دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ مکمل، تین سے چار روز میں رپورٹس متوقع

بی بی سی اردو  |  Jul 02, 2022

دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی حکم پر کراچی میں ان کے میڈیکل ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں اور تین چار روز میں ان ٹیسٹوں کی رپورٹ آنے کے بعد میڈیکل بورڈ ان کی عمر کا تعین کر سکے گا۔

پولیس نے دعا زہرہ کو سروسز ہسپتال میں میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا جہاں دعا زہرہ کی ہڈیوں اور دانتوں کے ایکسرے، خون کے ٹیسٹ، جسمانی معائنہ سمیت دیگر ٹیسٹ مکمل کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد دعا زہرہ کو دانتوں کے ٹیسٹ کے لیے ڈاؤ ڈینٹل ہپتال لے جایا گیا ہے۔ دعا زہرہ کے کیے گئے ٹیسٹ کی رپورٹس تین سے چار روز میں آئیں گی۔

کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم دعا کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کے لیے ان کو لاہور سے کراچی لے کر آئی جہاں اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے دعا کو اپنی تحویل میں لیا۔

میڈیکل بورڈ نے دعا کی والدہ کو بھی طلب کیا جنھوں نے بورڈ کے سامنے پیش ہو کر دعا کی زندگی سے متعلق سوالات کے جوابات دیے ہیں۔ جبکہ میڈیکل بورڈ نے دعا زہرہ کے والد اور وکیل کو بھی طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت نے 25 جون کو جاری کیے جانے والے فیصلے میں دعا زہرہ کے دوبارہ میڈیکل کے لیے بورڈ بنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد پولیس ٹیم دعا کو لینے لاہور پہنچی تھی۔

میڈیکل بورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹس آنے پر دعا زہرہ کی عمر کا تعین ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لیے ایک دس رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ میں دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے آئینی درخواست دائر کی تھی اور میڈیکل سرٹیفیکیٹ کو چیلینج کیا تھا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کسی کی بھی عمر کا تعین کرنے کے لیے حکام کیا طریقہ کا اختیار کرتے ہیں؟

عمر کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید بتاتی ہیں کہ کسی کی بھی عمر کا تعین پانچ مراحل سے کیا جاتا ہے، جس میں دستاویزات سے لے کر ہڈیوں کی پیمائش تک کے مراحل شامل ہیں۔

کوائف و تفصیلاتGetty Images

کسی بھی بچے یا بچی کی عمر کے تعین کا پہلہ مرحلہ کوائف لینا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق حکام پہلے اس کا بائیو ڈیٹا ریکارڈ کریں گے جس میں نام، والد کا نام، اگر شادی شدہ ہے تو شوہر کا نام، وہ عمر کتنی بتاتے ہیں، جسم پر شناخت کا نشان کیا ہے، ایسی چیزیں دیکھیں گے۔ اس کے بعد معائنے کی اجازت لی جاتی اور رضامندی کے لیے دستخط اور انگوٹھے کا نشان بھی لیا جاتا ہے۔

دستاویزات کی جانچ پڑتال

دوسرا مرحلہ دستاویزات کا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سیدکے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ دستاویزات میں کیا کیا دستیاب ہے، یعنیہسپتال کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ، بلدیاتی سطح کا برتھ سرٹیفیکٹ، نادرا کا برتھ سرٹیفیکیٹ، اس کے بعد سکول ریکارڈ اگر کوئی دستیاب ہو یا اور کوئی دستاویز جیسے دعا زہرہ کیس میں ان کے والدین کا نکاح نامہ ہے۔

جسمانی معائنہ

عمر کے تعین کے تیسرے مرحلے میں اس لڑکے یا لڑکی کا جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق چاہے وہ بچہ ہو یا چاہے بچی، ان کا قد، وزن ، جسمانی خدو خال یا بلوغت کی علامات جیسے بغلوں کے بال وغیرہ، داڑھی، موچھیں وغیرہ، جبکہ لڑکیوں میں چھاتی کی نشوونما (بریسٹ گروتھ) ماہوری کا آنا یا شروع ہونا شامل ہے، اس سب کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

دانتوں سے عمر کا اندازہ

عمر کا اندازہ لگانے کے لیے دانتوں کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ سید بتاتی ہیں کہ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ دانت کتنے موجود ہیں، وہ گنے جانتے ہیں، ساتھ میں دونوں جبڑوں کا پورا کا پورا ایکسرے بھی کیا جاتا ہے۔

ایکسرے کرنے کے بعد دانتوں کا ماہر یہ بھی بتاتا ہے کہ جو دانت کی جڑیں ہیں ان کی سطح کیا ہے اور دانتوں کی تعداد سے بھی عمر کا پتہ چلتا ہے اور دوسرا ان جڑوں سے بھی مدد ملتی ہے۔

ہڈیوں کی پیمائشGetty Images

ہڈیوں کی پیمائش بھی عمر کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید مزید بتاتی ہیں کہ پانچویں مرحلے لڑکے یا لڑکی کی کہنی، کلائی، کندھے کی ہڈی کا ایکسرے کریں گے۔ اس کے علاوہ پیلوس کا بھی ایکسرے کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

میڈیکل رپورٹ میں دعا زہرا کی عمر کا تعین، والد کے تحفظات

دعا زہرہ کیس سے متعلق پانچ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

دعا زہرہ کے والد کی بیٹی کو شیلٹر ہوم بھجوانے کی درخواست واپس، نیا میڈیکل بورڈ بنانے کی اپیل

ماہر ریڈیولوجسٹ یہ بتاتے ہیں کہ کے ہڈیوں کی عمر کتنی ہے، اس کے بعد ہڈیوں کی عمر، دانتوں کی عمر، فزیکل عمر، جو دستاویزات میں عمر آگئی، ان سب کے مشاہدہ اور مطالعہ کرکے ایک اوسط پر لاکر عمر کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

اگر تمام پیمائشیں اورٹیسٹ درست انداز میں کی گئی ہوں تو اس میں غلطی کی گنجائش میں ایک سال کم یا زیادہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ایوریج عمر نکالی جاتی ہے، جیسے عمر 15 سے 16 سال مگر 15 سال کے قریب۔

وہ کہتی ہیں کہ ’عمر کے تعین میں ہمیں جن ماہرین کی اشد ضرورت ہوتی ہے ان میں ریڈیولوجسٹ یعنی ایکسرے کا ماہر، ڈینٹل سرجن، سول سرجن، پولیس سرجن، ایک معائنہ کار ڈاکٹر اورگائناکولوجسٹ شامل ہیں۔ کوشش تو ہوتی ہے کہ ایک سے دو روز میں رپورٹ دے دی جائے لیکن جب سارے ماہر شامل ہوجاتے ہیں تو پھر ہر کسی کو اسی حساب سے وقت درکار ہوتا ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More