Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر ’مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔
امریکی صدر نے انقرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات کار بات چیت جاری رکھ سکتے ہیں تاہم محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’دھونس اور بھتہ خوری کا دور ختم ہو چکا۔ ہم گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔‘
واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران میں 80 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جس کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں سمیت 85 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
ان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور برینٹ کروڈ کے ایک بیرل کی قیمت تین فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 76 ڈالر تک پہنچ گئی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق ’بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں معصوم افراد پر مشتمل تجارتی عملے کو نشانہ بنانے کی ایران کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔‘
کارروائی مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فوج نے ’ایرانی فضائی دفاعی نظام سمیت کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ساحلی ریڈار تنصیبات اور پاسداران انقلاب کی 60 سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔‘
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے دوران قشم جزیرے سمیت بندر عباس اور سرک پر حملے ہوئے جن میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی اطلاع نہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملے کو گذشتہ ماہ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تہران ’فیصلہ کن اقدامات اٹھائے گا۔‘
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ روز یعنی منگل کے دن، امریکہ کی جانب سے سینٹ کام نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز میں تجارتی ٹینکرز کو ایران کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے بعد جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔
منگل کی رات سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا کہ ’ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور خطرناک جارحانہ انداز اپنایا۔‘
ایرانی جوابی کارروائی
ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے 85 اہداف کو نشانہ بنایا۔
بدھ کو جاری پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملے اس کا ’ابتدائی جواب‘ ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر جنگ بندی اور اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی اور آج علی الصبح ہرمزگان اور ماہشہر کے ساحلی علاقوں میں بعض فوجی اڈوں اور غیر فوجی مراکز پر فضائی حملے کیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اس جارحیت کے ابتدائی جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے مرکز، پورٹ سلمان اور کویت میں علی السالم فضائی اڈے سمیت 85 اہم امریکی فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا۔‘
پاسداران انقلاب نے ایک امریکی ایم کیو نائن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔
سعودی عرب کا بیان
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ایک سعودی اور قطری ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ایران نے ان ٹینکروں کو نشانہ بنا کر عالمی توانائی رسد کی سکیورٹی اور بین الاقوامی راستے کی حفاظت پر حملہ کیا۔‘
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون اور دونوں ممالک کی خودمختاری کی ’سخت خلاف ورزی‘ ہے۔
بیان میں دوحہ نے ’مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے، کشیدگی کم کرنے اور مفاہمت کی یادداشت سے حاصل ہونے والی پیشرفت کو آگے بڑھانے‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
امریکہ نے ایران کی جانب سے تیل کی فروخت پر عارضی پابندیاں دوبارہ سے عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو معاہدے کے بعد ہٹا دی گئی تھیں۔ ایران نے اس قدم کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’امریکی حکومت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’تہران وہ تمام اقدامات اٹھائے گا جو قومی مفادات اور سکیورٹی کی ضمانت کے لیے ضروری ہوں گے۔‘
لیکن کیا ایران اور امریکہ کے درمیان اب معاہدہ ختم ہو جائے گا؟
’تہران امریکہ سے رابطے ضرور رکھے گا لیکن اس کی نظریں اب چین، روس اور پاکستان پر مرکوز ہیں‘: علی خامنہ ای کی موت ایران میں کیا تبدیلی لائی؟علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں چھپا پیغام: بی بی سی نے تہران میں کیا دیکھا؟تردید سے ہلاکت کی تصدیق تک: ایرانی رہبر اعلیٰ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد کیا ہوا تھا؟ایران کی نئی حکومت ماضی کی قیادت سے کیسے مختلف ہے؟
امریکی حملوں کے آغاز سے قبل نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان حملوں کے باوجود مذاکراتی ٹیم حتمی معاہدے کے لیے ایران سے رابطے جاری رکھے گی۔
قطر کی جانب سے بھی ایران کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران قطری ٹینکر پر حملے کا ذمہ دار ہے۔ قطر نے مطالبہ کیا کہ ’ایران ان تمام اقدامات کو روکے جو خطے میں امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور عالمی توانائی کی رسد میں رکاوٹ بننے سے گریز کرے۔‘
ایران کی وزرات خارجہ کے ترجمان نے قطر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اچھے ہمسائیوں کے اصولوں کے خلاف ہے۔‘
ٹیلی گرام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’تجارتی جہازوں نے ایران کے ساتھ اپنے راستوں کے حوالے سے رابطہ نہیں کیا تھا یا پھر ٹریکنگ سے چھیڑ چھاڑ کی تھی اور اسی وجہ سے یہ جہاز کسی سے ٹکرا سکتے تھے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ سفر کی کوششوں کو متاثر کر سکتے تھے۔‘
یاد رہے کہ سوموار کو برطانوی ادارے یو کے ایم ٹی او نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی ہے جبکہ منگل کے دن ایک ٹینکر نے اس وقت حملے کی اطلاع دی جب وہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق تہران اور عمان کو مل کر مستقبل میں آبنائے ہرمز کی انتظامیہ اور تجارتی راستے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھی۔
اس سے پہلے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کا سفر تقریبا بند کر دیا تھا جہاں سے دنیا بھر کو تیل اور گیس فراہم ہوتا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ سے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کے لیے ممکنہ طور پر ایک فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے جس کو ایران اور عمان مل کر چلائیں گے۔
’تہران امریکہ سے رابطے ضرور رکھے گا لیکن اس کی نظریں اب چین، روس اور پاکستان پر مرکوز ہیں‘: علی خامنہ ای کی موت ایران میں کیا تبدیلی لائی؟علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں چھپا پیغام: بی بی سی نے تہران میں کیا دیکھا؟تردید سے ہلاکت کی تصدیق تک: ایرانی رہبر اعلیٰ کے ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد کیا ہوا تھا؟ایران کی نئی حکومت ماضی کی قیادت سے کیسے مختلف ہے؟ایران کے سرکاری ٹی وی پر باقر قالیباف کا انٹرویو اچانک کیوں روک دیا گیا اور اس کا امریکہ سے مذاکرات سے کیا تعلق ہے؟