دلاور خان اور محمد یوسف کراچی سے قریب ڈھائی سال بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں اپنے گھر واپس آ رہے تھے اور ان کے اہلخانہ خوشی سے ان کے منتظر تھے۔
یہ دونوں کزن اپنے گھر سے کچھ دور جب دریا پر پل سے گزر رہے تھے تو اسی دوران اچانک سیلابی ریلا آیا، جس کے نتیجے میں یوسف خان پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
یہ واقعہ منگل کے روز صوبہ خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقے لوئر کوہستان کے علاقے دوبیر میں پیش آیا۔
ضلعی پولیس افسر ظفر احمد خان نے بتایا کہ دو افراد ایک عارضی پل کو عبور کر رہے تھے کہ اچانک وہ ندی میں گر گئے۔
پولیس کے مطابق دلاور محفوظ رہے مگر یوسف پانی میں ڈوب گیا، جنھیں مقامی لوگوں، ریسکیو اہلکاروں اور مقامی پولیس نے کاشی بیلہ کے مقام پر ندی سے نکالا۔
پولیس کے مطابق لاش کو دوبیر ہسپتال لایا گیا، جہاں مقامی لوگوں نے واپڈا حکام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا ہے کہ متعلقہ حکام کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
مقامی تھانے میں پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اس بارے میں رپورٹ ہوئی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ منگل کی شام لوئر کوہستان میں دوبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پانی زیادہ آیا جس سے مقامی دریا میں طغیانی آ گئی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے یہ دوبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شروع ہوا، علاقے میں ہر سال اس طرح نقصان ہوتا ہے۔
علاقے میں استاد نعمت خان الزام عائد کرتے ہیں کہ واپڈا حکام نے ’بغیر کسی اعلان کے‘ پانی چھوڑا جس سے ندی میں طغیانی آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو تین سال پہلے بھی ایسے ہی ہوا تھا اور اس وقت بعض گھر پانی میں بہہ گئے تھے۔
اس بارے میں دوبیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حکام سے رابطہ کیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انھوں نے کوئی پانی نہیں چھوڑا بلکہ ’صبح سے بارش ہو رہی تھی جس سے ڈیم میں پانی بھر گیا تھا اور پانی اوور فلو ہوا جس سے ندی میں پانی آیا۔‘
جب ان سے کہا گیا کہ مقامی آبادی کو اس بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مقامی پولیس تھانے میں اطلاع دے دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے بھی 6 جولائی سے 8 جولائی تک الرٹ جاری کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسا بالکل نہیں کہ کوئی گیٹ کھولا ہو یا پانی چھوڑا ہو بلکہ زیادہ بارش کی وجہ سے ندی میں زیادہ پانی آیا۔‘
کراچی سے روانگی سے قبل آخری سیلفی اور ’بائے بائے‘ کا پیغام
محمد یوسف کی عمر 27 یا 28 سال تھی اور دلاور خان کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔
کراچی سے روانگی سے قبل دونوں نے ایک سیلفی لی تھی اور اسے فیس بُک پر شائع کرتے ہوئے ساتھ ’بائے بائے‘ لکھا تھا۔
دلاور کے والد دراج خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پل کمزور تھا۔ دلاور نے یوسف کو منع کیا کہ خطرہ ہے۔ پانی زیادہ آ رہا ہے، کچھ دیر انتظار کر لیتے ہیں‘ لیکن ان کے بقول ’یوسف نے کہا میں جاتا ہوں، تم میرے پیچھے پھر آ جانا۔‘
’جیسے ہی وہ پل کے درمیان تک پہنچا، اسی وقت پل کی رسی ٹوٹ گئی اور یوسف دریا میں جا گرا۔‘
دراج خان یوسف کے ماموں بھی ہیں اور وہ بھی کراچی میں چوکیداری کا کام کرتے ہیں۔ دراج خان کے خاندان کے دیگر افراد بھی کراچی میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں روزگار کے مواقع نہیں۔ ’تھوڑی بہت کھیتی باڑی ہوتی ہے اور کچھ نہیں، بس اسی لیے یہاں کراچی آئے ہیں۔‘
دراج خان نے بتایا کہ سہ پہر تین بجے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یوسف اور دلاور بشام پہنچ چکے ہیں۔ ’ہم نے ان سے کہا کہ دیر ہو گئی ہے، رات ادھر ہی رُک جاؤ، صبح جلدی چلے جانا لیکن محمد یوسف کو جلدی تھی۔ وہ یہی کہہ رہا تھا کہ میں اپنی ماں کے پاس جاتا ہوں، کچھ نہیں ہوتا۔‘
جھیل سیف اللہ میں ایک خاندان کے چھ افراد کی ہلاکت: ’باپ نے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگانے کا سوچا مگر پھر بچوں کے پاس لوٹ گئے‘’سامان چھوڑو، بیوی بچوں اور بوڑھوں کو لے کر نالے سے دور ہوجاؤ‘: چرواہے کی گلیشیئر جھیل پھٹنے کی اطلاع جس نے گلگت بلتستان میں درجنوں جانیں بچائیںسوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کا واقعہ: ریسکیو اہلکار کتنی دیر میں پہنچے اور اب سوات میں کیا ہو رہا ہے؟اسلام آباد: ڈی ایچ اے میں والد کے ساتھ بہہ جانے والی لڑکی کی تلاش کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ، غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی’پانی اتنا تیز تھا کہ یوسف کو کئی کلومیٹر دور بہا لے گیا‘
محمد آصف بھی یوسف کے ماموں ہیں اور وہ بھی کراچی میں ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ یوسف اور دلاور کو اڈے پر چھوڑ کر آئے تھے۔
’یوسف کو گاؤں جانے کی بہت جلدی تھی۔ ہمارا گاؤں دوبیر بازار سے کافی دور ہے۔ وہاں موبائل فون کے سگنل بھی کبھی آتے ہیں اور کبھی نہیں آتے۔‘
’ہمیں تو پہلے اطلاع ملی کہ دونوں پانی میں ڈوب گئے ہیں اور دونوں فوت ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد رابطے کر رہے تھے لیکن سگنل کا مسئلہ تھا۔ کبھی رابطہ ہوتا تھا، کبھی نہیں ہو رہا تھا۔ مشکل سے رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ دلاور زندہ ہے اور وہ دیگر لوگوں کے ساتھ یوسف کو تلاش کر رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پانی اتنا تیز تھا کہ یوسف کو کئی کلومیٹر دور تک بہا لے گیا تھا۔
آصف نے بتایا کہ جب لاش مل گئی تو گاؤں تک پہنچانے کا انتظام نہیں تھا۔ ’سڑک نہ ہونے کی وجہ سے لاش کو اٹھا کر گاؤں لے گئے تھے۔‘
دراج خان نے بتایا کہ یوسف کی والدہ ’بے ہوش ہیں۔ ڈاکٹر نے انھیں دوا دی۔ جیسے ہی ہوش آتا ہے، پھر یوسف کو یاد کرتی ہیں۔‘
کراچی میں یوسف پینے کے پانی کی بوتلیں لوگوں کے گھروں میں پہنچانے کا کام کرتے تھے۔ ان کی تنخواہ کل 15 ہزار روپے تھی جبکہ ایک دو ماہ میں ان کی شادی متوقع تھی۔
غربت اور مشکلات کی وجہ سے محمد یوسف والد کی وفات پر گاؤں نہیں جا سکے تھے۔
دراج خان نے بتایا کہ ’یوسف کے پاس پیسے کم تھے۔ ہم سب نے تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے انھیں دیے تھے تاکہ وہ اپنے گھر پہنچ جائے۔‘
دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب حفاظتی اقدامات کا مطالبہ
محمد یوسف کو بچانے اور لاش نکالنے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں سخت احتجاج بھی کیا گیا۔
لاش نکالنے کی ویڈیو مقامی سطح پر وائرل ہوئی ہے اور لوگوں کا یہی کہنا تھا کہ ہر سال یہ سیلاب ان کے لیے مشکلات لے کر آتا ہے۔
ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ہیں جبکہ ایک لڑکا دریا کے درمیان میں خشکی پر موجود ہے۔ وہ لڑکا کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری جانب جاتا ہے۔
اس کے بعد ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوسف کی لاش ایک بڑے پتھر پر پڑی ہے۔ وہاں مقامی لوگ اسے اٹھا کر خشکی کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہ ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ان شمالی علاقوں میں اس طرح کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
گزشتہ سال سوات میں ایک خاندان کے متعدد افراد اچانک دریا میں سیلاب آنے سے پھنس گئے تھے اور پھر وہ ایک ایک کر کے پانی میں بہہ گئے تھے۔ ان کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد دریاؤں اور ندی نالوں پر حفاظتی انتظامات کے دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن عمل کم ہی دیکھا گیا۔
لوئر کوہستان کے اسی علاقے دوبیر میں اگست 2022 میں پانچ افراد اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے باعث ایک چٹان پر پھنس گئے تھے۔ یہ افراد تقریباً تین گھنٹے تک امداد کے منتظر رہے جبکہ مقامی لوگ محدود وسائل کے ساتھ انھیں رسیوں کے ذریعے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔
تاہم پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث چار افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ ایک شخص کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔
اس المناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر وائرل ہوئی اور اس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
اس واقعے کے بعد ریسکیو نظام، بروقت امدادی کارروائیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکومتی تیاری پر شدید سوالات اٹھے۔
مقامی آبادی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر بروقت ہیلی کاپٹر یا مؤثر ریسکیو ٹیم پہنچ جاتی تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مؤقف دیا کہ شدید بارش، خراب موسم، ٹوٹے ہوئے پلوں اور بند سڑکوں کی وجہ سے بروقت رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
بعد ازاں اس واقعے کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا۔
سوات میں سیاحوں کے ڈوبنے کا واقعہ: ریسکیو اہلکار کتنی دیر میں پہنچے اور اب سوات میں کیا ہو رہا ہے؟دیامیر: ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا تھا۔۔۔صرف پانچ منٹ کی تاخیر سے بچیوں کی زندگی کو خطرہ تھا‘’خاندان کے پانچ افراد کھونے کے بعد اب گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں‘’سامان چھوڑو، بیوی بچوں اور بوڑھوں کو لے کر نالے سے دور ہوجاؤ‘: چرواہے کی گلیشیئر جھیل پھٹنے کی اطلاع جس نے گلگت بلتستان میں درجنوں جانیں بچائیںجھیل سیف اللہ میں ایک خاندان کے چھ افراد کی ہلاکت: ’باپ نے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگانے کا سوچا مگر پھر بچوں کے پاس لوٹ گئے‘اسلام آباد: ڈی ایچ اے میں والد کے ساتھ بہہ جانے والی لڑکی کی تلاش کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ، غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی