’یہ انتہائی ناگفتہ بہ حالت ہے، ٹائلٹس اور نہانے کی جگہ اس قدر گندی ہے کہ استعمال کے قابل نہیں۔‘خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ نوجوان نے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ والدین سے جلد رابطہ ہو جائے گا تاکہ یہاں سے واپس جا سکوں۔‘یہ صرف ایک کسی ایک فرد کی کہانی نہیں۔ میانمار کے اس کھلے حراستی مرکز میں جو سرحدی علاقے میں واقع ہے، ایسے سات ہزار لوگ ہیں جو اپنے گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں۔دن کو سخت گرمی میں پسینے میں شرابور رہنے والے یہ افراد رات کو مچھروں کے غول کے نشانے پر رہتے ہیں۔ان سات ہزار افراد کا تعلق 24 ایشیائی ملکوں سے ہے اور ان کو آن لائن فراڈ کے ذریعے روزگار کے جھانسے میں میانمار لایا گیا تھا۔ تھائی لینڈ کی فوج کی مدد سے اغواکاروں کے چنگل سے رہائی کے بعد اب یہ اپنے ملکوں کو واپسی کے منتظر ہیں۔ان افراد کو بینکاک کے راستے ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ اس علاقے میں گزشتہ برس متعدد پاکستانی شہریوں کو بھی ملازمت کا جھانسہ دے کر اغوا کیا گیا تھا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ٹیم نے تھائی سرحد کے قریب واقع قصبے میواڈی میں اس عارضی کیمپ کا دورہ کیا جہاں کم گنجائش والی جگہ پر ہزاروں افراد کو رکھا گیا جن کی حالات ناگفتہ بہ تھی اور وہ وہاں سے نکالے جانے کی درخواست کر رہے تھے۔ان افراد کو بینکاک کے راستے ان کے وطن واپس بھیجا جا رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پیوانگ کے نام سے اپنی شناخت کرانے والے چین کے ایک شہری نے بتایا کہ ’بہت خوش ہوں، بالآخر میں اس جہنم سے نکل پایا ہوں۔ چین سب سے محفوظ جگہ ہے۔‘مدد کی اپیلحالیہ برسوں میں حکومتی افواج کے کنٹرول سے باہر میانمار کے سرحدی علاقے میں ایسے جعل ساز گروپ سرگرم ہوئے جنہوں نے آن لائن فراڈ کرتے ہوئے جنوبی ایشیائی ملکوں کے ہزاروں شہروں کو ملازمت کے جھانسے میں وہاں بلا کر قید کیا۔اے ایف پی کے مطابق اس علاقے میں جرائم کی یہ صنعت سالانہ اربوں ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔میانمار میں فوج برسرِاقتدار ہے اور پڑوسی ملکوں کی جانب سے بھی اُن سے تعلقات اچھے ہیں۔ اس وقت چین دنیا کا وہ ملک ہے جس کے فوجی حکمرانوں سے اچھے تعلقات ہیں۔چین کے دباؤ کے بعد میانمار کے سرحدی علاقے میں جعل ساز گروپ کے ان سینٹرز کے خلاف کارروائی میں تیزی آئی جبکہ پڑوسی ملک تھائی لینڈ کی فوج نے بھی دباؤ بڑھایا۔سرحدی قصبے میواڈی میں عارضی حراستی کیمپ میں موجود بعض افراد نے اے ایف پی کو بتایا کہ سینٹرز کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ فوجی وردی میں ملبوس افراد کرتے ہیں۔تاہم رہا کرائے گئے ہزاروں افراد کو واپس اُن کے ملکوں میں بھیجنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔بارڈر گارڈ فورس کے ترجمان کے مطابق اُن کو وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے۔ فوٹو: اے ایف پیجن افراد کو اغواکار گروپ سے رہائی دلائی گئی اُن میں سے زیادہ تر کے پاسپورٹ لے لیے تھے اور متعدد نے اے ایف پی کی ٹیم کو بتایا کہ اُن کے موبائل فون بھی چھین لیے گئے تھے۔ایک انڈین شہری نے بتایا کہ اُس نے تھائی لینڈ میں ڈیٹا انٹری کی ملازمت کے لیے اپلائی کیا تھا۔ اور اس کو یہاں لا کر حراست میں رکھ کر کام لیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بینکاک میں اپنے سفارتخانے سے کئی مرتبہ رابطہ کیا ہے۔ اُن سے التجا کی کہ ’میری مدد کریں۔ لیکن کوئی میری مدد کرنے کو تیار نہیں۔‘میانمار کی فوج سے مل کر کام کرنے والی کیرن بارڈر گارڈ فورس کا اس علاقے میں کنٹرول ہے اور اُن کے ترجمان کے مطابق ’ہزاروں افراد کو جعل ساز گروپ کے ان سینٹرز سے نکالا ہے۔‘ترجمان نینگ مونگ ژا نے کہا کہ ’ہم ہزاروں لوگوں کے لیے تین وقت کا کھانا تیار کرتے ہیں۔ اور اُن کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔‘بارڈر گارڈ فورس کے ترجمان کے مطابق اُن کو وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے۔