بھائی میری انگریزی صرف 30 فیصد ہے جو ختم ہوگئی ہے: نسیم شاہ

اردو نیوز  |  Dec 01, 2022

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے کافی خوشگوار موڈ میں دکھائی دیے۔

منگل کے روز نسیم شاہ نے پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

پریس کانفرنس کے دوران غیر ملکی صحافی نے نسیم شاہ کی عمر 19 سال کے ہونے اور انگلش بولر جیمز اینڈرسن کی عمر 40 سال ہونے کے بارے میں سوال کیا اور ان کے بارے میں نسیم شاہ کے تاثرات پوچھے۔

اس کے جواب میں نسیم شاہ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال سے یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ وہ (جیمز اینڈرسن) 40 سال کے ہو کر بھی فاسٹ بولنگ کر رہے ہیں، ہم ان سے بہت کچھ سیکھتے ہیں، وہ ابھی بھی کھیل رہے ہیں، میرے خیال سے وہ 40 سال کے ہیں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ کتنی محنت کر رہے ہیں۔‘

اس سوال کے جواب کے بعد صحافی نے جیمز اینڈرسن کی صلاحیت کے بارے میں جاننا چاہا تو نسیم شاہ بولے ’بھائی میری انگریزی صرف 30 فیصد ہے جو کہ اب ختم ہوگئی ہے۔‘

This Boy is So funny ... pic.twitter.com/qC7oL0INZ0

— Taimoor Zaman (@taimoorze) November 29, 2022

انجری کے باعث انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر ہونے والے شاہین شاہ کی عدم موجودگی کے بارے میں نسیم کہتے ہیں کہ ’زندگی کا یہی مزہ ہے کہ آپ چیلنج لیتے ہو، جیسے سری لنکا میں بھی شاہین انجرڈ ہوا تھا تو میں نئی گیند کروا رہا تھا، اسی طرح میری کوشش ہوگی کہ ٹیم کی جو ضرورت ہے اسی طرح بولنگ کروں، کوشش کروں گا کہ نئی گیند کو اچھا استعمال کروں۔‘

پچ کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں نسیم شاہ کہتے ہیں کہ ’میں پچ پر بالکل بھروسہ نہیں کرتا ہوں، جب تک پہلی گیند نہیں کرتا تو نہیں پتا چلتا کہ کیسی پچ ہے، جیسی بھی پچ ہو، آپ کو اچھی بولنگ کرنی ہوتی ہے۔‘

انگلش ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کو آؤٹ کرنے کے بارے میں نسیم نے کہا کہ 'دیکھیں گے کہ وہ کیسے کھیلتے ہیں، ہر کھلاڑی اپنا انفرادی پلان بناتا ہے، تو دیکھیں گے کہ وہ کیسے کھیل رہے ہیں اور ٹیم کو کس چیز کی ضرورت ہے۔'

فاسٹ بولر نسیم شاہ نے اپنے کاؤنٹی کرکٹ کے تجربے کے بارے میں کہا کہ 'میرے خیال سے گزشتہ سال کا کاؤنٹی سیزن میرے لیے بہت اچھا تھا، میں نے کاؤنٹی سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہاں کی پچز سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہو، برطانیہ میں آپ کو بولنگ کرنے کے لیے کنڈیشن کو سمجھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ پاکستان سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More