اسلام آباد میں تکرار کے بعد پاکستانی فضائیہ کے افسر کے قتل کے معاملے میں جہاں پولیس نے ملزم سعد عباسی کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کر کے اسے شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں تاحال اس واقعے کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی چشم دید گواہ جو کہ ملزم کے ساتھ آئی تھی، وہ تاحال پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے بھی اس واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب تھانہ مارگلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ابھی تک اس واقعے سے متعلق مقدمہ کا اندارج نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ افسر کے اہلخانہ کی طرف سے ابھی تک اس بارے میں درخواست متعلقہ تھانے میں موصول نہیں ہوئی ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کا واقعہ اتوار کی صبح سیکٹر ایف ایٹ میں واقع شاہین چوک کے قریب پیش آیا تھا جب مقتول نے سڑک کنارے ایک خاتون کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کرنے والے ملزم کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
اسی کوشش کے دوران سعد عباسی نے مبینہ طور پر عاصم طارق پر گولی چلا دی تھی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔
اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میں اسلام آباد کے آئی جی علی ناصر رضوی نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔
مقدمے کی تفتیش کرنے والی اسلام آباد پولیس کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایاز حسین نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ زیرِ حراست ملزم سعد کو پہلے مرحلے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے گا جہاں پر اس کی شناخت پریڈ ہو گی اورشناخت پریڈ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ملزم کا جسمانی ریمانڈ لے کر مقدمے کی تفتیش شروع کی جائے گی۔
انھوں نے بتایا ملزم کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے ہے اور وہ اسلام آباد میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرائے کے گھر میں رہتا تھا۔
ڈاکٹر ایاز حسین کے مطابق پولیس نے ایبٹ آباد میں ملزم کے اہلخانہ اور اسلام آباد میں جس جگہ پر وہ کام کرتا تھا، وہاں اس کے ساتھی ملازمین سے ملاقات اور رابطہ کرکے ملزم کے بارے میں مزید معلومات جمع کی ہیں جو کہ اس مقدمے کی تفتیش میں کارآمد ثابت ہوں گی۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا ملزم اور مقتول اس واقعے سے پہلے بھی ایک دوسرے کو جانتے تھے یا ان کی پہلے ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی تو ڈاکٹر ایاز حسین کا کہنا تھا کہ دونوں پہلے ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے اور فضائیہ کے افسر ایک خاتون کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کرنے کے لیے آگے آئے تھے کہ ملزم نے ان پر فائرنگ کر دی۔
Getty Images
اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو پاکستانی فضائیہ کے ایک افسر کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے لیے راولپنڈی جا رہے تھے، جب اُنھوں نے دیکھا کہ ایک شخص زبردستی ایک خاتون کو اپنے ساتھ لیجانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن یو ٹرن لے کر گاڑی موٹر سائیکل کے سامنے لے آئے اور ملزم کو روکا، مزاحمت پر ملزم نے اُن پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے اور ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد میں شاہین چوک کے قریب پیش آیا، جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 11 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن نے وہی کیا جو ایک ذمہ دار شہری کرتا ہے اور اُنھوں نے ایک محبِ وطن شہری ہونے کا ثبوت دیا۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزم اور خاتون ایک ہی جگہ پر کام کرتے تھے اور ملزم ماضی میں خاتون کو پک کرتا رہا ہے، تاہم اتوار کو اس نے اسے زبردستی کہیں اور لیجانے کی کوشش کی۔
ایس پی سٹی ایاز حسین نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص ایک لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو افسر کے سینے پر لگی۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے پاکستانی فضائیہ کے افسر کی موت پر افسوس کا اظہاری کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دیں۔
’ملزم غلط ارادے سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا‘
ایس پی سٹی ایاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ ملزم غلط ارادے کی نیت سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا کہ شاہین چوک کے قریب لڑکی نے زبردستی موٹر سائیکل رکوائی اور ملزم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔
اُنھوں نے کہا کہ ملزم مبینہ طور پر زبردستی لڑکی کا ہاتھ کھینچ کر موٹر سائیکل پر بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران فضائیہ کے گروپ کیپٹن وہاں پر آ گئے اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو ایئر فورس کے افسر کی چھاتی پر لگی اور وہ موقع پر دم توڑ گئے۔
یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ مارگلہ کی حدود میں ایئر یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی کے سامنے پیش آیا۔
واقعے کے بعد گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت کو پاکستان ائیر فورس ہسپتال یونٹ ٹو منتقل کر دیا گیا، جبکہ تھانہ مارگلہ پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او صدیق اور ڈیوٹی افسر نوید فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔
اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟بلوچستان میں اہلیہ اور بیٹیوں کے سامنے کراچی کے تاجر کا قتل: ’اگر جانیں محفوظ نہیں تو لوگوں کو وہاں جانے سے روک دیا جائے‘راولپنڈی میں نوجوان کے قتل اور لاش کو گلیوں میں گھسیٹے جانے کا واقعہ: پیسوں کا لین دین جو دو ہلاکتوں کا سبب بناسینیٹ ملازم کا قتل: اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت، دو افراد کو عمر قید کی سزا
پولیس نے مذکورہ لڑکی کو تحویل میں لے کر اس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم واردات کے بعد فیض آباد سے لاہور جانے والی بس پر سوار ہوا اور راستے میں بھیرہ کے قریب بسسے اترا اور اسلام آباد جانے والی بس پر سوار ہوا اور پھر واپس اسلام آباد پہنچ گیا۔
ایس پی سٹی کی سربراہی میں پولیس پارٹی نے اسلام آباد میں واقعہ نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق ملزم نے جس پستول سے گولی چلائی تھی اس کو کہیں پھینک دیا ہے اور ملزم کی نشاندہی پر پستول کو تلاش کیا جا رہا ہے۔
ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ملزم اور لڑکی دونوں تھانہ آبپارہ کی حدود میں واقع ایک کیش اینڈ کیری پر کام کرتے تھے اور ان کی دوستی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایئر فورس کے افسر کو قریبی ہسپتال لیجایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
Getty Images
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے جاری بیان میں خاتون کو بچانے کے دوران ایئر فورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے جبکہ آئی جی اسلام آبادسے افسوسناک واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کی جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر کے اغوا اور قتل کے بعد پولیس ملزمان تک کیسے پہنچی؟راولپنڈی میں نوجوان کے قتل اور لاش کو گلیوں میں گھسیٹے جانے کا واقعہ: پیسوں کا لین دین جو دو ہلاکتوں کا سبب بنااسلام آباد میں خاتون کے قتل پر بھائی گرفتار: ’لاش کو بھینسوں کے باڑے میں دفن کیا گیا تھا‘سینیٹ ملازم کا قتل: اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی کو سزائے موت، دو افراد کو عمر قید کی سزانور مقدم کیس: وہ قتل جس نے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا