مسلمان اور ہندو دوست کی جوڑی جنھوں نے لیسٹر ہنگاموں کے دوران یکجہتی کا پیغام دیا

بی بی سی اردو  |  Oct 01, 2022

BBCامام احمد اور اجے ناگلا دونوں شہر کے ہائی فیلڈز علاقے میں ایک ہی سڑک پر پلے بڑھے تھے

امامنے بتایا کہ کس طرح انھوں نے اپنے بچپن کے ہندو دوست کے ساتھ مل کر لیسٹر میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کے دوران صورتحال کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔

کشیدگی میں بنیادی طور پر دو کمیونٹیز کے نوجوان شامل تھے، جو سنیچر 17 ستمبر کو بدامنی میں بدل گئی۔

اس دوران دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر بوتلیں پھینکیں۔ ایسا ہی کچھ ہندو مندر کے باہر بھی دیکھنے میں آیا جہاں امام احمد اور اجے ناگلا نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔

یہ دونوں شہر کے ہائی فیلڈز علاقے میں ایک ہی سڑک پر پلے بڑھے تھے۔

امام نے بتایا کہ وہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنے کے لیے بیلگریو روڈ پر گئے تھے۔

انھوں نے بتایا ’زیادہ سے زیادہ مسلم نوجوان وہاں پہنچے تھے اور صورتحال مزید کشیدہ ہونے لگی تھی۔‘

’ایک شخص میرے پاس آیا، وہ مسلمان تھا، اس نے کہا ’میرے خیال میں کچھ لوگ جھنڈے کو جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’چنانچہ میں اس جگہ گیا اور انھیں روکا۔ میں نے کہا، ’دیکھو، تم جو کچھ کر رہے ہو وہ غیر اسلامی ہے، یہ غلط ہے‘ اور میں نے قرآن کی اس آیت کا ذکر کیا جو عبادت گاہوں کے تحفظ کی تلقین کرتی ہے۔‘

امام نے تناؤ میں ملوث افراد کو ’بے وقوف‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا۔

ناگلا بتاتے ہیں کہ ’ہجوم میں سے چند ایک ایسے تھے جو جھنڈوں کو ہٹا رہے تھے اور ان میں سے ایک کو آگ لگ گئی۔‘

’یہ وہ جگہ ہے جہاں احمد صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے جا کر اپنے ہاتھوں میں جھنڈا لیا مگر صورتحال کچھ اور کشیدہ ہو گئی۔‘

BBC

ناگلا نے بتایا کہ کشیدگی کے دوران انھوں نے لوگوں کو ان کی گاڑیوں اور گھروں تک پہنچنے میں مدد بھی کی۔

انھوں نے کہا کہ ’ریستوران کے مالکان نے ان میں سے کچھ کو سٹورز میں بند کر دیا تھا کیونکہ انھیں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ میں نے امام کے ساتھ مل کر مالکان کو یقین دلایا کہ ہم سب کو ان کی گاڑیوں تک بحفاظت پہنچانے میں مدد کریں گے۔‘

انھوںنے کہا، اس میں تین ماہ کے بچے کے ساتھ ایک ماں بھی شامل تھی جسے ’چل کر گھر جاتے ڈر لگ رہا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

لیسٹر کے بعد برمنگھم میں ایک مندر کے باہر بھی احتجاج

لیسٹر: ہندو مسلم تنازعے کی آگ بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا کیا کردار رہا؟

ایشیا کپ تنازع: لیسٹر میں انڈین اور پاکستانی باشندوں میں کشیدگی، 15 افراد گرفتار

اس بدامنی کے دوران 16 افسران اور ایک پولیس کتا زخمی ہوئے، عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے کہا کہ فورس کو ’جارحیت‘ کا سامنا کرنا پڑا جو ایسٹ لیسٹر کے علاقے میں ایک احتجاج کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔

BBC

اتوار 18 ستمبر کو ایک اور احتجاج میں تقریباً 100 افراد شامل تھے۔

اس دوران تقریباً 50 گرفتاریاں ہوئیں، 158 پر مقدمات درج کیے گئے اور نو افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔

لیسٹر کے میئر نے آن لائن ڈس انفارمیشن کو کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں ایک شخص (جو پہلے ہی اس کشیگی پھیلانے کی سزا بھگت چکا ہے) نے تسلیم کیا کہ اسکی سوچ پر سوشل میڈیا نے اثر ڈالا۔

رات کو اپنے دوست کو وہاں دیکھنے کے متعلق امام احمد نے کہا: ’مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ اس نے یکجہتی کا پیغام دیا۔‘

ناگلا نے مزید کہا ’ہم لیسٹر میں چار دہائیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم کسی کو امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More