قائد اعظمؒ ہم شرمندہ ہیں! 

روزنامہ اوصاف  |  Oct 26, 2020

جنرل راحیل شریف کے دور میں نواز شریف کی صفوں میں شامل عناصر نے فوج کو بدنام کرنے کے لیے ایک کہانی گڑھی۔ ’غیر ریاستی اداکار‘ مریم نے سینکڑوں (گزشتہ سے پیوستہ)جنرل راحیل شریف کے دور میں نواز شریف کی صفوں میں شامل عناصر نے فوج کو بدنام کرنے کے لیے ایک کہانی گڑھی۔ ’غیر ریاستی اداکار‘ مریم نے سینکڑوں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ماہرین کو سرکاری خرچ پر گمراہ کُن خبریں پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔  فوج کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے  اپنے انکل مودی کی پوری پیروی کی۔ جنرل راحیل شریف باوقار فوجی اور وضع دار انسان تھے، انہیں ہدف بنانے کی کوشش کی گئی۔ وزیر اعظم کو شرمندگی سے بچانے کے لیے فوج نے اصل ذمہ دار مریم کو نظر انداز کردیا۔ اس کے بعد وزیر اطلاعات پرویز رشید اور نواز شریف کے چند وفاداروں کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا۔ اس موقع پر مریم کی زہر افشانی کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی تھی،آج چھ سال بعد اس کے نتائج سامنے ہیں۔ نواز شریف اب لندن میں بیٹھ کر مودی کی زبان بول رہے ہیں۔ ’’اقتدار کے کھیل‘‘ میں قوم کو وضع داری کی قیمت  چکانا پڑتی ہے۔ جب ملک کی سالمیت پر بھارت کی ہائبرڈ جنگ جاری ہے، ماضی کی غلطیاں دہرانے کی گنجائش نہیں۔  شریف خاندان اپنی کرپشن اور اس سے کمائی گئی بے پناہ دولت اور لندن میں جائیدادیں بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہا ہے۔ اپنے خلاف تفتیش اور قانونی کارروائی کا رُخ بدلنے کے لیے نواز لیگ کے وفادار جانتے بوجھتے استعمال ہورہے ہیں اس لیے انہیں بری الذمہ قرارنہیں دیا جاسکتا۔ سبھی جانتے ہیں کہ شریف خاندان اور پی ڈی ایم کے مقاصد یکسر الگ الگ ہیں۔ اسی لیے انہوں نے نواز شریف کو کراچی میں ہونے والے جلسے سے تقریر نہیں کرنے دی۔ فوج اور عدلیہ کے خلاف زہر اگل کر سزا یافتہ نواز شریف لندن میں سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ برطانوی حکام کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں بے دخل کرکے ملک واپس بھجوایا گیا تو ان کی فوج مخالف تقریروں کی وجہ سے فوج ان کے خلاف کوئی  قدم اٹھا سکتی ہے۔ پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں کے بعض جائز مطالبات و تحفظات ہیں لیکن مزار قائد ؒپر صفدر کی ہلڑ بازی سے، جس نے سندھ پولیس میں بغاوت کو ہوا دی، انہیں بھی زچ پہنچی ہے۔ میں 2016ء میں اس حوالے سے ’’ آرمی چیف، فیکٹری منیجر نہیں‘‘اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ  شریف خاندان بلا چوں چرا اپنی ہر بات نہ ماننے والوں کو برداشت نہیں کرتا۔ وہ اہم ترین عہدوں کے لیے ایسے پسندیدہ افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو ’’فیکٹری منیجر‘‘ کی طرح ان کی اطاعت گزاری کرے۔ اگرچہ  جسٹس منصور علی شاہ نے  شریف خاندان اور پنجاب حکومت کے خلاف کچھ فیصلے دئیے لیکن ان کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تقرری کو ممتاز وکیل بابر ستار نے ’’معجزہ‘‘ قرار دیا تھا۔  آرمی چیف کے حوالے سے اپنی گہرے احساس کمتری کے باعث شریف خاندان اس عہدے کے لیے تقرری کرتے ہوئے کبھی ملکی مفاد کو پیش نظر نہیں رکھتا۔‘‘ہم میں سے بہت سے لوگ ریاست  کے ساتھ اپنی وابستگی کا احساس  نہیں رکھتے۔ جدید ریاست میں شہری ہونا کیا مفہوم  ہے ہم نے اس کا ادراک نہیں کیا۔ فرد اپنی ذمہ داری نہ نبھائے تو ملک ترقی نہیں کرتے۔ ہر شہری کو ریاستی اداروں، سیاسی نظام دوسرے کی رائے کے لیے وسعت کا فہم ہونا چاہیے۔ مہذب رویے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے قول و فعل سے دوسرا محفوظ رہے۔ دوسرے کے جان و مال، آبرو کو گزند پہنچانے اور برسرعام دنگا فساد کرنے جیسے رویے قابل برداشت نہیں۔ لیکن تحمل کسی کے لیے بدتمیزی کا جواز فراہم نہیں کرتا۔ دین ہماری بنیادی معاشرتی قدر ہے اور اس میں بدزبانی اور بدتہذیبی کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیرت کا سبق یہ ہے کہ بدسلوکی کرنے والوں سے بھی حسن سلوک کیا جائے۔ پاکستان جنت نہیں، حکومتوں نے ریاستی اداروں کو کمزور کیا ہے۔ بلاشبہ موجودہ حکومت بھی غلطیوں سے پاک نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تمام تر خامیوں کے ساتھ عمران خان نے اصلاح کا عمل شروع کیا ہے۔ یہ کوششیں اسی وقت کام یاب ہوسکتی ہیں جب انہیں عوام کی حمایت حاصل ہو اور وہ سیاست میں تہذیب و بردباری کا مظاہر کریں۔  کراچی میں جو کچھ ہوا اس کے کچھ پہلوؤں پر بہر حال سوالیہ نشان ہیں۔ صفدر اس قدر احمق نہیں کہ اس نے بغیرکسی مقصد کے مزار قائد میں یہ ماحول پیدا کیا۔ ممکن ہے کہ جس طرح زرداری نے اپنے لیے ایک سیاسی کردار حاصل کیا وہ بھی اپنی جماعت میں کوئی سیاسی جگہ بنانا چاہتا ہو۔ ممکن ہے کہ  نواز شریف کی مفروری کے حوالے سے لندن میں اشتہارات کی اشاعت سے توجہ ہٹانا اس کا مقصد ہو۔ صفدر کی گرفتاری اور سندھ پولیس کی قیادت میں ’حکم عدولی‘ کے حوالے سے سندھ حکومت کا کردار کیا ہے؟ کیا پیپلز پارٹی دوہرا کھیل کھیل رہی ہے؟ اور اسی لیے مریم کے کردار کو محدود رکھنے کے لیے پی ڈی ایم کے جلسے سے قبل بلاول ہاؤس کے اجلاس میں انہیں شریک نہیں کیا اور دوسری جانب صفدر کی گرفتاری کی مذمت کی؟ اور اب وفاقی حکومت اور فوج کو بدنام کرنے کے لیے سندھ پولیس کو استعمال کررہی ہے؟سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کے ’’احتجاج‘‘ سے قبل سب کچھ مدہم پڑ رہا تھا۔ اس لیے چھٹی کی درخواستوں کا یہ سلسلہ پولیس یا سندھ حکومت میں سے کسی کی بھی ایماء  پر شروع ہوا ہو تاہم اس واقعے کے بعد  ہمیں غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے کے باوجود دودرجن افسران کو گھر بھیجنا ہوگا۔ بابائے قوم کے مزار پر صفدر نے جو کچھ کیا اور اس پر قانون بے حرکت رہا، اس سے بانیٔ پاکستان کی روح کو ضرور تکلیف پہنچی ہوگی۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More