابھی تک اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم پولیس نے اب تک اس معاملے میں باضابطہ طور پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔

موہالی کے ایس ایس پی وویک سونی نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک پولیس کو ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہو کہ طالبات نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ طالبات کو ہسپتال لایا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں کی اب تک کی میڈیکل رپورٹس میں خودکشی کی کوشش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر یقین نہ کریں اور اس معاملے میں کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

پنجاب کی خواتین کی ترقی اور سماجی انصاف کی وزیر بلجیت کور نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر متاثرہ طالبات سے ملاقات کریں گی اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ معاملہ کیا ہے؟

یونیورسٹی کی کچھ طالبات کی جانب سے میڈیا کو بھیجے گئے آڈیو پیغام میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ہاسٹل کی ایک طالبہ نے دوسری طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔

پہلے خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ویڈیو چار لڑکیوں کی ہے لیکن وائرل ہونے والی آڈیو میں ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ اس میں لڑکیوں کی بہت سی ویڈیوز ہیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس پر کوئی سخت کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبہ کی ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پہلے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے خود معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن حالات قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر پولیس کو طلب کر لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایم ایم ایس وائرل کرنے والی لڑکی کے خلاف تھانہ کھرڑ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لڑکی کو تحویل میں لے کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور جلد ہی اس کی گرفتاری متوقع ہے۔

اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد طلبہ پرامن ہو گئے ہیں۔ یونیورسٹی نے کیمپس کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

پنجاب کے وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے ٹویٹ کرتے ہوئے طلبا سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور ماؤں بہنوں کی عزت سے جڑا ہے، میڈیا سمیت ہم سب کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

پنجاب ویمن کمیشن کی چیئرپرسن منیشا گلاٹی نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس معاملے پر ایس ایس پی اور ڈی سی سے بات کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس یونیورسٹی کا بھی دورہ کریں گی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے متاثرہ لڑکیوں سے ہمت سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’چنڈی گڑھ یونیورسٹی میں ایک لڑکی نے کئی طالبات کی قابل اعتراض ویڈیو ریکارڈ کر کے اسے وائرل کر دیا ہے، یہ بہت سنگین اور شرمناک ہے۔ اس میں ملوث تمام مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔ متاثرہ بیٹیوں میں ہمت ہے۔ ہم سب تم سے پیار کرتے ہیں۔ ہم ساتھ ہیں سب کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا: نوجوان خواتین میں خودکشی کی شرح 40 فیصد

معروف انڈین تعلیمی اداروں کے طلبا میں خودکشیوں کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

انڈیا میں ہر 25 منٹ بعد ایک گھریلو خاتون خودکشی کیوں کرتی ہے؟

ویڈیو کس نے وائرل کی؟

ایک دوسری وائرل ویڈیو میں ہاسٹل وارڈن ملزم لڑکی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ جس میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس نے کچھ ویڈیوز بنا کر شملہ میں رہنے والے ایک لڑکے کو بھیجی تھیں۔

وارڈن نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا جس کا لڑکی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More