بابر اعظم کی بطور کپتان واپسی: ’حیرت ہے بابر ہر بار کپتانی کیسے قبول کر لیتے ہیں؟‘

بی بی سی اردو  |  Jul 05, 2026

Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے بابر اعظم کو کپتان مقرر کیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 25 جولائی سے 6 اگست تک کھیلی جائے گی جس کے بعد انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 19 اگست سے شروع ہو گی جو 13 ستمبر تک جاری رہے گی۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے 16 رکنی جبکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے 17 رکنی سکواڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔

سعود شکیل کو انگلینڈ سیریز کے لیے 17ویں کھلاڑی کے طور پر شامل کیا گیا ہے، تاہم ان کی شمولیت فٹنس سے مشروط ہو گی۔

سکواڈ میں چار ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جنھوں نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا۔ ان میں بائیں ہاتھ سے بالنگ کروانے والے سپنر علی عثمان، دائیں ہاتھ کے بلے باز محمد اویس ظفر، دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر عبید شاہ اور وکٹ کیپر بیٹسمین محمد غازی غوری شامل ہیں۔

پاکستان ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا میچ 25 سے 29 جولائی تک تاروبا کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گا جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ دو اگست سے پورٹ آف سپین کے کوئینز پارک اوول میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 19تا 23 اگست کو لیڈز میں کھیلا جائے گا جبکہ لارڈز میں دونوں ٹیموں کے درمیان 27سے 31 اگست تک دوسرا ٹیسٹ کھیلا جائے گا۔

دونوں ٹیمیں سیریز کا آخری ٹیسٹ نو ستمبر سے برمنگھم میں کھیلیں گی۔

بابر اعظم کی واپسی

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا تھا کہ بابر اعظم نے ون ڈے اور ٹیسٹ میں اپنی پرفارمنس سے خود کو ثابت کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمیں بابر اعظم کو اعتماد دینا ہے اور دیکھنا ہے کہ ہم نے انھیں کہاں استعمال کرنا ہے۔

پاکستان سپر لیگ میں حیدرآباد کنگزمین کے تاریخی کم بیک اور راولپنڈیز کی ناکامی کی پیچھے چھپی کہانیکوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی یارکر کِنگ وقار یونس کی ان کہی داستان: ’میری زندگی واقعی ایک سفر رہی ہے‘500 میچز کے بعد ریٹائرمنٹ: ’چاچا کرکٹ‘ عبدالجلیل جنھوں نے ورلڈ کپ کے لیے اپنا مکان بھی بیچ دیا

سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کرکٹ بورڈ یا سلیکشن کمیٹی یہ نہیں چاہے گی کہ صرف ایک سیریز کے لیے کسی کو کپتان بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سب اچھا جا رہا ہو تو پھر تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ ہم تو یہی چاہیں گے کہ جس کو موقع ملے، دو تین سال کے لیے ملے۔

’جیسے ہی لگنے لگا کہ پرانے بابر اعظم واپس آ گئے۔۔۔ انھیں کپتان بنا دیا‘

جہاں ایک طرف بابر اعظم کی بطور کپتان ٹیم میں واپسی پر ان کے مداح خوش ہیں تو وہیں کچھ پی سی بی کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔

بابر کی بطور کپتان واپسی کی خبر پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ اب آئے گا کرکٹ دیکھنے کا لطف۔

ایک صارف نے پی سی بی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ پی سی بی کی کپتانی کا چکر ایسا ہے کہ پہلے بابر کو ہٹاؤ، پھر پچھتاؤ اور پھر دوبارہ اسے مقرر کر دو۔

حمزہ نامی صارف ایکس پر لکھتے ہیں کہ اب وہ وقت واپس آ گیا ہے جب کپتان کو پچ سے لے کر بال کے رنگ تک ہر چیز کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا کیونکہ اب بابر کپتان ہے۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین شان مسعود کو کپتانی سے ہٹانے کے فیصلے کو تو سراہ رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ بابر کو ان کی جگہ کپتان مقرر نہیں کرنا چاہیے تھا۔

سپورٹس صحافی سلیم خالق لکھتے ہیں کہ شان مسعود کو کپتانی سے ہٹانے کا فیصلہ شاید صحیح ہو لیکن ان کی جگہ بابر کو لگانا غلط ہے۔

وہ لکھتے ہیں ’وہ ماضی میں متعدد بار ناکام ہوئے اور ہر بار انھیں ہٹایا گیا، اور اب بھی ان کے کامیاب ہونے کے امکان کم ہے۔‘

سلیم خالق کا مزید کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ ہر بار پاکستان ٹیم کی سربراہی کی ذمہ داری کیسے قبول کر لیتے ہیں؟

صحافی فیضان لکھانی سوال کرتے ہیں کہ کیا بابر کا بطور پاکستان ٹیسٹ کپتان دوسرا دور پہلے سے اچھا ہو گا؟

ایکس پر ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ’یہ بابر کے لیے اچھا نہیں۔‘

انھوں نے لکھا ’جیسے ہی لگنے لگا کہ پرانے بابر اعظم واپس آ گئے ہیں، انھوں نے انھیں کپتان بنا دیا۔‘

سپورٹس کمنٹیٹر مرزا اقبال بیگ نے ایکس پر لکھا کہ آخر کپتانی کی میوزیکل چیئر کب تک جاری رہے گی، گذشتہ 16 سال میں پاکستان نو ٹیسٹ کپتان بدل چکا ہے۔

Getty Imagesبابر اعظم کی کپتانی کا سفر

بابر اعظم کو سنہ 2019 میں سرفراز احمد کی جگہ پاکستان کی ٹی 20 ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا، 2020 میں اُنھیں تینوں فارمیٹس میں ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا تھا۔

سنہ 2023 میں انڈیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث اُنھیں تینوں فارمیٹس کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سنہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے پہلے اُنھیں ٹی 20 فارمیٹ کی کپتانی سونپ دی گئی تھی۔ اُس وقت کے ٹی 20 کپتان شاہین شاہ آفریدی کی جگہ کپتانی قبول کرنے پر بعض حلقوں نے بابر کے فیصلے پر تنقید بھی کی تھی۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم کو امریکہ کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی جبکہ روایتی حریف انڈیا نے بھی پاکستان کو ہرا دیا تھا اور پاکستان کی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہو گئی تھی اور بابر کو پھر ہٹا دیا گیا تھا۔

اب ایک مرتبہ پھر بابر اعظم کو ٹیسٹ کپتان مقرر کیا گیا ہے، بابر اعظم 20 ٹیسٹ میچز میں پاکستان ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں جن میں سے 10 میچوں میں پاکستان کی ٹیم فاتح رہی جبکہ چھ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کوچ سے مکالمہ اور پھر پی ایس ایل میں رنز کے انبار: بابر اعظم کی فارم میں واپسی کی کہانی ’آٹھ لاکھ روپے کا ایک رن‘: پی ایس ایل کی نیلامی میں کروڑوں روپے میں فروخت ہونے والے کرکٹرز کی کارکردگی کیسے رہی؟کراچی سے کریئر شروع کرنے والے تندولکر جو عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی طرف سے بھی کھیلےبس پر پتھر سے حملہ: جب انضمام الحق ’بال بال بچے‘ اور پاکستان نے انڈیا میں ون ڈے سیریز کے باقی تمام میچ جیتےعمران خان کا سورو گنگولی کو مشورہ، سلیم ملک کی دھمکی اور مشرف کی فون کالعمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More