انسان اتنا گوشت کیوں کھاتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 15, 2022

ہم جانتے ہیں کہ گوشت اور دودھ کی مصنوعات کی صنعت ہمارے سیارے کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے اور جانوروں کی پرٹین کا بہت زیادہ استعمال انسانی صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہے، پھر بھی انسان اتنا زیادہ گوشت کیوں کھاتے ہیں؟

انسان قبل از تاریخ زمانے سے گوشت کھاتا آ رہا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ گوشت کے استعمال میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرکے ادارے ایف اے او کے مطابق محض گزشتہ 50 برسوں میں ان مصنوعات کی پیداوار میں چار گنا اضافہ ہوا اور یہ قریب 350 ملین ٹن سالانہ ہو گئیں۔ اس رجحان میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ موجودہ پیشن گوئیاں بتاتی ہیں کہ 2050 ء تک ان مصنوعات کی سالانہ پیداوار 455 ملین ٹن تک ہو جائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 03:00 یہ تین غذائیں کھائیں، دماغ کو تیز بنائیں غذا کا غیر موثر ذریعہ

سائنسدان ایک عرصے سے اس انسانی رویے کے ماحول پر اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں، بالخصوص صنعتی طور پر پیدا کیے جانے والے جانوروں کے حوالے سے اور وہ اسے ' غیر مؤثر غذا کا ذریعہ‘ قرار دیتے ہیں ۔کیونکہ صنعتی طور پر ان جانوروں کی پیدائش و افزائش میں دیگر چیزوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی، پانی اور زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ گائے کے گوشت کی پیداوار چھ گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی ذمہ دار ہوتی ہے اور اس کے لیے درکار زمین 'پلانٹ پروٹین‘ یا پروٹین پیدا کرنے والے پودوں کی کاشت، جیسے کہ مٹر کی کاشت کے مقابلے میں 36 گنا زیادہ اراضی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مطالعے سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا گیا کہ گوشت اور دودھ کی مصنوعات سے پرہیز کرنا کرہ ارض پر ماحولیاتی اثرات کم کرنے کا سب سے بڑا طریقہ ہو سکتا ہے۔  گوشت اور دودھ کی اشیا کے استعمال کے بغیر عالمی کھیتی باڑی کے استعمال میں 75 فیصد سے بھی زیادہ کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے ذرائع کے مطابق عالمی حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے60 فیصد کی وجہ گوشت پر مبنی غذا بنتی ہے۔

گوشت خوری کے پیچھے نفسیات

جرمنی کے شہر 'ٹریئر‘ کی یونیورسٹی سے منسلک سماجی امور کے ایک محقق بنجمن بٹلر گوشت کھانے کی عادت کی وجہ دراصل ثقافت سمجھی جانے والی ضرورت کو قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،'' میرے خیال میں بہت سے لوگ صرف اور صرف ذائقے سے لطف اندوز ہونے کے لیے گوشت کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں اور ان کے لیے کھانے کی دیگر چیزیں کھانے میں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ بہت سے روایتی پکوان گوشت سے بنی ڈشز کےارد گرد ہی گھومتے ہیں۔ اکثر ہم کھاتے وقت خود سے یہ سوال تک نہیں کر رہے ہوتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟‘‘

کم گوشت کھانا ماحول دوستی ہے، لیکن یہ بات اتنی درست بھی نہیں

اس جرمن محقق کا خیال ہے کہ اس طرح کی عادات ہمیں یہ سوچنے سے قاصر کر دیتی ہیں کہ گوشت کا استعمال در حقیقت برا ہے مگر جو ہم ہر وقت کر رہے ہوتے ہبں۔‘‘ اس بارے میں ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ گوشت کھانے کو عمومی عادت، ایک قدرتی عمل، کام اور زندگی کا حصہ سمجھنا مردوں کا خاصا ہے۔

'' گوشت نے ہمیں انسان بنایا‘‘ مفروضہ

سائنس دانوں کا طویل عرصے سے یہ ماننا تھا کہ گوشت کھانے سے ہمارے آباؤ اجداد کو  انسانی جسم کی شکل حاصل کرنے میں زیادہ مدد ملی اور یہ کہ گوشت اور 'بون میرو‘ یا ہڈیوں میں پائے جانے والے گودے کو  کھانے سے 'ہومو ایریکٹس‘ یا تقریباً دو ملین سال پہلے پائے جانے والے انسانی حیاتیاتی نوع کو ایک بڑے دماغ کی تشکیل اور خوراک کے لیے درکار توانائی ملی۔ لیکن ایک حالیہ مطالعہ نے ہمارے ارتقاء میں گوشت کے استعمال کی اہمیت پر سوال اٹھایا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ ماہرین حیاتیات نے جتنا زیادہ سے زیادہ آثار قدیمہ سے انسانی ہڈیوں کے شواہد کی تلاش کا کام جاری رکھا انہیں اتنا ہی زیادہ ہڈیاں ملیں۔ مطالعے کی رپورٹ کے مصنفین لکھتے ہیں کہ زیادہ ہڈیوں کا ملنا اس بات کا ہر گز ثبوت نہیں کہ جس عرصے کے دوران کے یہ آثار قدیمہ سے ملیں اُس وقت گوشت خوری عروج پر تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More