ایک ماں کی جدوجہد کی کہانی: سرکاری کاغذات میں دو بار مردہ قرار دیے جانے والا بچہ زندہ نکل آیا

بی بی سی اردو  |  Oct 01, 2022

اپنے بیٹے کو زندہ ثابت کرنے کے لیے انھوں نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار تین مختلف عدالتوں سے رجوع کیا۔ تین عدالتوں، کئی صفحات پر مشتمل دستاویزات اور سات سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد ایک ماں نے ثابت کر دیا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے۔

یہ معاملہ انڈیا کی ریاست بہار کے علاقے ’گیا‘ کا ہے۔ منی دیوی ایک ایسی ماں ہے جن کا بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے تو ہے، لیکن کاغذوں میں کئی سال پہلے مر چکا ہے۔

یہ سارا معاملہ کیا ہے؟

منی دیوی پر اپنے ہی شوہر کے قتل کا الزام ہے۔ 24 مئی 2015 کو منی دیوی کو ان کے شوہر کی لاش ملنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

گرفتاری سے پانچ ماہ قبل منی دیوی نے ایک بچے کو جنم دیا۔ گرفتاری کے وقت پانچ ماہ کا بچہ ماں سے بچھڑ گیا۔

آٹھ مہینے جیل میں رہنے کے بعد، جنوری 2016 میں منی دیوی کو ضمانت مل گئی۔ اس کے بعد منی دیوی اپنے بچے کا پوچھنے اپنے سسرال پہنچ گئیں۔ سسرال پہنچنے پر انھیں بتایا گیا کہ ان کے بچے کو ہیضے کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد وہ مر گیا۔

بچے کو مردہ ثابت کرنے کے لیے منی دیوی کو سرکاری دستاویزات کے علاوہ گاؤں کے سربراہ اور سرپنچ کی طرف سے جاری کیا گیا موت کا سرٹیفکیٹ دکھایا گیا۔

لیکن ایک ماں ان سرکاری کاغذات پر یقین نہیں کر سکتی تھی۔

Getty Imagesشک اعتماد میں بدل گیا

منی دیوی نے اپنے سسرال کے گھر میں ہی ایک بچے کو کھیلتا دیکھا تھا۔ اس کی عمر منی دیوی کے بچے جتنی تھی۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے منی دیوی نے کہا کہ ’جب میں نے اس بچے کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ میرا بچہ ہے۔ تب کچھ گاؤں والوں اور ایک میرے چچا زاد بہنوئی نے چپکے سے بتایا کہ یہ میرا بچہ ہے۔‘

ایک طرف سرکاری دستاویزات، تقریباً پورا گاؤں اور سسرال اور دوسری طرف اکیلی منی دیوی۔

منی دیوی نے چپکے سے اپنے سسرال کے گھر پر نظر رکھی اور گھر کے باہر ایک بچے کو کھیلتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس کے بعد 2017 میں منی دیوی نے گیا ضلع کی عدالت میں اپنے بچے کی واپسی کے لیے درخواست دی۔

منی دیوی نے اپنے سسرال والوں پر اپنے بچے کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ بھی دائر کیا تھا، لیکن گیا کی ضلعی عدالت نے ان کے سسرال والوں کو ضمانت دے دی۔

ایک ہی بچے کو دو بار مردہ قرار دیا گیا تھا

عدالت کے حکم کے بعد پولیس کی تفتیش میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کچھ گاؤں والوں کے مطابق بچہ زندہ ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ بچہ مر گیا ہے۔

یہ وہ وقت تھا جب منی دیوی کو امید ملی۔ اس پورے معاملے کی مزید تفتیش ایک اور پولیس افسر نے کی۔ لیکن کچھ دن پہلے جو بات منی دیوی کے حق میں نظر آئی، نئے پولیس افسر نے تحقیقاتی رپورٹ کو یکسر پلٹ دیا۔

دوسری تفتیش کے بعد، پولیس نے منی دیوی کے بچے کی موت کی رپورٹ دی، یعنی سرکاری طور پر بچہ ایک بار زندہ تھا، پھر مردہ۔ اس کے بعد منی دیوی مکمل طور پر ٹوٹ گئی۔

Getty Imagesمعاملہ فیملی کورٹ تک پہنچ گیا

لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔ اگر بچہ سامنے ہو اور وہ اسے چھو نہ سکے تو اسے تکلیف تو ہو گی۔

2019 میں دوسری بار منی دیوی نے بچہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اس بار معاملہ فیملی کورٹ تک پہنچا جس کے اختیارات محدود تھے۔ ضلع گیا کی خاتون ایس ایس پی کی جانب سے کیس کی تفتیش میں ایک سب انسپکٹر نے بتایا کہ بچہ زندہ ہے۔

لیکن پھر تیسری بار کیس میں نیا موڑ آیا۔ اس کے بعد عدالت نے بچے کو سامنے لانے کا حکم دیا تو دوسرے سب انسپکٹر نے رپورٹ دی کہ بچہ مر گیا ہے۔

فیملی کورٹ نے بچے کی موت کی رپورٹ دیکھنے کے بعد معاملے کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا۔ پولیس کی تفتیش میں ایک ہی بچہ دو بار مردہ اور پھر دو بار زندہ کیسے ہو سکتا ہے؟

یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے اس پورے معاملے میں ایس ایس پی ہرپریت کور سے بات کی۔

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ بچہ چار سال بعد والدین کو کیسے ملا؟

ماں ڈھونڈنے نکلی تھی، جڑواں بھائی بھی مل گیا

وہ باپ جس نے 24 برس تک بیٹے کی تلاش میں اپنی ہڈیاں تک تڑوا لیں

کیو آر کوڈ نے مسئلہ حل کر دیا

ضلع گیا کی ایس ایس پی ہرپریت کور نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے سامنے پٹنہ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے جاری کیا گیا موت کا سرٹیفکیٹ تھا۔ اس پر ایک کیو آر کوڈ بھی تھا۔ اس کے علاوہ سربراہ اور سرپنچ کی طرف سے جاری کردہ موت کا سرٹیفکیٹ بھی تھا۔‘

پھر بی بی سی نے منی دیوی کی اس وقت (2016) کی گاؤں کی سربراہ سے بات کی۔ اس وقت گاؤں کی سربراہ اندو دیوی تھی۔ جب بی بی سی نے ان سے فون پر رابطہ کیا تو ان کے شوہر اجیت نے بی بی سی کو بتایا ’منی دیوی کے سسرال والے بچے کی موت پر سوگ منانے کے لیے اپنے سر منڈوا چکے تھے اور 100 سے زائد لوگوں کے ساتھ ہمارے پاس آئے تھے۔ اس وقت سب نے گواہی دی کہ بچہ مر گیا تھا۔`

اجیت کے مطابق ’اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ منی دیوی کے سسر خاموشی سے بچے کے ساتھ رانچی چلے گئے تھے۔`

گاؤں کے سربراہ اور سرپنچ کے لیٹر ہیڈ پر بچے کی موت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔

فیملی کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ نہ آنے کے بعد منی دیوی اپنے بچے اور سسرال والوں کی ضمانت کے خلاف پٹنہ ہائی کورٹ پہنچ گئیں۔

یہاں منی دیوی نے اپنے وکیل اویناش کمار سنگھ کی مدد سے حبس بے جا کے مقدمے کے تحت درخواست دائر کی۔ یعنی کسی کو زبردستی قیدی بنانے کے خلاف عدالت میں اپیل کی۔

پٹنہ ہائی کورٹ میں کیس

بی بی سی ہندی نے منی دیوی کے وکیل اویناش کمار سے رابطہ کیا۔

اویناش کمار کا کہنا تھا کہ ’منی دیوی کو پہلے ہی سسرال والوں پر شک تھا، سسرال والوں نے پہلے اسے اس کے شوہر کے قتل کے جھوٹے الزام میں جیل بھیج دیا اور پھر بچے کی موت کا بہانہ بنایا تاکہ وہ شوہر کی جائیداد میں حصہ نہ مانگے۔‘

جب سارے معاملے کی ایک ایک کڑی جڑ گئی تو بات پوری طرح سمجھ آئی۔ اویناش کمارنے بتایا کہ منی دیوی ذات برادری اور سسرال والوں کے ساتھ گاؤں کی حمایت کی وجہ سے زیادہ ہمت نہیں کر سکی۔

اویناش کمار کا مزید کہنا ہے کہ ’ہمارے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ بچے کا موت کا سرٹیفکیٹ پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے جاری کیا تھا۔ لیکن مجھے اس رپورٹ پر شک تھا، جب میں نے وہاں رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ ایسی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ لیکن میں نے اپنی سطح پر مزید تفتیش کی۔‘

میونسپل کارپوریشن کے ایک واقف افسر نے اویناش کمار کو بتایا کہ یہ موت کا سرٹیفکیٹ جعلی معلوم ہوتا ہے۔

دراصل، ملک میں ہر پیدائش اور موت کے بارے میں معلومات سول رجسٹری سسٹم کی ویب سائٹ crsorgi.gov.in پر دستیاب ہیں۔

اویناش کمار نے کہا ’جب میں نے اس کے کیو آر کوڈ کو سکین کیا تو میں اس ویب پیج پر پہنچا جہاں یہ سرٹیفکیٹ پڑا تھا۔ پھر مجھے مایوسی ہوئی کہ پی ایم سی کے اہلکار بتا رہے تھے کہ یہ جعلی دستاویز ہے۔‘

لیکن اویناش کمار نے جب قریب سے دیکھا تو حیران رہ گئے کیونکہ وہ ویب سائٹ دراصل جعلی تھی۔

Getty Imagesڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار

کیس کی اگلی سماعت آٹھ ستمبر 2022 کو ہوئی۔

منی دیوی نے اپنے وکیل اویناش کمار کے ساتھ تمام معلومات اکٹھی کیں اور پٹنہ ہائی کورٹ میں جج کے سامنے پیش ہوئیں۔

پٹنہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پی ایم سی (پٹنہ میونسپل کارپوریشن) کمشنر؛ گیا اور پٹنہ کے ایس ایس پی کو 12 ستمبر کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہا۔

عدالت نے اس روز بچے کو 48 گھنٹے میں بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا تاہم بچہ 16 گھنٹے میں بازیاب ہو گیا۔

اب گاؤں والے بھی مان رہے ہیں کہ بچہ منی دیوی کا ہے۔

دوسری طرف، گیا کے مگدھ میڈیکل تھانے نے منی دیوی کے سسر کو دھوکہ دہی، دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سمیت کئی الزامات میں گرفتار کیا ہے، جب کہ ان کا جیٹھ مفرور ہے۔

ضلع گیا کی ایس ایس پی ہرپریت کورنے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچے کو عدالت کے حکم پر چائلڈ کیئر سنٹر میں رکھا گیا ہے اور اس کی اچھی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ فی الحال ہم جعلی دستاویزات کے لیے منی دیوی کے مفرور جیٹھ کی تلاش کر رہے ہیں تاکہ جس گروہ نے یہ کاغذات بنائے ہیں ان کا سراغ لگایا جا سکے۔‘

منی دیوی کے وکیل کے مطابق اب اس بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا اور امید ہے کہ ماں کو سات سال بعد بیٹا واپس مل جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More