کرونا کے باعث پاکستان میں پہلے 'ورچوئل فیشن شو' کا آغاز

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 06, 2020

ویب ڈسک — حالیہ برسوں میں پاکستان میں فیشن شو کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مختلف اداروں کی جانب سے ہر سال متعدد فیشن شو کی تقریبات ہوتی ہیں، مگر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ان کا سلسلہ رکا ہوا ہے۔

پاکستان میں اگرچہ لاک ڈاؤن تقربیاً ختم ہو چکا ہے اور زندگی آہستہ آہستہ معمول پر لوٹ رہی ہے، لیکن دوسری جانب کرونا وائرس کی شدت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ماہرین سماجی فاصلوں اور دیگر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔​

اب جب کہ یہ اندازہ نہیں ہے کہ وائرس کب ختم ہو گا یا وہ مزید کتنے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے، فیشن شو منعقد کرنے والوں نے اس کا ایک راستہ ڈھونڈ نکالا ہے اور وہ ہے ورچوئل فیشن شو۔

اس سہ روزہ سلسلے کے پہلے شو کا نام 'کیٹ واک کیئرز' تھا۔ یہ شو پانچ، چھ اور سات جون تک جاری رہے گا اور اسے یوٹیوب پر دیکھا جا سکےگا۔ اس سلسلے کی پہلی ویڈیو آج یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے۔

ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، شو کے متعلق فریحہ الطاف کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلز میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے پاکستان کے اولین ہفتہ ورچوئل فیشن شو کے انعقاد کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے کہ مسافر طیارے کے حادثے نے پوری قوم کو افسردہ کر دیا اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی متبادل نہیں تھا کہ شو کو اس سانحے میں ہلاک ہونے والے مسافروں اور عملے کے ارکان کے احترام میں کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا جائے، جن میں ہماری سپرماڈل زارا عابد بھی شامل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں مستقبل ڈیجیٹل میں نظر آ رہا ہے اور پاکستان کی فیشن انڈسٹری کو یک جا ہونے اور زیادہ توانائی کے ساتھ واپس آنے اور زیادہ تخلیقی ہونے کی ضرورت ہے۔ اب ورچوئل فیشن ویک ایک نئی روایت بننے والی ہے، اور میں پاکستان میں اس روایت کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں۔

یہ فیشن انڈسٹری کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری یہ کوشش ان لوگوں کو مزید ہمت اور توانائی فراہم کرے گی جو کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے صف اول میں موجود ہیں۔

تین روزہ شو کے پہلے دن عامر عدنان، ہما عدنان، کھاڈی، ماہین کریم، ندا آزر اور شمائل انصاری نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More