جماعت اسلامی کا اے پی سی کا بائیکاٹ اور نوازشریف کی تقریر

روزنامہ اوصاف  |  Sep 24, 2020

(گزشتہ سےپیوستہ) فضل الرحمن نے اس موقع پر تقریر کی تھی لیکن ان کی تقریر اسکرین پر نہیں آئی۔ فضل الرحمن وہی شخص ہیں جنہوں نے گزشتہ سال عمران خان کی حکومت کے خلاف دھرنا دیاتھا‘ اور مدرسوں کے بچوں کوگھیرگھار کر اسلام آباد لائے تھے‘ جس میں دیگر پارٹیوں نے شرکت نہیں کی‘ حالانکہ انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مسلم لیگ(ن) اور پی پی اس میں شریک ہوکر موجودہ حکومت کو گرانے میں ان کی مددکریںگے لیکن ایسا نہیں ہوا اور فضل الرحمن بغیر کسی نتیجہ کے اپنا لائو لشکر لے کر واپس اپنے گھر چلے گئے۔ یعنی ’’ بڑے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘ فضل الرحمن کوغم اس بات کاہے کہ وہ حکومت میں کیوں نہیں ہیں‘ وہ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے‘ ساری مراعات حاصل کرتے رہے‘ لیکن عالمی سطح پر کشمیر کاز کو ابھارنے میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتاہے۔ وہ کیونکہ ذاتی طور پر عمران خان کو پسند نہیں کرتے ہیں‘ اس لئے وہ اے پی سی میں شامل ہوکر حکومت پر دبائو ڈالنے کاحصہ بن رہے ہیں جمہوریت کیاہے‘ جمہوریت کے ذریعے عوام کی کس طرح خدمت کی جاتی ہے اور کس طرح جمہوریت قانون اور آئین کی بالادستی کے سائے میں پنپتی ہے۔ انہیں اس کا زیادہ ادراک نہیں ہے ۔اے پی سی میں لندن سے نوازشریف نے خطاب کیاتھا۔ عمران خان نے آزادی تقریر وتحریر کا پاس رکھتے ہوئے انہیں اس کی اجازت دی تھی اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی‘ نوازشریف نے اپنے خطاب میں کوئی نئی بات نہیں کی۔ اس سے پہلے’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کے دوران جلسوں میں انہوں نے اسی ہی قسم کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین سلیم باجوہ کو برا ہ راست تنقید کانشانہ بنایا تھا اور ان کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے‘ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جنگ عمران خان کے خلاف نہیں ہے‘ بلکہ ان ’’لوگوں‘‘ کے خلاف ہے جو ان کو اقتدار میں لائے ہیں‘ حالانکہ اس مرد ناداں کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ عمران خان پاپولر ووٹ کے ذریعہ اقتدار میں آئے ہیں‘ اور اس گند کو صاف کررہے ہیں جو مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی نے پھیلائی ہے۔ پاکستان کے باشعور عوام اس ناقابل تردید حقیقت سے واقف ہیں کہ شریف خاندان نے کس طرح فوج کے جوتے صاف کرکے اقتدار حاصل کیاتھا‘ جنرل جیلانی اور جنرل ضیا نے اس مجرم کی سیاسی پرورش کرکے اس کو معاشرے میں عزت کا مقام دلوایاتھا۔ لیکن اس کو عزت راس نہیں آرہی ہے۔ یہ کھلی احساس فراموشی کامظاہرہ کرتے ہوئے لندن میں بیٹھ کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عوام کے دلوں اور ذہنوں میں زہر بھررہاہے۔ بھارت کا Narrative (بیانیہ )بھی یہی ہے جونوازشریف کاہے۔ دراصل ان کی اے پی سی میں تقریر کے بعد یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ نوازشریف بھارت کو کس طرح خوش کرنے اور اپنے تجارتی مفادات کوبچانے کیلئے پاکستان کی سالمیت سے کھیل رہے ہیں جبکہ پاکستان کے تحفظ ‘ بقاء اور سالمیت کی خاطر جان دینے والوں کامذاق اڑارہے ہیں۔اسکرین پر ان کی تصویر دیکھ کر یہ بالکل احساس نہیں ہوا ہے کہ یہ شخص بیمار ہے‘ یا پھر لندن کے کسی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ نوازشریف نے اپنی صحت سے متعلق جھوٹ بول کر عدلیہ اور حکومت کودھوکہ دے کر لندن میں بیٹھ کر آئین اور جمہوریت کی بالادستی کی بات کررہے ہیں‘ جبکہ اس کا اپنا کردار اس کے برعکس ہے۔ اگر پاکستان کے باشعور لوگوں کو ان کی حکومتوں کاتجربہ ہے اور اس سے کچھ سیکھاہے۔ تو وہ ان عناصر کی گمراہ کردینے والی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ ذرا سوچیئے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More