امریکہ اور طالبان میں سمجھوتا طے پاگیا

وائس آف امریکہ اردو  |  Feb 15, 2020

ویب ڈیسک — 

امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان ایک ہفتے تک تشدد کی کارروائیوں میں کمی لائیں گے جس کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی راہ ہموار ہوگی۔

یہ بات جمعے کو امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتائی۔ اہلکار نے خبردار کیا کہ معاہدہ جاری رکھنے کے لیے لازم ہوگا کہ طالبان اپنی یقین دہانی کی پاسداری کریں۔ اس اعلان سے پہلے قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طویل عرصے سے مذاکرات جاری رہے۔سمجھوتے کے نتیجے میں امکان ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج کی خاصی تعداد میں وطن واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔ اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک میں سیاسی فائدہ ہوسکتا ہے جنھوں نے اپنی صدارتی مہم کے دوران ’’لامتناہی جنگیں‘‘ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ اگلے نومبر میں دوبارہ انتخاب لڑرہے ہیں۔

جمعہ کو میونخ میں ہونے والی سیکورٹی کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی۔ میونخ میں امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ گزشتہ ستمبر میں سمجھوتے پر اس لیے دستخط نہیں ہوسکے تھے کیونکہ تشدد کی کارروائیاں تیز ہوگئی تھیں۔ اب ہم نے سمجھوتا کیا ہے جس میں تشدد کی کارروائی میں کمی کی شرط عائد کی گئی ہے۔ اگر طالبان اپنے کہے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو ہم سمجھوتے کے تحت آگے بڑھیں گے۔

اہلکار نے کہا کہ امریکی فوج کی تعداد میں کمی کی ہماری یقین دہانی بھی مشروط ہے اور یہ معاملہ مرحلہ وار نوعیت کا ہوگا۔ اس کا دارومدار وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔

افغانستان میں اس وقت تقریباً 13000 امریکی فوجیوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں دیگر نیٹو اہلکار تعینات ہیں۔ ایک مغربی سفارت کار نے سال کے اوائل میں خبر ایجنسی رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکہ اپنی فوج کی تعداد کو تقریباً 9000 تک لانے کا خواہاں ہے۔

اگر سات دنوں تک تشدد کی کارروائیوں میں کمی رہی تو امریکہ اور طالبان کے مذاکرات اگلے مرحلے میں داخل ہوجائیں گے، جسے بین الافغان مکالمے کا نام دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More