چور میوزیم سے صرف 9 منٹ میں 16 لاکھ یورو کے سونے کے سکے لے اڑے

بی بی سی اردو  |  Nov 24, 2022

چوروں نے جرمنی کے ایک میوزیم سے 16 لاکھ یورو مالیت کے تاریخی سونے کے سکے چرا لیے ہیں۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست بویریا کے شہر مینچنگ میں واقع اس میوزیم سے سینکڑوں سکے رات گئے صرف نو منٹ کے اندر چرا لیے گئے۔ 

ممکنہ طور پر چوروں نے پہلے میوزیم کے الارم سسٹم کو سبوتاژ کیا اور پھر اندر داخل ہوئے۔ اندر جانے سے قبل آس پاس کی انٹرنیٹ کی تاریں بھی کاٹ دی گئی تھیں جس کے باعث علاقے میں انٹرنیٹ معطل ہو گیا۔ 

پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری کسی گذشتہ واردات سے منسلک تو نہیں۔ 

چوروں کی جانب سے سسٹم ناکام بنائے جانے کے باعث دروازہ توڑنے کے باوجود الارم نہیں بجا تاہم اس نے چوری کی یہ واردات ریکارڈ ضرور کی ہے۔ 

اگلی صبح ملازمین کو میوزیم کے فرش پر شیشے کی کرچیاں ملیں جبکہ شو کیس میں نمائش کے لیے رکھے گئے سکے غائب تھے۔ 

سٹیٹ آرکیالوجیکل کلیکشن میں ہیڈ آف کلیکشنز روپرٹ گیبہارڈ نے اس نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’یہ کسی پرانے دوست کو کھونے جیسا ہے۔‘

ایک اور ڈسپلے کیس میں سے تین بڑے سکے چرائے گئے ہیں۔ 

حکام کو شک ہے کہ اس چوری کے پیچھے ایک منظم گروہ موجود ہے اور پولیس گذشتہ وارداتوں سے کسی ممکنہ تعلق کا پتا لگا رہی ہے۔ 

سنہ 2017 میں برلن کے ایک میوزیم سے 100 کلو وزنی ایک سونے کا سکہ چھین لیا گیا تھا۔ دو سال بعد چور ڈریسڈن کے گرین والٹ میوزیم سے 21 زیورات اور دیگر قیمتی اشیا لے اڑے۔ یہ پوری واردات بھی سی سی ٹی وی پر ریکارڈ ہوئی تھی۔ 

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ’نہیں کہہ سکتے‘ کہ کیا ان چوریوں کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ 

بویریا کے وزیرِ سائنس و آرٹس مارکس بلوم نے مقامی نشریاتی ادارے بی آر کو بتایا: ’ظاہر ہے کہ آپ ایسے ہی میوزیم میں داخل ہو کر اس کا خزانہ نہیں لے جا سکتے۔ یہ انتہائی محفوظ ہوتا ہے۔ اور یہ خیال معقول ہے کہ ہمارا سامنا منظم گروہ سے ہے۔‘ 

ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان تاریخی سکوں کو پگھلا دیا جائے گا جس سے ان کی تاریخی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ 

یہ سنہ 1999 میں مینچنگ کے نزدیک آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملے تھے۔ کیلٹک افراد کے یہ سکے 20 ویں صدی میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی دریافت تصور کی جاتی ہے۔ 

وزیرِ مارکس بلوم کے مطابق ان سکوں سے بویریا میں 2000 برس قبل رہنے والے لوگوں کی روز مرّہ زندگی کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More