پاکستان کے دشمن ہار رہے ہیں!

روزنامہ اوصاف  |  Oct 26, 2020

یہ حقیقت ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا تعین کرنا آسان نہیں لیکن گزشتہ سالوں سے موازنہ کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی کیا ہے، لیکن کئی یہ حقیقت ہے کہ کامیابی اور ناکامی کا تعین کرنا آسان نہیں لیکن گزشتہ سالوں سے موازنہ کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی یا ناکامی کیا ہے، لیکن کئی ایسی چیزیں ہیں جیسے کہ حکومتی امور، جنہیں عموماًگڈ گورننس کہا جاتا ہے جن کے اعداد و شمارپر صر ف توجہ نہیں دی جاتی بلکہ اعدادو شمار سے پیمانہ ناپا جاتا ہے۔ کچھ چیزیں، مثلا ًمعیشت مصنوعی مہنگا ئی اور ذخیرہ اندوزوں حقائق پر مبنی اعداد شمار درکار ہوتے ہیں۔اچھے مستقبل کیلئے ماضی کی برائیوں کا قلع قمع ناگز یر ہوتا ہے جس کے لیے لازم ہوتا ہے کہ پاکستان کی ذمہ داری سنبھالنے والے پاکستان کو تر جیح دیں ۔آج ہم بات کر یں گے کہ حکومت کی کارکردگی قومی سطح پر کیسی ہے اور عوامی سطح پر کیسی ؟پاکستان کو پہلی مرتبہ ایک بہترین خبر عملی طور پر دیکھنے میں ملی کہ بھارتی لابی ،حسین حقانی گروپ ،پاکستان کے دشمن ہار رہے ہیں یہ میں نہیں کہہ رہا دنیا کہہ رہی ہے اور عالمی ادارو ں کے پاکستان بارے اقدامات دکھا رہے ہیں ۔آج پاکستان دنیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پرکشش ملک کا روپ اختیار کررہا ہے اورتجارتی دنیا پاکستان سے رابطوں میں مصروف ہے ۔اسے عمران خان پر اعتماد کہیں ، عمران خان کی دنیا کو پاکستان بارے آگاہ کرنے کی صلاحیت کہیں یا عالمی تجارتی دنیا سے کمیشن مانگنے والے سیاستدانوں کی بندش ۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گالیکن حالیہ اقدامات سے واضح نظر آر ہا ہے کہ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو دئیے گئے 27 ایکشن پوائنٹس میں سے 6پر عمل درآمد باقی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ شائد پاکستان اگلے موسم بہار میں گرے لسٹ سے نکل پائے گا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل در آمد کیلئے بیشتر اقدامات اٹھائے گئے تھے جن میں مختلف قوانین کا اسمبلی سے پاس کرائے جانے اور عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کی روک تھام جیسے اقدامات شامل تھے۔2018 ء میں گرے لسٹ پر ڈالے جانے کے بعد پاکستان کے لیے 27 ٹارگٹ سیٹ کیے گئے تھے۔ گزشتہ فرروی میں ان میں 13 کو مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو مزید چار ماہ دئیے گئے تھے۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کو مزید وقت مل گیا تھا۔ اب سوچنا یہ ہے کہ پاکستان کو اس نہج پر پہنچایا کس نے اور بچا کون رہا ہے؟ خطرے کے اس موڑ پر پاکستان کو لانے والوں میں گزشتہ دو حکو متوں کی دوبڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی او ر ن لیگ کا مر کزی کر دار ہے اور آج پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کی بنیادی وجہ منی لا نڈرنگ میں یہی سیاستدان پکڑے جارہے ہیں ۔گرفتار اور ضمانتوں پر جیلوں سے باہر سیاستدانوں کا بڑا جر م جو ثابت ہو رہا ہے وہ منی لانڈرنگ ہے، اسی کارنامے نے پاکستان کو بدنام کیا اور اسی نے پاکستانی عوام کو غربت کے اندھے کنوئیں میں دھکیلا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان دنیاکو یہ دکھانے پر مجبور ہے کہ مجاز اتھارٹیاں غیرقانونی پیسے ٹرانسفر کرنے والی سروسز کی نشاندہی کرنے میں معاونت کر رہی ہیں۔اس سارے سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کیا جاچکا لیکن کارروائی میں پاکستانی ہی رکاوٹ بن رہیں ہوں تو حکو مت کیا کر ے۔ کیا ایک ہزار روپے کی خا طر جلسوں میں شمولیت کبھی ختم ہوسکے گی ؟اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان عوامی سطح پرقومی سطح پر باعزت اور باوقاربن سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب ایکشن پلان پر عمل در آمد کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے اور اعلیٰ سیاسی قیادت کے عزم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔اجلاس میں چین نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کی تعریف کی ہے اور چینی دفتر خارجہ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے حوالے سے سرتوڑ کوششیں کی ہیں جسے ایف اے ٹی ایف کے بیشتر اراکین نے تسلیم کیا ہے۔دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے پاکستانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ترک قوم ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر ان کے موقف کی حمایت جاری رکھے گی جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)میں بھی پاکستان کی حمایت کی جائے گی۔یہ پاکستانی حکو مت کی پاکستان کیلئے جدوجہد کا ثمر ہے جبکہ دوسری جانب صرف اقتدار کی خاطر پاکستان کو بدنام کرنے پاکستانی کے دفاعی ادارے کو بدنام کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے ۔پہلی مرتبہ پاکستان اپنے دشمنوں کو خواہ وہ کوئی بھی دنیا پر بے نقاب کر رہا ہے ۔بھارت ہو یا حسین حقانی گروپ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں پاکستان کی مو جودہ اپوزیشن بھارت یا حسین حقانی کی اتنی پسندیدہ کیوںہے دنیا جان گئی ہے اب صر ف پاکستان کے عو ام کو جاننا ہوگا او ر عوام کو ملک دشمنوں اور ثابت شدہ مجرموں جنہیں قومی عدالتیں لمبی بحث کے بعد مجر م قر ار دیں کو جاننا ہو گا ۔عو ام پاکستان اگر مجرموں کی حمایت چھوڑنے کا تہیہ کرلیں تو پاکستان کو ترقی ، کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ حکومت نے بہت ہی قلیل عرصے میں کئی سالوں سے چلی آنے والی پالیسی کو تبدیل کیا ہے اور اس کے نتیجے میں کاروباری افراد بزنس ویزا فوراً حاصل کر سکتے۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین، ملائیشیاء، ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو ویزا آن ارائیول یعنی پاکستان پہنچنے پر ان کو فوراً  ویزا دیا جا سکتا ہے۔ ان پانچ ممالک سے ابتدا  ہوئی ہے لیکن اگلے چھ ماہ میں اس تعداد میں اضافہ کا واضح امکان ہے ۔اب آتے ہیںعوامی مسئلہ مہنگا ئی کی جانب ۔عوام نے شائد سن رکھا ہو کہ حکومتیں مصنوعی مہنگائی سے بھی گرائی جاتی ہیں اور پاکستان جہا ں گزشتہ دہائیوں سے سرمایہ داری کا نظام اور سر مایہ دار صر ف دو خاندانوں تک محدو د ہوں وہا ں آج مصنو عی مہنگائی کی صورتحال کیا ہوگی اورمصنو عی مہنگائی کو روکنے والے لوگ گزشتہ دہائیوں سے کن دو خاندانوں کی غلامی تک محدود ہو ں گے عوام کو اپناراستہ اپنا سفر بہتر بنانا ہے تو سفر کی سڑکوں پر قابض حقیقی مجرموں پر غور ہی نہیں کرنا ہوگا بلکہ ان کو پکڑنے کیلئے حکو مت کی مدد کرنا ہو گی ۔ماضی کی حکومتوں کے برعکس اس حکومت کے ایک سال میں اب تک کرپشن کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے اس لیے عوام کو صرف غور کرنے کی ضرورت ہے ۔مسا ئل کا حل حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیںبلکہ مجرموں کی گرفتاری کی شکل میں مل سکتا ہے۔عوام پاکستان کو مسائل کے حل میں دلچسپی دیکھانا ہوگی قانون کی مدد کرنا ہوگی انصاف کا ساتھ دینا ہوگا اور مجرموں کی حما یت خواہ کسی جماعت سے ہوں حکومت سے ہوں یا اپوزیشن سے بند کرنا ہوگی۔حکومت کو مصنوعی مہنگا ئی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن کی پالیسی پر دکھانا ہوگی ۔یاد رہے کہ قومی اتحاد اور امن و استحکام کے بغیر پاکستان کی معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More