آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن معاشی بدحالی‘ عوام کے فاقوں کی ذمہ دار ہے: فیاض الحسن چوہان

نوائے وقت  |  Feb 20, 2020

راولپنڈی(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اطلاعات و کالونیزپنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کی معیشت کو تباہی سے دوچار کرنے، ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے، وفاقی و صوبائی اداروں کو کنگال کرنے اور عوام کو فاقوں سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن پاکستان کے ہیرو عمران خان نے ڈیڑھ برس میں ڈوبتی معیشت کو استحکام سے دوچار کرکے کرپشن مافیا کے ہوش اڑا دیئے ہیں، وہ جو سوچتے تھے کہ تباہ حال پاکستان کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنا پی ٹی آئی حکومت کے بس کی بات نہیں، وہ تیزی سے ترقی پر گامزن موجودہ پاکستان کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہیں۔ اپوزیشن کی تمام تر مخالفت اور سازشوں کے باوجود پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اقوام عالم کے رہنما وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ہیں اورپاکستان کو معیشت، سرمایہ کاری، سیاحت اور زندگی کے ہر شعبے کے حوالے سے کامیابی کی طرف گامزن دیکھ رہے ہیں۔ دنیا وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہوچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اب ذخیرہ اندوزوں اور گرانفروشوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، مہنگائی کا قلع قمع کرکے غریب عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی صوبے میں سابق حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا مفاد عامہ کا کوئی بھی منصوبہ بند نہیں۔ اپنوں کی بے وفائی کا رونا رونے والے مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں ان کا ہر حربہ اور بیسیوں اے پی سی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں مولانا فضل الرحمن سمیت تمام اپوزیشن کو منہ کی کھانا پڑی ہے‘ آٹے اور چینی کے گودام پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں کے گوداموں سے برآمد ہو رہے ہیں۔ چینی مہنگی کرنے کا الزام پاکستان تحریک انصاف کے راہنما جہانگیر ترین پر دھرنے والوں کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں 100 شوگر ملوں میں سے صرف 3 شوگر ملیں جہانگیر ترین کی ہیں۔ 16شوگر ملیں آصف زرداری، 16 مسلم لیگ (ن) لیکن منافقت کا عالم یہ ہے کہ اپنے جرائم کا الزام دوسروں کے سر تھونپا جا رہا ہے۔ 2020 ء پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More