تحریکِ طالبان پاکستان کو افغانستان سے مدد مل رہی ہے: وزیر داخلہ

اردو نیوز  |  Dec 01, 2022

پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان سے مدد مل رہی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بلوچستان کے علاقے بلیلی میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی جس پر ان خدشات نے جنم لیا ہے کہ کہیں دہشت گری پھر سر نہ اٹھا لے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پورے خطے کے لیے خطرناک ہیں۔

ان کے مطابق ’ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے اور دہشت گردی جڑ پکڑ رہی ہے۔‘

انہوں نے صوبوں کو یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی امن و امان کے حوالے سے وفاقی مدد کی ضرورت پڑے گی تو انہیں فراہم کی جائے گی۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بقول ٹی ٹی پی کو افغانستان سے مدد ملنا وہاں کی حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کرنا چاہییں، حالات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور جہاں ضرورت ہو گی وہاں وفاق بھی مدد کرے گا۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے وزیراعظم کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلٰی محمود خان شریک نہیں ہوئے، جبکہ انہیں شریک ہونا چاہیے تھا۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

’طالبان نے وعدہ صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے کیا تھا جو ان کو پورا کرنا چاہیے۔‘

’’اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو الیکشنز ہوں گے‘رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو شدید کا تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب وہ حکومت میں تھے ان کا مقصد اپوزیشن کو صفحہ ہستی سے مٹانا تھا اور انہوں نے پونے چار سال اسی میں گزار دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسوں میں اسمبلیاں توڑنے کی تقریریں کرنا جمہوریت کی توہین ہے۔

صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر انتخابات ہوں گے جن میں بھرپور حصہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں مسلم لیگ ن بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More