انٹرنیٹ پر دھوکہ: سیکس چیٹ کرنے والی پُرکشش خاتون، ممکن ہے دراصل نائجیریا میں بیٹھا کوئی مرد ہو

بی بی سی اردو  |  Sep 22, 2022

امریکہ میں موجود 50 سالہ شخص ایک سفید فام خاتون کے ساتھ آن لائن محوِ گفتگو ہے۔ سفید فام خاتون کی آن لائن پروفائل کے مطابق وہ ایک ماڈل ہیں، اُن کا نام ’جنجر ہنی‘ ہے اور وہ کافی دلکش ہیں۔ خاتون کی پروفائل تصویر میں انھیں بستر پر الٹا یا منھ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سفید فام شخص کا خیال ہے کہ جس خاتون سے وہ بات کر رہے ہیں وہ کہیں اُن کے آس پاس کے علاقے میں ہی رہتی ہوں گی لیکن انھیں بالکل اندازہ نہیں کہ سفید فام ماڈل کے بہروپ میں اُن سے بات کرنے والا دراصل ایک مرد ہے جو امریکہ نہیں بلکہ نائجیریا بیٹھ کر اُن کا دل لبھا رہا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر سے مرد بالغوں کی ویب سائٹس کو سینکڑوں ڈالر صرف اس لیے ادا کرتے ہیں تاکہ وہ پُرکشش نظر آنے والی خواتین سے گفتگو کر سکیں۔ مگر جھانسے میں آ کر وہ جس پرکشش خاتون سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں وہ خاتون ہو یہ ضروری نہیں، وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

کئی ماہ تک شواہد اکٹھے کرنے کے بعد یہ پتا چلا کہ فیک پروفائلز کے پیچھے ایک عالمی نیٹ ورک ہے جوبالغوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوںکے لیے بنے سخت قوانین کو توڑتا ہے۔

نائیجیریا میں یونیورسٹی کے طالب علم ایبیودون (فرضی نام) ایک ایسے ہی موڈریٹر ہیں جو ڈچ کمپنی ’میٹیور انٹریکٹو بی وی‘ کی ڈیٹنگ ویب سائٹ پر جعلی پروفائلز چلاتے ہیں۔

ایبیودون اس ویب سائٹ پر درجنوں پروفائلز بدل بدل کر استعمال کرتے ہیں لیکن ہر دفعہ وہ ایک پرکشش سفید فام عورت بنتے ہیں۔

ایک سائٹ پر وہ ’جنجر ہنی‘ ہیں، ایک ایسی 21 سالہ ماڈل جس نے شہوت انگیز انداز میں ایک گلابی رنگ کا لحاف اپنی کمر پر لپیٹ رکھا ہے۔

BBCویب سائیٹ پر موجود جعلی پروفائلز

بطور ’جنجر ہنی‘ وہ خود کو ہنی (شہد) کے بعد بہترین چیز قرار دیتی ہیں اور مردوں سے کہتی ہیں انھیں جنجر بلائیں کیونکہ یہی اُن کے بالوں کا رنگ ہے۔

ایبیودون کے کمپیوٹر میں ایک فولڈر ہے جس میں جنجر ہنی کی متعدد فحش تصاویر ہیں جو وہ اپنے گاہکوں کو اس وقت بھیجتے ہیں جب گاہک مزید شہوت انگیز تصاویر کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پروفائل سمیت ساری تصاویر مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی سٹاک تصاویر ہیں۔

ایبیودون اکیلے نہیں ہیں جنھیں ججنر ہنی کی پروفائل تک رسائی حاصل ہے۔ درجنوں دوسرے چیٹ موڈریٹر ہیں جو چوبیس گھٹنے شفٹس میں اس فیک پروفائل کو استعمال کرتے ہیں۔

ایبیودون جیسے موڈریٹرز ججنر ہنی کی لوکیشن گاہک کے علاقے کے 50 کلومیٹر کے اندر دکھانے کے لیے جدید میپ ٹول استعمال کرتے ہیں۔

یہ ویب سائٹ آنے والوں کے لیے مفت ہے یعنی اس کی کوئی فیس نہیں مگر جب ایک بار آپ اس ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں تو آپ کو کوئی نہ کوئی پیکچ چننا پڑتا ہے جو چھ ڈالر سے 300 ڈالر تک ہیں۔ اور ایک پیکچ منتخب کرنے کے بعد آپ اپنی پسند کی عورتوں سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’جنسی ویڈیوز کی فروخت کے لیے سنیپ چیٹ کا استعمال‘

کیا آن لائن سیکس حقیقی تعلقات کی کمی کو پورا کر سکتا ہے؟

رومانس فراڈ: گھر بسانے کا جھانسہ دے کر خاتون سے تین لاکھ پاؤنڈ کیسے بٹورے گئے؟

ایبیودون کا کہنا ہے کہ ’نوجوان گاہک خواتین سے ذاتی طور پر ملنا چاہتے ہیں جبکہ بڑے عمر کے گاہک صرف سیکس چیٹ اور شہوت انگیز تصاویر سے ہی مطمئن ہو جاتے ہیں۔‘

ایبیودون اور دیگر موڈریٹرز کا کام ہے کہ وہ اس ویب سائٹ کے صارفین یعنی گاہکوں کی تعداد برقرار رکھیں۔

موڈریٹرز کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ گاہک کو بھیجنے والے اپنے پیغام کو کم سے کم 150 الفاظ تک محدود رکھیں اور اپنے جملے کا اختتام ایسے کریں کہ بات جاری رہے۔

ایبیودون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک کسٹمر سروس کی طرح ہے، صرف یہ ہے کہ گاہک سوچتا ہے کہ وہ سی ای او سے بات کر رہا ہے۔‘

Getty Images

’میٹیور انٹریکٹو بی وی‘ سرینیم میں ایک آؤٹ سورس کمپنی لاجیکل ماڈریشن سلوشن (ایل ایم ایس )کو استعمال کرتی ہے جو اس کے لیے نائیجریا میں عملہ بھرتی کرتی ہے اور ان کی تربیت کرتی ہے۔

بی بی سی نے ایل ایم ایسکے واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سکائپ اکاؤنٹس پر شواہد دیکھے جن سے پتا چلا کہ کمپنی نے سینکڑوں افراد کو بھرتی کیا اور تربیت دی جن میں زیادہ تر افراد نائیجریا کے علاقوں لاگوس گور ابوجا سے ہیں۔

چیٹ ماڈریٹرز کی نوکریاں انسٹا گرام، ٹویٹر اور ٹیلی گرام پر پوسٹ کی جاتی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ نائیجریا کے بیروزگار پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے آن لائن ملازمت، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی ملازمت دستیاب ہے تاہم یہ نہیں بتایا جاتا کہ انھیں بالغوں کے لیے مواد سے متعلقہ کام کرنا ہو گا۔

ایل ایم ایس میں بھرتیاں کرنے والی ایک اعلی اہلکار ایڈیڈالمول یوسف جرمنی میں مقیم ہیں۔ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملازمتوں کے اشتہار دیتی ہیں۔ ان کے ساتھ وہ پُرکشش مقامات پر چھٹیوں کی تصاویر بھی پوسٹ کرتی ہیں۔

ان کی ملازمت نائیجریا اور جرمنی دونوں میں قانونی ہے، وہ اپنے بھرتی ہونے والے ملازمین سے پہلے دن واٹس ایپ پر خود بات کرتی ہیں۔

وہ دو سال سے موڈریٹرز کی بھرتیاں کر رہی ہیں۔ گذشتہ برس نومبر میں سینکڑوں لوگوں نے یہ نوکریاں حاصل کی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

انگلش زبان کا سخت ٹیسٹ پاس کر نے والے ایک نئے بھرتی شدہ عملے کو تربیت فراہم کرنے والے ایک انسٹرکٹر نے بتایا کہ’مغرب سے زیادہ تر مرد بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔‘

ایل ایم ایس کے نائیجریا میں ڈائریکٹرنکولس اکانڈے نے قریبا 100 افراد کو جولائی کے پہلے ہفتے میں بھرتی کیا اور انھیں بتایا کہ یہ ملازمت قانونی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کی جانب سے کی گئی درخواست اور سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

چیٹ موڈریٹرز کو ان کے گاہکوں کے علاقے کی تہذیب، اندازہ تحریر اور وہاں گفتگو کے مقبول موضوعات سے متعلق بھی بتایا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقی نظر آئیں۔

ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تربیت کے بعد انھیں ویب سائٹ پر لاگ اِن کی تفصیل دی جاتی ہے جہاں وہ اپنے صارفین کے گھر کا پتا، فون نمبر اور عمر دیکھ سکتے ہیں۔

بی بی سی نے آن لائن ایسے لوگوں کے کمنٹس دیکھے جنھوں نے لکھا تھا کہ انھوں نے ان سے چیٹ کرنے والی عورت سے ملنے کے لیے 300 سے 700 ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اس ویب سائیٹ پر بہت سے ڈالر خرچ کرنے والے ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’میں نے کم از 20 عورتوں سے بات کی لیکن ہر بار جب میں ذاتی طور پر ملنے کی بات کرتا وہ خاموش ہو جاتیں۔‘

ایک اور شخص نے بتایا کہ’میںنے 400 ڈالر یہ سوچ کر خرچ کر دیے کہ یہ اصلی عورتیں ہیں۔‘

ایک اور شخص نے پرکشش عورتوں سے ملنے کی جھوٹی امید میں 300 ڈالر خرچ کیے۔

اُن کا کہنا تھا ’وہ آپ کو یہ کہہ کر باندھ لیتی ہیں کہ وہ آپ کے ہی علاقے میں رہتی ہیں اور آپ سے آج رات ملیں گی۔ آپ پیسے خرچ کرتے ہیں اور جب ملاقات کا مقام طے کرنے لگتے ہیں تو آگے سے بہانے شروع ہو جاتے ہیں۔‘

مزید پڑھیے

ایک جھوٹی شادی اور ڈھائی لاکھ ڈالر کا فراڈ

’چالیس ہزار پاؤنڈ اس شخص کو دے دیے جس سے کبھی نہیں ملی‘

ہش پپی نامی مشہور شخص جسے ایف بی آئی نے بین الاقوامی فراڈیا قرار دیا

میٹیور انٹریکٹو کا کہنا ہے کہ اس کے قواعد و ضوابط میں یہ واضح ہے کہ ان کی کچھ پروفائلز افسانوی ہیں، اور یہ کہ ملاقات ممکن نہیں ہو گی۔

تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس کے موڈریٹرز جعلی لوکیشن کے لیے میپ ٹول کیوں استعمال کرتے ہیں، کیونکہ یہ ملاقات کے لیے گاہک کے دل میں ایک امید پیدا کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان چیٹ موڈریٹر کی سرگرمیاں انٹر نیٹ فراڈ کے دائرہ کار میں آتی ہیں کیونکہ نائیجریا میں فحش اور بالغ مواد شیئر کرنا ممنوع ہے۔

سنہ 205 کا سائبر کرائم قانون

ایسے پیغامات بھیجنا جو حقائق کو مسخ کریں ایسے پیغامات بھیجنا جو اشتعال انگیز ہوں، پورنو گرافی، بے حیائی، فحش یا دھمکی آمیز ہوں رقم دے کر دھوکے سے ایسی خدمات حاصل کرنا

ایک سرکاری اہلکارنے بتایا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا تو ایل ایم ایس کی نائیجیریا میں رجسٹریشن خطرے میں ہو گی۔

ایل ایم ایس کے سربراہ اورینو روز کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے۔

لاکھوں نائیجرین نوجوان بیروز گار ہیں اور اس صورتحال میں ایل ایم ایس نامی کمپنی نئے عملے کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ نائرا یعنی 300 ڈالر سے زائد کی تنخواہ دے کر رام کر رہی ہے۔ یہ تنخواہ نائیجریا میں کئی ملازمتوں میں ملنے والی تنخواہ سے زیادہ ہے۔ اور کام یہ ہوتا ہے کہ انھیں روزانہ مختلف گاہکوں کو 500 پیغامات بھیجنے ہوتے ہیں۔

BBCملازمتوں کےلیے دیے گئے اشتہار

ایبیودون کے خیال میں انٹرنیٹ پر ہونے والے اس دھوکے میں ان کا کردار بہت چھوٹا سا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی محبت کرنے والے یا اپنے کسی دوست کو دھوکہ دینے سے مختلف نہیں جو دنیا میں لاکھوں لوگ کرتے ہیں۔ ‘

اسی دوران اُن کی سکرین پر ’جنجر ہنی‘ کی چیٹ چمکی۔ اس مرتبہ بھی اُن کا گاہک ایک 50 سالہ شخص تھا جو ملاقات کے لیے کہہ رہا تھا۔

جنجر نے جواب دیا ’سوری میں نے اپنے کتے کو واک پر لے کر جانا ہے۔‘

یہ ان بہانوں میں سے ایک ہے جو ان موڈریٹرز کو ایسی درخواستوں کا جواب دینے کے لیے سکھائے گئے ہیں۔

ایبیودون نے یہ ٹیب بند کی اور ایک دوسری کھولی جہاں ان کا پروفائل نیم ایریکا تھا۔ ’ایک ایسا موتی جو آپ کے پاگل تصوارات کو مطمئن کر سکتا ہے۔‘

اور اس مرتبہ لندن میں موجود سیم اُن کے پیغام کے منتظر ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More