یوکرین جنگ: پوتن کے ریزرو فوج بلانے کے اعلان کے بعد سرحد پر ہزاروں شہریوں کی قطاریں

بی بی سی اردو  |  Sep 23, 2022

Reuters / RFE/RL'S GEORGIAN SERVICEسپیڈ اپ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روس، جارجیا کی سرحد پر عوام کی لمبی قطاریں ہیں

روس کے مرد شہری یوکرین کے خلاف جنگ میں حصہ لینے سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو’ریزرو‘ فوجیوں کو وقتی طور پر ’جزوی موبلائز‘ کرنے کا اعلان کیا جس کا مطلب ہے کہ اندازاً تقریباً تین لاکھ شہریوں کو جنگ لڑنے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔

اس اعلان کے بعد سے روس کی سرحدوں پر ملک چھوڑ کر جانے والوں کی قطاریں لگ گئی ہیں تاہم کریملن کا کہنا ہے کہ بالغ مردوں کے روس سے فرار ہونے والی خبریں مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔

حکومتی دعوے کے برعکس جارجیا کے ساتھ روس کی سرحد پر گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پڑوسی ملک جانے والوں میں سے کچھ نے کاروں کی لائنوں اور پیدل کراسنگ پر پابندی سے بچنے کے لیے سائیکلوں کا استعمال کیا ہے۔

ان میں سے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط بی بی سی کی نینا اخمتیلی کو بتایا کہ وہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق 09:00 بجے سے انتظار کررہے تھے اور شام کو دیر گئے سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ایک اور شخص نے بتایا کہ وہ 12 گھنٹے سرحد پر لگی قطار میں انتظار کرتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے روس چھوڑ رہے ہیں۔

جارجیا ان چند پڑوسی ممالک میں سے ایک ہے جہاں روسی بغیر ویزہ کے درخواست دیے داخل ہو سکتے ہیں۔ فن لینڈ، جس کی روس کے ساتھ 1,300 کلومیٹر (800 میل) سرحد ہے، وہاں داخلے کے لیے ویزا کی ضرورت ہوتی ہے، اور فن لینڈ نے راتوں رات سرحد کے قریب رش میں اضافے کی بھی اطلاع دی۔

ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچنے کے قابل دیگر مقامات جیسے استنبول، بلغراد یا دبئی جانے والی پروازوں کے ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں ہیں اور چند فلائٹس میں اب کوئی سیٹ دستیاب نہیں ہے۔ ترک میڈیا نے بھی بڑے پیمانے پر ٹکٹوں کی فروخت میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

Getty Images

جرمنی کی وزیر داخلہ نے جمعرات کو اشارہ دیا کہ ملک چھوڑ کر آنے والے روسیوں کا اُن کے ملک میں خیر مقدم کیا جائے گا۔

لتھوانیا، لٹویا، ایستونیا اور جمہوریہ چیککا کہنا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر آنے والے روسیوں کو پناہ دینے کی پیشکش نہیں کریں گے۔

اس سے قبل بدھ کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو یوکرین میں لڑنے کے لیے ’ریزرو‘ یعنی اضافی فوجیوں کو وقتی طور پر دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد ملک میں بظاہر بدامنی کا ماحول پیدا ہوا ہے۔

یوکرین میں ناکامی جیسی صورتحال کے بعد صدر پوتن نے کہا ہے کہ تقریباً تین لاکھ ریزرو فوجی بلائے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد روس کے مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ایک ہزار سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایسی اطلاعات تھیں کہ ہزاروں شہری احتجاج میں شرکت کرنے کے بجائے ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ فرنٹ لائن پر بھیجے جانے سے بچ سکیں۔

ماسکو سے ترکی کے شہر استنبول اور آرمینیا کے شہر یریوان کے لیے براہ راست تمام پروازیں بُدھ کو فروخت ہو گئیں۔ روس کی سب سے مشہور فلائٹ بکنگ سائٹ ایویا سیلز کے اعداد و شمار کے مطابق اگلے اتوار تک مزید ٹکٹیں دستیاب نہیں ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ماسکو سے جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے لیے کچھ راستے بشمول سٹاپ اوور والوں کے لیے بھی ٹکٹیں دستیاب نہیں جبکہ دبئی کے لیے سستی ترین پروازوں کی لاگت 300,000 روبل یعنی تقریباً 5,000 ڈالر سے زیادہ ہے۔

AFP

روسی شہریوں کے لیے ایک اور مقبول مقام سربیا کا دارالحکومت بلغراد ہے، جہاں روسی شہریوں کے لیے ویزے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میڈیا کے اداروں نے نشاندہی کی کہ ٹکٹوں کی طلب میں اضافے کی وجہ سے وہ راستہ بھی اب آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔

’(فوجی سروس سے بچنے کے لیے کچھ بھی کروں گا‘

جہاں بڑی تعداد میں روسی مرد ملک چھوڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں وہیں دیگر اس لازمی فوجی خدمت سے بچنے کے لیے دیگر منصوبے بنا رہے ہیں۔

ماسکو میں ویاچسلوو نامی شخص کا کہنا تھا کہ وہ اور اس کے دوست مدد کے لیے ڈاکٹروں کی تلاش میں ہیں۔

’ذہنی صحت کے مسائل یا منشیات کی لت کا علاج اچھے بہانے، سستے یا شاید مفت بھی ہیں۔

’اگر آپ نشے کی حالت میں ہیں اور گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار ہیں، تو آپ کا لائسنس چھین لیا جا سکتا ہے اور آپ کو علاج کروانا پڑ سکتا ہے۔ یہ یقینی حل تو نہیں لیکن شاید یہ کام کرے گا اور وہ آپ کو [فوجی سروس میں] نہیں لے جائیں گے۔‘

کلینن گراڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھرتی ہونے سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرے گا ’میں اپنا بازو توڑ دوں گا، میں اپنی ٹانگ توڑ دوں گا، میں جیل جاؤں گا، میں اس (فوجی سروس) سے بچنے کے لیے کچھ بھی کروں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا ’مہلک کھیل‘ میں پوتن نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا؟

’روسی فوجی نشے میں دھت ہو کر حملہ آور ہوتے تھے‘

کیا یوکرین جیسا چھوٹا ملک روس جیسی عالمی طاقت کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے؟

زمینی راستوں کی صورتحال

بی بی سی کی روسی سروس یہ تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ صدر پوتن کی جانب سے فوجیوں کو جزوی طور پر متحرک کرنے کے اعلان کے بعد ٹیلی گرام پر روس چھوڑنے کے لیے ایسے پیغامات کثرت سے آنے لگے جن میں یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا مردوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

Getty Images

ولادیکاوکاز میں چیک پوائنٹ کے ذریعے اپنا ملک چھوڑ کر جارجیا میں داخل ہونے والے الیگزینڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بات کی فکر تھی کہ ہم سرحد کیسے عبور کریں گے۔ لیکن کوئی مسئلہ نہیں تھا، کوئی قطاریں نہیں تھیں۔‘

ان کے مطابق وہ اور تین دوست کار سے روس سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے دو مرد ہیں، جن کی عمریں 35 اور 29 سال ہیں۔

الیگزینڈر اور ان کا ایک دوست ریزرو فوجی ہیں لیکن ان کے مطابق بُدھ کو روسی سرحدی محافظوں کو اس طرح کی معلومات اکٹھی کرنے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔ وہاں موجود اہلکاروں نے معمول کے سوالات پوچھے: جارجیا کے منصوبے وغیرہ اور آگے کا لائحہ عمل۔ ’ابھی تک کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔‘

والیریا (ان کی درخواست پر نام تبدیل کیا گیا) اور ان کے 33 برس کے شوہر کو بھی بغیر کسی سوال جواب کے جارجیا جانے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق انھوں نے بُدھ کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے سرحد عبور کی۔

انھوں نے کہا کہ ’اہلکاروں نے بالکل کچھ نہیں پوچھا، ہم بہت تیزی سے گزر گئے، پورا عمل ایک گھنٹے کے اندر مکمل ہو گیا، ٹریفک جام نہیں ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ رات کو صورتحال بدل جائے گی۔‘

ان کے مطابق، وہ اور ان کے شوہر ہنی مون کے لیے جارجیا جا رہے ہیں اور روس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ لیکن صدر پوتن کے اعلان کے بعد اب انھیں اس بات کا یقین نہیں رہا کیونکہ ’اب سب کچھ سمجھ سے باہر ہے۔‘

Getty Images

30 برس کے پیٹر نے (جنھوں نے اپنا درست نام استعمال نہ کرنے کا کہا) بی بی سی کو بتایا کہ وہ سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکوو ہوائی اڈے پر پاسپورٹ کنٹرول سے گزرے اور استنبول کے لیے پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ انھوں نے کافی عرصہ پہلے ٹکٹ خریدا تھا۔

’سرحد پر فوجی خدمات کے لیے رجسٹریشن اور صدر پوتن کی طرف سے اعلان کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں دریافت کیا۔‘

کیا روسی مرد ملک سے باہر نکل سکتے ہیں؟

بُدھ کے روز نہ تو صدر ولادیمیر پوتن نے اپنی تقریر میں اور نہ ہی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اس بارے میں کچھ کہا کہ آیا جزوی طور پر متحرک کیے جانے والے مردوں کو روس چھوڑنے سے روکا جائے گا۔

صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے کہ آیا سرحدیں ان لوگوں کے لیے بند کر دی جائیں گی جو جزوی طور پر متحرک ہیں۔ انھوں نے آئندہ اس معاملے کو واضح کرنے کا وعدہ کیا۔

Reuters

کریملن کے نمائندے کے حوالے سے انٹرفیکس ایجنسی نے کہا کہ ’موجودہ قوانین میں اس مسئلے پر مختلف دفعات ہیں۔ہمیں تھوڑا صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس معاملے پر وضاحتیں آئیں گی۔‘

روسی وفاقی سیاحتی ایجنسی کی سربراہ زرینہ ڈوگوزووا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر لکھا کہ روسیوں کے لیے فی الوقت بیرون ملک سفر کے لیے کوئی اضافی پابندیاں متعارف نہیں کرائی گئی ہیں۔

بی بی سی کی روسی سروس کے ذریعے انٹرویو کیے گئے وکلا کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کہ آیا کوئی قانون مردوں کو جزوی طور پر متحرک ہونے کی شرائط میں بیرون ملک سفر کرنے سے منع کرتا ہے۔

وکیل الیگزینڈر پیریڈرک کے مطابق ’پابندی کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلح افواج میں رجسٹرڈ ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ متحرک ہونے کے لیے بھرتی کے تابع ہیں یا نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ نہیں معلوم کہ یہ پابندی عملی طور پر کیسے کام کرے گی اور کیا غیر ملکی سفر پر پابندی ہوگی۔ میں نے حکام کے عوامی بیانات دیکھے ہیں کہ کوئی پابندی نہیں ہوگی، لیکن قانون اس کی وضاحت کرتا ہے کہ خصوصی اجازت کے بغیر باہر جانا منع ہے۔‘

وکیل آرسینی لیونسن نے کہا کہ اس وقت روس میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے تحت جزوی طور پر متحرک ہونے والے فوجیوں کو ملک چھوڑنے سے منع کیا جا سکے۔

روسی قانون ان شہریوں کی جنس کی وضاحت نہیں کرتا جنھیں متحرک ہونا چاہیے۔

ایسی خواتین جنھوں نے جنگی گراؤنڈ یونٹس میں خدمات انجام نہیں دی ہیں انھیں ملٹری سروس کے لیے بلایا جا سکتا ہے، اگر وہ فوج میں رجسٹرڈ ہیں اور کمپیوٹر انجینیئرنگ، طب، یا پرنٹنگ اور میپنگ جیسے زمروں میں مہارت رکھتی ہیں۔

دریں اثنا ہزاروں روسیوں نے بدھ کی رات مختلف شہروں میں جنگ مخالف مظاہروں میں شرکت کی۔ بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ انھیں تفتیش کے لیے طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور کچھ کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More