ٹرمپ کی فیفا سے فولارن بالوگن کی سزا معطلی کی درخواست کی تصدیق: ’پابندی برقرار رہتی تو ٹورنامنٹ پر بڑا داغ لگ جاتا‘

بی بی سی اردو  |  Jul 06, 2026

Getty Imagesفولارن ورلڈ کپ میں امریکہ کے لیے اب تک تین گول سکور کر چکے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے فیفا سے ورلڈ کپ میں امریکہ کے سٹرائیکر فولارن بالوگن پر عائد ایک میچ کی معطلی کا ازسرِنو جائزہ لینے کا کہا تھا۔

بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا اور ان پر ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم گذشتہ روز فیفا نے یہ پابندی معطل کر دی جس کے بعد وہ بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کا میچ کھیل سکیں گے۔

25 سالہ فولارن اس ٹورنامنٹ میں تین گولز کے ساتھ امریکہ کے سب سے کامیاب فٹبالر ہیں۔ انھیں بوسنیا و ہرزیگووینا کے ڈیفینڈر طارق محریمووچ کے خلاف فاؤل کرنے پر براہِ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ اس میچ میں امریکہ نے 2-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹرمپ نے فیفا کی جانب سے فولارن پر عائد پابندی معطل کرنے کے فیصلے کو ایک ’درست فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ پابندی برقرار رہتی تو اس سے ٹورنامنٹ پر ’بڑا داغ‘ لگ جاتا۔

سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے فیفا سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست اس لیے کی تھی کیونکہ انھیں ’نہیں لگتا تھا کہ یہ فاؤل تھا۔‘

انھوں نے تصدیق کی کہ ان کی فیفا کے صدر جیانی انفانتینو سے بات ہوئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیصلے پر نظرثانی کی محض درخواست کی تھی، یہ نہیں کہا تھا کہ بالوگن کی معطلی ختم کر دی جائے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ [معطلی] ایک بڑا داغ چھوڑ دیتی۔ میں انھیں یہ نہیں بتا سکتا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ فیصلہ انھوں نے کیا تھا؛ میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ کمیشن نے کیا۔ اور یہ درست فیصلہ تھا۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ریفری رافائل کلاوس کا بالوگن کو میدان سے باہر بھیجنے کا فیصلہ ’انتہائی خراب‘ تھا، اور انھوں نے برازیلی ریفری کو ’کچھ مشکوک‘ قرار دیا۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں انفانتینو کا کہنا ہے کہ جب انھیں صدر ٹرمپ کی فون کال موصول ہوئی تو انھوں نے امریکی صدر کو بتایا کہ ’فیفا کے آزاد عدالتی اداروں کے تحت ایک قانونی عمل جاری ہے اور متعلقہ ادارے مناسب وقت پر اس معاملے کا فیصلہ کریں گے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کر کے فولارن بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔

سزا معطلی کے بارے میں فیفا کا کیا کہنا ہے؟

فیفا کا کہنا ہے کہ فولارن پر عائد ایک میچ کی پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ فیفا نے اس فیصلے کی کوئی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی، صرف اس ضابطے کا حوالہ دیا جس کے تحت بعض سزاؤں کو معطل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن (آر بی ایف اے) نے فیفا کے اس فیصلے پر ’حیرت‘ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ اس کے جواب میں ’تمام ممکنہ قانونی اور انتظامی آپشنز‘ کا جائزہ لے رہی ہے۔

فیفا کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’فیفا کے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے مطابق ایک میچ کھلینے پر عائد پابندی کے نفاذ کو ایک سال کی آزمائشی مدت (پروبیشنری پیریڈ) کے لیے معطل کیا جاتا ہے۔‘

عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی نے مزید کہا: ’اگر فولارن بالوگن اس آزمائشی مدت کے دوران اسی نوعیت کی کسی نئی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو یہ معطلی منسوخ کر دی جائے گی اور سزا پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم نئی خلاف ورزی پر عائد کی جانے والی کسی اضافی سزا پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں فیفا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ’ایک بڑی ناانصافی‘ کو درست کیا ہے۔

ٹرمپ، جنھیں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے، نے لکھا: ’ایک بڑی ناانصافی کو درست کرنے پر فیفا کا شکریہ!‘

Getty Imagesامریکی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر فولارن بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا

دوسری جانب امریکی ٹیم کے مڈفیلڈر کرسچن پُلیسِک کا کہنا ہے کہ ٹیم کو اتوار کے روز ٹریننگ کے لیے جاتے ہوئے بس میں معلوم ہوا کہ فولارن بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی معطل کر دی گئی ہے تو فولارن اس خبر پر ’بہت خوش‘ تھے۔

پُلیسِک نے کہا: ’ان کے چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ تھی اور ہم سب بھی خوش تھے۔ وہ فاؤل اتنا سنگین نہیں تھا جتنا اسے قرار دیا گیا۔ میرے خیال میں ریڈ کارڈ دکھانے کا فیصلہ سخت تھا۔‘

رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں جاری کیے گئے تمام سابقہ ریڈ کارڈز کے نتیجے میں کھلاڑیوں پر خودکار طور پر پابندیاں عمل میں آئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فیفا کا حالیہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے ضوابط سے ’براہِ راست متصادم‘ ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ضوابط مئی میں فیفا کی جانب سے تمام شریک ممالک کو ’واضح طور پر دوبارہ بتائے گئے‘ تھے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا: ’تمام شریک ٹیموں کے جائز حقوق کے تحفظ اور اس ورلڈ کپ سمیت مستقبل کے مقابلوں میں ہمارے کھیل کے بنیادی اصول، یعنی منصفانہ کھیل (فیئر پلے) کے تحفظ کے لیے، آر بی ایف اے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

فٹبال ورلڈ کپ میں وائرل ہونے والے کھلاڑی اس شہرت سے مالی فائدہ اٹھا پائیں گے؟24 میچ دیکھنے کے لیے 50 ہزار کلومیٹر کا سفر: فیفا کے صدر اور اُن کے زیر استعمال نجی طیارہ تنقید کی زد میں کیوں؟فیفا ورلڈ کپ اور فٹبالرز کے گلابی رنگ کے جوتےامریکہ آنے والے فٹبال شائقین کو ’کنجوسی‘ کے طعنے اور ’ٹپنگ کلچر‘ سے تنگ سیاح: ’پانی کی بوتل پر بھی ٹپ مانگی جاتی ہے‘

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی ان شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران جب امریکہ کی ورلڈ کپ کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا: ’کارکردگی شاندار رہی۔ اس ریڈ کارڈ کے معاملے میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل کا کوئی طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ غالباً اب اس کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔‘

امریکہ میں مجموعی طور پر شائقین کی ایک بڑی تعداد اپنے سٹار کھلاڑیوں میں سے ایک کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی تھی۔ متعدد میڈیا اداروں نے نہ صرف اس فیصلے پر سوال اٹھائے بلکہ فٹ بال کے قوانین کے نفاذ کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی، خصوصاً اس حوالے سے کہ ریڈ کارڈ ملنے پر کھلاڑی کو فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑتا ہے اور پھر آئندہ میچ کے لیے بھی معطل کر دیا جاتا ہے۔

فولارن اس ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے موریسیو پوچیٹینو کی ٹیم کی جانب سے پیراگوئے کے خلاف افتتاحی میچ میں دو گول کیے تھے، جسے امریکہ نے 1-4 سے جیتا تھا۔

آرسنل کے سابق فارورڈ نے بوسنیا کے خلاف میچ میں بھی امریکہ کے لیے پہلا گول کیا، تاہم 64ویں منٹ میں طارق محریمووچ کے ساتھ مقابلے کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد انہیں میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

فولارن جب گیند کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو محریمووچ ان کے آگے آ گئے۔ اس دوران جب امریکی فارورڈ کا پاؤں دوبارہ زمین پر آیا تو وہ بوسنیا کے ڈیفینڈر کے ٹخنے کے پچھلے حصے پر پڑا، جس سے ان کا ٹخنا مُڑ گیا۔

برازیلین ریفری رافائل کلاوس نے وی اے آر (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے واقعے کا انتہائی سست رفتار ری پلے پچ سائیڈ مانیٹر پر دیکھنے کے بعد بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھا دیا۔

Getty Imagesفولارن جب گیند کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو محریمووچ ان کے آگے آ گئے

فیفا کے ضوابط کے مطابق ریڈ کارڈ ملنے کی صورت میں کھلاڑی کو خودکار طور پر اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے، تاہم گورننگ باڈی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اضافی معطلی یا دیگر تادیبی سزائیں عائد کر سکے۔

ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی تھی جب قطر کے مڈفیلڈر عاصم مدیبو پر عائد ایک میچ کی پابندی کو کو بڑھا کر پانچ میچوں تک محیط کر دیا گیا تھا۔ مدیبو نے کینیڈا کے اسماعیل کونے کے خلاف فاؤل کیا تھا جس کے نتیجے میں کینیڈین کھلاڑی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔

تاہم ورلڈ کپ میں معطلی کو معطل کرنے کی حالیہ مثال بھی موجود ہے۔

پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کوالیفائرز میں آئرلینڈ کے خلاف ریڈ کارڈ ملنے کے باوجود ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔

41 سالہ رونالڈو کو نومبر میں پرتگال کی 2-0 کی شکست کے دوران دارا او شی کے پیٹھ میں کہنی مارنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر انہیں تین میچوں کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم آرمینیا کے خلاف ایک میچ نہ کھیلنے کے بعد، فیفا نے 25 نومبر کو باقی ماندہ معطلی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا، جس کے نتیجے میں رونالڈو پرتگال کے ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں شرکت کے قابل ہو گئے۔

Getty Imagesفیفا کے ضوابط کے مطابق ریڈ کارڈ ملنے کی صورت میں کھلاڑی کو خودکار طور پر اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے

فولارن پر عائد پابندی ہٹائے کے فیفا کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے اور متعدد افراد کا دعویٰہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاید ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ قواعد کی واضح طور پر گمراہ کُن تشریح کی گئی ہے جسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ریڈ کارڈ کے نتیجے میں معطلی کی سزا کے خلاف عام طور پر اپیل کی اجازت نہیں ہوتی۔‘

فٹبال فین نے فولارن پر عائد پابندی کو ہٹائے جانے پر طنزاً لکھا کہ ’جب آپ کو سکول سے نکال دیا جائے مگر آپ کے والد پرنسپل ہوں۔‘

سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایک طنزیہ ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں میچ ریفریکی جانب سے ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے بعد امریکی کھلاڑی ہونے ٹرمپ کی تصویر دکھا رہے ہیں۔

برائن ڈیاز نامی صارف نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ ’فولارن کے پاس ریڈ کارڈ سے بھی طاقتور کارڈ تھا: ٹرمپ کارڈ۔‘

مختار نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ فولارن نے ’تقریباً طارق کا ٹخنہ توڑ ہی دیا تھا۔‘

’جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس پر ریڈ کارڈ نہیں بنتا تھا یا یہ ناانصافی تھی وہ مذاق کر رہے ہیں۔‘

ایکس پر ایلان گیبٹ نامی ایک صارف نے فیفا کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس ورلڈ کپ کا انتظام اس لیے بہت بُرا رہا ہے کیونکہ انفینٹینو مکمل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں۔‘

تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ فولارن پر سے پابندی پٹانے کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

ایوان کوہن نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’فولارن کے ساتھ غلط کیا گیا، انھیں ریڈ کارڈ دکھایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ کل کا میچ کھلنے کے لیے 100 فیصد مستحق ہیں۔‘

ایک اور ایکس صارف نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’تمام یورپی اس بات سے ڈرے ہوئے ہیں کہ امریکہ ورلڈ کپ جیتنے جا رہا ہے اور اسی سبب وہ فولارن کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے معاملے پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔‘

’آپ رونالڈو کو ایک سینٹی میٹر جگہ دیں وہ آپ کا کھیل ختم کر دیں گے‘فٹبال ورلڈ کپ: میکسیکو میں کورین مداحوں کی مقبولیت’آبنائے بیرانوند بند ہے‘: فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی گول کیپر کے چرچے جنھیں عراقچی نے بھی داد دی30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانی’پینلٹی شوٹ آؤٹ‘: جس نے فٹبال میں قرعہ اندازی اور سکّہ اچھال کر جیت کے فیصلے کا نظام ختم کیاایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More