نظامِ شمسی سے باہر انتہائی کم وزن سیارہ دریافت

بول نیوز  |  Dec 05, 2021

ماہرینِ فلکیات نےنظامِ شمسی سے باہر ایک انتہائی کم وزن سیارہ دریافت کیا ہےجو زمین سے 31 نوری سال دور ہے اور اپنے مرکزی ستارے کے گرد مدار کو آٹھ گھنٹوں میں مکمل کرلیتا ہے۔

ایم آئی ٹی اور جرمن ایرو اسپیس سینٹر کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ GJ 367 bسیارے کا وزن زمین کا 55 فیصد ہے جو اسے اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سب سے کم وزن سیارہ بناتا ہے۔

اس سیارے کا قطر 5560 میل ہے جو مریخ سے تھوڑا زیادہ ہے لیکن اس کی بناوٹ عطارد (Mercury) جیسی ہے۔

نظامِ شمسی سے باہر یہ سیارہ چٹانی ہے لیکن اس میں زندگی کے آثار نہیں ہیں کیوں کہ اس کے اور اس کے مرکزی ستارے کے درمیان فاصلہ(تقریباً 6 لاکھ 20 ہزار میل) کم ہونے کے سبب اس کو وسیع پیمانے پر شعاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نظامِ شمسی کے پہلے سیارے عطارد اور سورج کے درمیان فاصلہ 3 کروڑ 60 لاکھ میل ہے۔

فی الحال ماہرین کے علم میں GJ 367 b واحد سیارہ ہے جو اس نظام میں اپنے مرکزی سیارے کے گرد گھوم رہا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس نظام میں مزید سیاروں کی دریافت ہوگی۔

اس سیارے کا اپنے مرکزی ستارے کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ انتہائی چھوٹا یعنی ایک دن سے بھی کم ہے۔

سیارہ GJ 367 زمین سے اتنا قریب ہے کہ محققین اس کے خصوصیات بتا سکتے ہیں جو بچھلے دریافت شدہ چھوٹے دورانیے کے مدار کے حامل سیاروں میں ممکن نہیں تھا۔

مثال کے طور پر ٹیم نے بتایا کہ یہ ایک چٹانی سیارہ ہے اور اس کی اندرونی سطح میں  ممکنہ طور پر عطارد کی طرح لوہے اور نکل کی دھاتیں ہیں۔

ستارے انتہائی قربت کی وجہ سے ماہرین کا اندازہ ہے کہ جتنی شعایں زمین سورج سے لیتی ہے، یہ سیارہ اس سے 500 گُنا زیادہ وصول کرتا ہے۔

نتیجتاً دن میں درجہ حرارت2700 F° تک چلا جاتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس قدر زیادہ ہے کہ  لوہا اور چٹان کسی بھی ماحول میں اُبل کر بھانپ بن جائیں تو زندگی کے آثار ہونا تو ممکن ہی نہیں۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More