Getty Images
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لاہور سے دو غیر ملکی خواتین کے اغوا برائے تاوان کے کیس میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک بڑی سیاسی شخصیت کے رشتہ دار ملوث ہیں اور پولیس میرٹ پر اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اتوار کو لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ جب خواتین کی بازیابی کے لیے ڈیفنس میں چھاپہ مارا گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں نائب وزیرِ اعظم کے رشتہ دار کرائے پر رہتے تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایک ملزم رضا ڈار کے اہلخانہ نے ہی ان کا نمبر پولیس کو دیا جس کے بعد ان کی گرفتاری میں مدد ملی۔
اس کیس میں ’باس‘ نامی شخص سے متعلق ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ’یہ وحید نامی شخص ہے اور اس پر لگ بھگ 10 مقدمات ہیں۔‘
ِخیال رہے کہ اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے جمعے کو بی بی سی نیوز اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ پولیس نے لاہور کے علاقے ڈیفنس سے نیدرلینڈز اور سپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو بازیاب کرایا تھا۔ ان خواتین نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں یرغمال بنا کر قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور انھیں مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
تاہم اب ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو لاہور کے علاقے بھٹہ چوک کے قریب اُس وقت بازیاب کرایا گیا جب وہ ملزمان سے مڈبھیڑ کے بعد گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور پھر پولیس نے انھیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں تھیں اور اس دوران وہ مری اور دیگر مقامات پر بھی گئیں اور 29 جون کو وہ لاہور آئیں اور پھر اُن کے ساتھ اغوا کا واقعہ پیش آیا۔
واضح رہے کہ جمعے کو پولیس نے بتایا تھا کہ اس کیس میں چار ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا اور اب وہ پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ تاہم اب ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ افراد حراست میں ہیں۔
جمعے کے روز لاہور کی کینٹ کچہری میں چار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے پولیس کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پہلی پیشی کے موقع پر ملزمان کا کوئی وکیل پیش نہیں ہوا اور تاحال نہ ہی ملزمان کے خاندان کا کوئی فرد سامنے آیا ہے اور نہ ہی اُن کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
’ملزم گھبرا کر آگے بڑھ گیا جسے گرفتار کر لیا گیا‘
ڈی آئی جی فیصل کامران نے خواتین کی بازیابی کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب دونوں خواتین ملزمان کی گاڑی سے باہر نکلیں تو اُنھوں نے ایک فلٹر ہاؤس میں پناہ لی۔
ایک غیر ملکی خاتون نے اپنے والد اور اے ایس پی ڈیفنس کو کانفرنس کال پر لیا اور بتایا کہ وہ بھاگ آئی ہیں اور ایک فلٹر ہاؤس میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اے ایس پی نے موقع پر پہنچ کر دونوں خواتین کو اپنی تحویل میں لیا۔
ملزم رضا ڈار کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے فیصل کامران نے کہا کہ ’لڑکیوں کے گاڑی سے نکلنے اور دوسری گاڑی سے ٹکر کے بعد رضا ڈار گھبرا کر آگے بڑھ جاتا ہے، اسے کال کی جاتی ہے کہ سرینڈ کر دے اور پھر ایس پی کینٹ اسے خود گرفتار کرتے ہیں ہیں اور پولیس کی تحویل میں آنے کے بعد اس کے ساتھ تفتیش کا آغاز ہو جاتا ہے۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ’اہلخانہ نے یقیناً رضا ڈار سے کہا ہو گا کہ وہ سرینڈ کر دے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ جب حقیقت سامنے آئی کہ ملک کے ایک بڑے آدمی کا عزیز اس کیس میں ملوث ہے تو اس پر اپنے سینئر افسران اور سی سی پی او، آئی جی اور حکومت کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ اس معاملے میں وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سمیت اعلی حکام نے ملزمان سے کوئی رعایت نہ برتنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سارے ملزمان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
’تمام رقم حاصل ہو چکی ہے، اب تم آزاد ہو‘
اس مقدمے میں شامل تفتیشی ٹیم کے ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی نیوز اردو کے ساتھ متاثرہ خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا گیا بیان شئیر کیا ہے۔
بیان کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران لاہور کے ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔
ان کا الزام ہے کہ مذکورہ شخص پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات سے تعلق کے بھی دعویدار تھے جس کی وجہ سے انھوں نے ان پر اعتماد کیا اور ان کے لیے پوری محنت سے کام کیا۔
متاثرہ خاتون نے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اس دوران وہاں موجود کچھ مسلح افراد نے انھیں کانچ دکھا کر ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ ان کا الزام ہے کہ لاہور کے اس مذکورہ شخص نے ان کے نمبر سے ان کے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے مطالبے کے پیغامات بھیجے، تاہم کسی نے جواب نہیں دیا۔
خاتون کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں ان کی والدہ نے ایک لاکھ ڈالر کا انتظام کر لیا۔ ان کے بیان کے مطابق آخری دن مذکورہ شخص نے کہا کہ 'تمام رقم حاصل ہو چکی ہے، اب تم آزاد ہو'۔
خاتون کے مطابق مذکورہ شخص انھیں اور دوسری غیر ملکی خاتون کو کار میں بٹھا کر گھر سے باہر لے گئے اور راستے میں ان کے پاسپورٹس بھی واپس کر دیے۔ ان کے مطابق وہ انھیں ائیرپورٹ لے جا رہے تھے اور مسلسل کسی سے فون پر رابطے میں تھے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوسری جانب سے مذکورہ شخص کو بتایا جا رہا تھا کہ 'باس کی ہدایات کچھ اور ہیں'۔ اسی دوران گاڑی ایک اور گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں خواتین نے موقع دیکھ کر گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور مدد کے لیے چیخنا شروع کر دیا۔
خاتون کے مطابق وہاں موجود افراد نے ٹریفک پولیس اہلکار کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس اہلکار انھیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ راستے میں پولیس نے کہا کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے۔
خاتون کے مطابق بعد میں وہ اور ان کی ساتھی دوسری خاتون گاڑی سے نکل کر فرار ہو گئیں۔ اسی دوران ایک اور پولیس گاڑی موقع پر پہنچی جس میں ایک خاتون اہلکار بھی موجود تھیں۔
خاتون کے مطابق اصل پولیس کی آمد کے بعد انھیں محفوظ ہونے کا احساس ہوا۔
Getty Imagesعلامتی تصویرایف آئی آر میں کیا ہے؟
واقعے کا مقدمہ بازیاب ہونے والی نیدر لینڈز کی ایک خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے اور اس کے مطابق مبینہ اغوا کا واقعہ 29 جون کو پیش آیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات سنگاپور میں لاہور کے ایک شخص سے ہوئی تھی، جس نے نہ صرف دونوں خواتین کو پاکستان آنے کی دعوت دی بلکہ ان کے ویزے بھی جاری کروائے۔
ایف آئی آر کے مطابق 29 جون کو انھیں اس شخص، اس کے باس اور دیگر تین افراد نے اغوا کیا۔
درخواست گزار کے مطابق اغواکار’بہت جارحانہ‘ برتاؤ کر رہے تھے اور اس دوران انھیں پاکستان بُلانے والا شخص بھی متاثرہ شخص ہونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس دوران انھیں ’آزاد‘ کرنے کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور ان کی ساتھی کا متعدد بار ریپ کیا گیا اور ان کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔
اس ایف آئی آر کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق لکھا گیا ہے۔
Getty Imagesعلامتی تصویر15 لاکھ ڈالر کا مطالبہ اور ’لڑکی کے والد کی ون فائیو پر کال‘
جمعے کو ڈی ائی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کے والد نے سپین سے پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر کال کی تھی، جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی دو دن سے پاکستان آئی ہوئی ہے اور آخری مرتبہ جب ان کی اپنی بیٹی سے بات ہوئی تھی تو انھوں نے بتایا کہ اسے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان نے اغوا کرلیا ہے اورپندرہ لاکھ ڈالر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سینیئر پولیس افسر کے مطابق جب کوئی ایسی کال بیرون ملک سے آتی ہے تو اس کی اطلاع اعلیٰ افسران اور چیف منسٹر ہاؤس کو دی جاتی ہے۔
’جیسے ہی یہ کال موصول ہوئی تو وزیر اعلیٰ کی کال آئی اور انھوں نے کہاکہ ’دو گھنٹے کے اندر اندر یہ لڑکیاں بازیاب کروائیں اور ان ملزمان کو گرفتار کریں۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق سپین سے آنے والی کال میں یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی نے والد سے گفتگو کے دوران اس گاڑی کا نمبر بھی بتایا تھا، جس میں ملزمان انھیں سوار کرکے لے جا رہے تھے۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ خواتین اپنی مرضی سے پاکستان آئیں تھیں اور اپنے کہیں بھی آنے جانے کی اطلاع اور تصاویر اپنے گھر والوں سے شئیر کر رہی تھیں۔‘
’ہم نے ان لڑکیوں کے گھر والوں سے فوراً تمام تصاوپر منگوائیں، جس میں اس گاڑی کی تصویر بھی شامل تھی جس پر وہ ان لڑکوں (مبینہ ملزمان) کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ ہم نے اس گاڑی کی نمبر پلیٹ سے فوری سارا ڈیٹا نکال لیا اور اس کی ٹریسنگ شروع کر دی۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہی انھیں معلوم ہوا کہ یہ ’گاڑی کب شاہدرہ سےگزری، کب سرگودھا پہنچی، کب اسلام آباد گئی، وہاں کہاں کہاں رکی۔‘
’اس طرح ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم لاہور کے ڈیفینس کے علاقے تک جا پہنچے، جہاں ہم نے چھاپہ مارا اور ان لڑکیوں کو بازیاب کروایا۔‘
’ہم نے لڑکیوں کو بازیاب کروایا اور پکڑے جانے والے ملزمان کی مدد سے دیگر ملزمان کو پکڑا۔‘
Getty Images
سینیئر پولیس افسر کے مطابق ’ابتدائی تفتیش میں لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کے ساتھ ریپ بھی کیا گیا ہے۔‘
فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا میڈیکل معائنہ بھی کروالیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی رپورٹ بھی مل جائے گی۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان کو کل متعلقہ عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والی ان غیر ملکیوں لڑکیوں کے سفارت خانوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور انھیں جلد ہی ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔
معاملہ ہے کیا؟
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ سارا معاملہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے وعدے سے شروع ہوا تھا۔
ان کے مطابق یہ معاملہ پاکستان کے باہر سے شروع ہوا جب یہ دونوں غیر ملکی خواتین مرکزی ملزم سے سنگاپور میں کاروبار کے سلسلے میں ملیں۔ وہاں ان دونوں پارٹیوں کے درمیان کرپٹو میں سرمایہ کاری کے لیے بات چیت ہوئی۔
’مرکزی ملزم اور اس کے دوست نے مل کر ڈالرز میں لڑکیوں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی اور ان کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سرمایہ کاری سے آنے والا منافع آپس میں تقسیم ہوگا، جس کے بعد یہ لڑکے پاکستان آگئے۔‘
تاہم فیصل کامران کے مطابق ان خواتین نے ملزمان کو منافع کی رقم نہیں دی اور ان کے ’فون کالز اور مسیجز کا جواب دینا بند کر دیا۔‘
سینیئر پولیس افسر کہتے ہیں کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کرنے پاکستان آئی تھیں اور انھیں تین جولائی کو پاکستان سے واپس جانا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں میں گھوتے پھرتے رہے۔ جس میں لاہور، اسلام آباد اور مری بھی شامل ہیں۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کی کھانے وغیرہ کھائے۔‘
’ان خواتین کی واپسی تین جولائی کو تھی، اس لیے یہ لاہور واپس آگئیں۔ جیسے ہی یہ واپس لاہور پہنچیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا ’میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔‘
’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تاوان کے لیے پیسے مانگے۔‘
ڈی آئی جی فیصل کامرن کہتے ہیں کہ ’بےشک یہ لین دین کا معاملہ ہو لیکن پیسوں کی واپسی کے لئے کسی کو اغوا تو نہیں کیا جا سکتا۔‘
’ایک وعدہ‘ اور ڈیلیٹ شدہ میسج: اپنی ہی نومولود بیٹی کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار والد پر پولیس کو کیوں شک ہوا؟اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟یوٹیوبر کے والد کا اغوا اور ’تاوان کی رقم کے ساتھ فرار‘ ہوتے ملزمان کی ہلاکت کا تنازع: پولیس ملزمان تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی؟22 کروڑ روپے کا قرض اور دوست کی مدد سے اغوا برائے تاوان کا ’ڈرامہ‘ جس کی ویڈیو کراچی کے ساحل پر بنی’زبردستی ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا گیا‘: خضدار سے اغوا ہونے والی آسمہ بی بی کو پولیس نے کیسے بازیاب کروایا؟