کورونا وائرس: فیس بک گروپ ویڈیو چیٹ کے استعمال میں زبردست اضافہ

نوائے وقت  |  Mar 26, 2020

 سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث فیس بک گروپ ویڈیو چیٹ کے استعمال میں 70 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معلومات تک رسائی کے لیے بھی لوگوں کی بڑی تعداد سماجی رابطے کی ویب سائٹ استعمال کر رہی ہے۔کورونا وائرس کے باعث دُنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے باعث اربوں لوگ گھروں میں ہی زیادہ تر وقت گزار رہے ہیں۔ ایسے میں وہ ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔فیس بک کے علاوہ واٹس ایپ، ایمو اور دیگر ویڈیو اپلیکشنز کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ فیس بک انتظامیہ کے مطابق اٹلی، سپین، فرانس سمیت کر کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں فیس بک کا استعمال بڑھ گیا ہے۔امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں لوگ فیس بک کے مختلف فیچرز کا استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر ٹریفک 50 فیصد بڑھ گئی ہے۔فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق نیوز آرٹیکلز تک لوگوں کی رسائی میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ البتہ دنیا کی مجموعی معاشی صورتحال کا اثر فیس بک کو اشتہارات کی کمی کی صورت میں برداشت بھی کرنا پڑ رہا ہے.کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث لوگ گھروں میں بیٹھ کر ویڈیو چیٹ کے ذریعے ہی اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کی خیریت دریافت کر لیتے ہیں۔ بوریت کا احساس ختم کرنے کے لیے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پیش نظر فیک نیوز کے خاتمے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ تاکہ صارفین تک تصدیق شدہ اور باوثوق ذرائع سے شائع ہونے والے مواد تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔دںیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 18 ہزار سے زائد افراد سے مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔دُنیا کی لگ بھگ ایک تہائی آبادی اس وقت لاک ڈاؤن میں ہے۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے 24 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کیے جانے کے بعد لگ بھگ دو ارب 60 کروڑ افراد گھروں تک محدود ہیں.

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More