وزیراعظم کو کرسی سے ہٹایا گیا تو پرانا عمران خان سامنے آئے گا

روزنامہ اوصاف  |  Jan 14, 2020

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم کو کرسی سے ہٹایا گیا تو پرانا عمران خان سامنے آئے گااور پھر ۔۔۔! حامد میر نے ایسا انکشاف کر ڈالا کہ حکومت گرانے کی باتیں کرنے والے سکتے میں آگئے۔۔۔سینئر تجزیہ کارحامد میر نے کہا ہے کہ وزیراعظم تبدیل ہو سکتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو اگر ان ہاوس تبدیلی کے ذریعے حکومت سے نکالا جاتا ہے تو عمران خان چین سے نہیں بیٹھے گا، حامد میر نے کہا کہ جس عمران خان کو میں جانتا ہوں نہ جانے کہا گم ہو گیا ہے نظر نہیں آتا۔ تاہم آگر ان ہاوس تبدیلی کے بعد عمران خان کو ہٹایا جاتا ہے تو وہ 2011 ء والا عمران خان بن جائے گا۔ اور پھر وہ اپوزیشن کو ٹف ٹائم دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف ووٹ کو عزت دوں کے بیانیہ پر 2 بیان دے کر خاموش ہو گئے۔ پھر آصف علی زرداری نے کھل کر سامنے آئے تاہم وہ بھی دو چار بیان دے کر خاموش ہو گئے۔ مگر عمران خان کو ان ہاوس تبدیلی کے بعد وزیراعظم کی کرسی سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ کھڑے ہو جائے گے اور مخالفین کو مشکل حالات میں ڈال دیں گے۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے رہنما عباس خان آفریدی نے نئے الیکشن کی تاریخوں اور اِن ہاوس تبدیلی کا دعویٰ کیا تھا ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما عباس خان آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک کے کاروباری طبقے نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی اور آرمی چیف سے بھی ملاقات کی اور اس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ملک باتوں اور جھوٹ پر نہیں چل سکتا۔ کاروباری طبقے کا خیال ہے کہ ملکی معیشت بہت برے حال میں ہے۔انہوں نے ٹیکس کلیکشن سمیت دیگر کئی باتوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عباس خان آفریدی نے مزید کہا کہ جب حکومت نہ چل رہی ہو تو پھر عوام بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر ایک طرف حکومت بیٹھی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بھی بیٹھی ہے۔جمہوری لوگ کبھی بھی نہیں چاہتے کوئی غیر آئینی کام ہو۔وزیراعظم تبدیل ہو سکتا ہے۔ان ہاؤس تبدیلی کو سپورٹ کرنا ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مجبوری ہو گی۔ حامد میرلیکن عمران خان اپنے علاوہ پی ٹی آئی کے کسی اور رہنماُکو بطور وزیراعظم کیسے قبول کریں گے؟ایسی صورت میں انکا ردعمل کیا ہو گا؟سنیے @HamidMirPAK کا جوابpic.twitter.com/hyNSgrYtda

— Adil Shahzeb (@adilshahzeb) January 13, 2020
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More