انڈیا نہیں آتا تو نہ آئے، ایشیا کپ نیوٹرل مقام پر نہیں ہوگا: رمیز راجہ 

اردو نیوز  |  Dec 02, 2022

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے ایشیا کپ میں انڈیا کی عدم شرکت سے متعلق ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ’انڈیا اگر پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے نہیں آتا تو ٹھیک ہے لیکن ایشیا کپ کسی نیوٹرل مقام پر نہیں ہوگا۔‘ 

جمعے کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کے دوران پنڈی کرکٹ سٹیڈیم راولپنڈی کے میڈیا باکس میں چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایشئین کرکٹ کونسل نے پاکستان کو ایشیا کپ کی میزبانی دی ہے، اگر انڈیا کی ٹیم نے پاکستان نہیں آنا تو ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے سیاسی مسائل ہیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان سے لے کر کسی نیوٹرل مقام پر کی جائے یہ نہیں ہونے والا۔‘

رمیز راجہ نے کہا کہ انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنے سے متعلق ہماری جو پلاننگ ہوگی وہ ایشیا کپ میں انڈیا کی شرکت کو دیکھتے ہوئی ہی ہوگی۔’ایشیا کپ کی میزبانی کرنا ہمارا حق یے ہم کوئی ایسی چیز نہیں کہہ رہے جو ہمیں دی نہیں ہو اور ہم مانگ رہے ہیں، ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو مل چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے نہیں آتے اور کسی نیوٹرل مقام پر ہوتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ہم ایشیا کپ میں شرکت ہی نہ کریں۔‘

ایشیا کپ 2023 میں پاکستان میں شیڈول کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)’پنڈی ٹیسٹ کی پچ میرے لیے باعث شرمندگی ہے‘

 رمیز راجہ نے پنڈی ٹیسٹ پچ سے متعلق سوال پر کہا کہ ’یہ ہماری کرکٹ کی تشہیر نہیں ہے، یہ پچ بہت بہتر ہوسکتی ہے امید ہے کہ اب بھی اس میچ کا نتیجہ نکل آئے لیکن میرے لیے نھی یہ پچ باعث شرمندگی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جتنے شائقین مایوس ہیں اس سے کہیں زیادہ مایوسی مجھے بھی ہے لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہم ان پچز کے ساتھ تھوڑی سی بھی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں تو وہ بالکل فلیٹ ہو جاتی ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ایک عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں ہوئی اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ پچز کے معاملے پر ہم ایکسپوز ہو رہے ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ کہا کہ انگلینڈ نے جس طرح بلے بازی کی وہ بھی قابل دید تھی۔ ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی تیز کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔‘ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More